کمسن لڑکیوں کا استحصال کرنے والا جیفری ایپسٹین کون ہے ؟
اسلام آباد ۔۔ دی مائنڈ رپورٹ
جیفری ایپسٹین کی فائلز نے دنیا کا سب سے بڑا سیکس سکینڈل کو نہ صرف بے نقاب کردیا ہے بلکہ دنیا کے کئی نامور حکمرانوں اور ممالک کے سربراہوں کی اندر کی شیطانیت کو بھی سامنے لے آئیں ۔ ایپسٹین کی فائلز کی نئی قسط نے دنیا بھر میں ہلچل مچادی ہے ۔ ان فائلوں میں کن کن ممالک ، حکمرانوں ، سیاست دانوں اور نامور شخصیات کا نام شامل ہے۔ دی مائنڈ اپنے قارئین کیلئے پوری تفصیل سامنے لے آئی ہے ۔۔۔
فائلز کی نئی قسط
نئے جاری جیفری اپسٹین کی فائل میں سے بہت خطرناک مواد سامنے آگیا ہے۔ نوبل انعام کیلیے نامزد ڈونلڈ ٹرمپ، مواد کے مطابق، اپنی مکمل فیملی کے ہمراہ واہیات پارٹیوں میں شرکت کرتے رہے، نوعمر لڑکیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے اور کراتے رہے، مبینہ طور پر متعدد لڑکیوں کو ریپ بھی کیا۔ اس مواد کے مطابق ایلون مسک، سابق امریکی صدر کلنٹن بھی ان پارٹیوں کا حصہ تھے۔
نئی فائلز کا مقصد
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایپسٹین فائلز کا یہ تازہ مواد اس موقعہ پر جاری ہونے کا مطلب ہے کہ اب ایران پر حملے کے امکانات بہت ہی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین سے متعلق تقریباً 35 لاکھ دستاویزات، 1 لاکھ 80 ہزار تصاویر اور دو ہزار سے زائد ویڈیوز جاری کر دیں ہیں اور یہ سکینڈل عالمی ذرائع ابلاغ پر بمب شیل کی مانند گرا ہے۔ ابتدائی طور پر چھ ملین دستاویزات کو “اہم” قرار دیا گیا تھا جن میں سے ایک حصہ جاری کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اسرائیل نے ٹرمپ کو ایپسٹین فائلز کے مواد سے بلیک میل کرکے ایران کیخلاف جنگ میں شامل کیا تھا۔ ایلون مسک بھی تب ٹرمپ کے خلاف ہوگئے تھے اور ایپسٹین فائلز ریلیز کرنے کا مطالبہ کرتے رہے اور جاری نہ کرنے پر کہا کہ اسکا مطلب ہے صدر ٹرمپ کا نام بھی ان فائلز میں شامل ہے۔ اب جاری ہونے والے ڈیٹا میں ایلون مسک، بل گیٹس، بل کلنٹن، ٹرمپ اور اسکی پوری فیملی سمیت متعدد اہم افراد کے نام بھی شامل ہیں۔
عیاشی کیلئے مخصوص جزیرہ
موساد کے ایجنٹ اپسٹین کے حوالے سے تحقیقات کے فائلز میں واضح لکھا ہے ترکی سے کم عمر ( 16 سال سے چھوٹی ) بچیوں کو پرائیوٹ جیٹ میں اس مخصوص جزیرے لٹل سینٹ جیمز لایا جاتا تھا جہاں دنیا بھر کے عیاش لوگ اپنے ہوس مٹاتے تھے ۔اپسٹین کا جزیرہ تمام ڈکٹیٹروں کا مجرہ اور عیاشی ہاوس ہے جو موساد کے ایجنٹ اپسٹین نے بنا رکھا تھا اور اس میں اہم ممالک کے سربراہوں کو کم عمر بچیاں فراہم کی جاتی اور پھر ویڈیو بنا کر انکو مند پسند کام کے لیے بلیک میل کیا جاتا۔ اب یہی لابی ٹرمپ کو دباو میں ڈال رکھا ہے کہ ایران پر فوری حملہ کرو ورنہ مزید ویڈیوز لیک کریں گے۔
برطانیہ میں نیا سیاسی طوفان کھڑا
فائلز میں ایک بار پھر وہی نام گردش میں ہیں جو برسوں سے خبروں کا حصہ رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ، بل گیٹس، برطانوی شہزادہ پرنس اینڈریو، ایلون مسک، رچرڈ برانسن، ہالی وڈ اور وال اسٹریٹ کے متعدد بڑے ناموں سمیت مئیر نیویارک ظہران ممدانی کی والدہ میرا نائر شامل ہیں۔یوں تو بھارت سمیت دنیا کے ہر ملک میں ان فائلز پر ہنگامہ برپا ہے لیکن برطانیہ میں اس معاملے نے نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے سابق شاہی شہزادے پرنس اینڈریو سے امریکی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ فائلز میں ان کا نام بار بار سامنے آ رہا ہے۔
مودی کے ٹھمکے
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے متعلق جیفری ایپسٹین فائلز میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اسرائیل میں ایک خفیہ پارٹی میں امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے بھری محفل میں ان کے لیے ڈانس کیا۔ اس بات پر بھارت میں کانگریس شور مچا رہی ہے اور مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ بات سامنے لائی جائے۔ امارات کے شیخ اور قطر کے شاہی خاندان کی ایسی ایسی کہانیاں سامنے آئی ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔ عمران خان کا جیفری ایپسٹین کی فرنٹ گرل گیسلین میکسویل کے ساتھ تعلق کا ذکر اور تصاویر ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں اس کا ذکر مدر آف آل جنسی سکینڈل کے طور پر ہو رہا ہے۔ ان فائلز کی تفصیلات وقت کے ساتھ سامنے آتی رہیں گی۔ تاحال جتنی تفصیلات جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے جاری کی ہیں وہ کل تفصیلات کا آدھا ہیں۔
شہزادہ اینڈریو کا نام
مغرب کے امراء اور ہیروز کا مکروہ چہرہ جیفری اپسٹین کی حالیہ لیک شدہ فائلوں سے عیاں ہو گیا – جس میں دین ابلیس کی پیروی کرنے والے امریکہ کے نامور اور طاقتور لوگ شامل ہیں ان برطانوی شہزادہ اینڈریو سمیت امریکہ کا وہ پاپولر لیڈر بھی شامل ہے جس نے حالیہ امریکی انتخابات میں اپنی بونگیوں کیوجہ سے بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور اب تخت نشین ہے۔۔

مقدس بتوں کا پردہ چاک
ایپسٹن فائلز کے انکشافات نے عصرِ حاضر کے ان "مقدس بتوں” کے چہروں سے تہذیب کی نقاب الٹ دی ہے جنہوں نے دنیا کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کا درس دے کر اپنی ہوسناکیوں پر پردہ ڈالے رکھا۔ یہ کس قدر عبرت ناک المیہ ہے کہ وہ طبقہ جو اسلام اور مسلمانوں پر رکیک حملے کرتا تھا اور ہمیں پسماندگی اور غیر مہذب ہونے کے طعنے دیتا تھا، آج خود معصومیت کے قتلِ عام اور جنسی درندگی کے ایسے غلیظ دلدل میں دھنسا ہوا پایا گیا ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں مشکل سے ملے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ، بل گیٹس اور ایلون مسک جیسے نامور مقتدرین کا اس فہرست میں تذکرہ محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ اس مغربی مادہ پرستی کے زوال کی علامت ہے جہاں ضمیر مر چکا ہے اور طاقت کو ہر جرم کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تضاد اب چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ دنیا کو اخلاقیات کا سبق سکھانے والے خود بدترین اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں، اور ان کا اصل چہرہ وہ نہیں جو کیمروں کی چکا چوند میں نظر آتا ہے، بلکہ وہ ہے جو ان تاریک فائلوں میں قید تھا۔
مصنوعی روشنی کا پردہ
اپسٹین فائلز نے مغربی تہذیب کے چہرے سے مصنوعی روشنی کا پردہ اتارا ہے تو اس تہذیب کی سفاکیت اور سیاہ چہرہ کھل کر سامنے آ گیا۔ ایک مردِ قلندر نے آج سے ایک سو سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی ، یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اور
تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام، چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر
اس تہذیب کے مطابق اٹھارہ سال سے پہلے نکاح ظلم ہے لیکن دس دس گیارہ گیارہ سال کے بچوں اور بچیوں کا جنسی استحصال بہت نیکی کا کام ہے۔ اپسٹین فائلز سے تو یہ پتہ چلا ہے کہ اس تہذیب کو چلا ہی پیڈوفائلز (Paedophiles) رہے ہیں۔
نئے بحران کا خدشہ
اپسٹین فائلز کے منظر عام پر آنے کے بعد عالمی ضمیر شرمندہ ہوکر رہ گیا۔ وہ نام جو برسوں سے تہذیب، اخلاقیات، حقوق نسواں اور بچوں کے تحفظ کے خودساختہ علمبردار بنے ہوئے تھے، آج خود بدترین اخلاقی جرائم کی علامت بن کر سامنے آئے۔ جن زبانوں سے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر سوالات اٹھائے جاتے رہے، جن معاشروں کو “پسماندہ” اور “غیر مہذب” کہا جاتا رہا، آج انہی کے دعوے دار ایوانوں سے پیڈوفیلیا، استحصال اور انسانیت سوز جرائم کی داستانیں آشکار ہوئیں۔ دنیا حیران ہے کہ اخلاق کا درس دینے والے خود کس قدر گہرے دلدل میں دھنسے ہوئے تھے۔
یہ وہی چہرے ہیں جو معمولی الزامات پر دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے تھے، جو تہذیب اور انسانی اقدار کے نام پر قوموں کو بدنام کرتے تھے، مگر جب آئینہ ان کے سامنے آیا تو سچ نے ان کے سارے نقاب نوچ ڈالے۔ اپسٹین فائلز نے یہ ثابت کر دیا کہ مسئلہ مذہب یا مشرق نہیں، بلکہ وہ طاقتور نظام ہے جو جرم کو چھپاتا اور مجرم کو بچاتا رہا۔ بچوں کے حقوق اور خواتین کی عزت کے نعرے محض سیاسی ہتھیار تھے، جن کے پیچھے بدترین استحصال چھپا ہوا تھا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسی عالمی شرمندگی اور اخلاقی دیوالیہ پن سے توجہ ہٹانے کے لیے دنیا کو ایک نئے بحران میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جزیرہ لٹل سینٹ جیمز
کیا واقعی یہ وہی مغرب ہے جسے ہم ترقی، تہذیب اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھتے ہیں؟ کیا یہ وہی مہذب دنیا ہے جو ہمیں صبح و شام عورتوں کے حقوق، بچوں کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا بھاشن دیتی ہے؟ گزشتہ چند دنوں سے جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) کی خفیہ فائلوں نے جو طوفان برپا کیا ہے، اس نے مغرب کے اس چمکتے ہوئے بت کے اندر چھپے تعفن کو پوری دنیا کے سامنے ننگا کر دیا ہے۔ یہ صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں ہیں، یہ اس جدید اور نام نہاد لبرل نظام کا وہ بھیانک نوحہ ہے جس پر انسانیت شرما گئی ہے۔ قصہ کیا ہے؟ یہ ایپسٹین فائلز دراصل عدالتی دستاویزات کا وہ پلندہ ہیں جو امریکی فنانسر اور جنسی درندے جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی گلین میکسویل کے گرد گھومتی ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جنہوں نے ایک جزیرے لٹل سینٹ جیمز (Little St. James) کو اپنی عیاشی کا اڈہ بنایا ہوا تھا۔ لیکن ٹھہریے! یہ کہانی صرف ایک امیر شخص کی عیاشی کی نہیں ہے۔ ان فائلوں میں جن لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں، وہ کوئی عام لوگ نہیں ہیں۔ یہ دنیا کے حکمران ہیں، یہ سابق امریکی صدور ہیں، یہ برطانیہ کے شہزادے ہیں، یہ ہالی وڈ کے سپر اسٹارز ہیں اور وہ سائنسدان ہیں جنہیں دنیا عقل کا دیوتا مانتی ہے۔ بل کلنٹن ہو یا ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر، شہزادہ اینڈریو ہو یا اسٹیفن ہاکنگ کا حوالہ، ان دستاویزات نے ثابت کیا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والے یہ لوگ رات کے اندھیروں میں کس قدر گھناؤنے کھیل کھیلتے ہیں۔
ایپسٹین فائلز دراصل طاقت، دولت اور جنسی جرائم کے اس گٹھ جوڑ کی دستاویزی جھلک ہیں جسے برسوں سے پردوں میں رکھا گیا۔ جیفری ایپسٹین کوئی معمولی مجرم نہ تھا۔ وہ ایک نظام تھا۔ ایسا نظام جس میں طاقت ور نام، خفیہ میل جول، نجی پروازیں، بند دروازے، اور خاموشی کے سودے شامل تھے۔ آج جب عدالتوں اور تفتیشی عمل کے ذریعے کچھ فائلیں، رابطہ فہرستیں اور دستاویزات سامنے آئیں تو سوال صرف یہ نہیں کہ کن کے نام آئے، اصل سوال یہ ہے کہ برسوں تک یہ سب کیسے چلتا رہا۔
اب ذرا اس تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے اور مغربی منافقت کو داد دیجیے۔ یہ وہی عالمی لیڈرز ہیں جو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر تیسری دنیا کے ممالک کو ڈانٹ پلاتے ہیں کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی جرم ہے۔ یہ ہمارے خاندانی نظام پر قدغن لگاتے ہیں، یہ مسلم معاشروں میں جلد شادی کو بچوں پر ظلم قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر شرعی تقاضوں کے مطابق نکاح ہو جائے تو ان کے این جی او (NGO) مافیا کا طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ انہی لوگوں نے اپنی ہوس کی تسکین کے لیے اٹھارہ سال تو دور کی بات، نابالغ بچیوں کو ایک جزیرے پر قید کر کے ان کے ساتھ وہ حیوانی سلوک کیا جس کا تصور بھی ایک شریف انسان کے لیے محال ہے۔یہ قانون کا نفاذ صرف غریب اور کمزور قوموں کے لیے ہے؟ کیا قانون صرف یہ ہے کہ نکاح کے بندھن میں بندھ کر ذمہ داری اٹھانا جرم ہے، لیکن ایک جزیرے پر جا کر درجنوں نابالغ بچیوں کا جنسی استحصال کرنا ایلیٹ کلاس کی تفریح ہے؟ یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ وہ تضاد ہے جو چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ مغرب کا اخلاقی نظام کھوکھلا ہو چکا ہے۔ ان کے سوٹ اور ٹائیوں کے پیچھے چھپے بھیڑیے اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔
بات صرف جنسی بے راہ روی تک محدود نہیں ہے۔ دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ اسے محض عیاشی نہیں بلکہ عالمی بلیک میلنگ کا ایک بہت بڑا جال (Honey Trap) قرار دے رہا ہے۔ ذرا سوچیے! دنیا کے طاقتور ترین لوگ ایک ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں خفیہ کیمرے نصب ہیں۔ وہاں ان کی نازیبا حرکات ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ پھر یہ ویڈیوز اور تصویریں ان لیڈروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے فیصلے، جنگیں اور پالیسیاں شاید انہی بلیک میلنگ ٹیپس کے زیر اثر بنتی رہی ہوں؟ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا نام بھی اس نیٹ ورک کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مکڑی کا جالا ہے جس میں پوری دنیا کی اشرافیہ پھنسی ہوئی ہے۔ یہ لوگ عوام کے حکمران نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کے غلام ہیں۔
کیا اب بھی ہمارے دیسی لبرلز مغرب کی اس روشن خیالی پر فخر کریں گے؟ کیا اب بھی ہم ان کی تہذیب کو اپنے لیے مشعل راہ سمجھیں گے؟ ایپسٹین کی کہانی نے ثابت کر دیا ہے کہ جہاں خدا کا خوف اور آخرت کی جوابدہی کا احساس نہ ہو، وہاں انسان کتنا ہی پڑھ لکھ جائے، کتنا ہی امیر ہو جائے، وہ اندر سے ایک درندہ ہی رہتا ہے۔