معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی قتل
لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو 3 فروری 2026 کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ وہ 53 برس کے تھے اور لیبیا کی سیاست میں ایک نمایاں اور متنازع شخصیت سمجھے جاتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح تقریباً 2:30 بجے زنتان شہر میں ان کے گھر پر حملہ ہوا، جو طرابلس سے تقریباً 136 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ چار نقاب پوش مسلح افراد نے پہلے سکیورٹی کیمرے بند کیے، پھر گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کی۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہو گئے۔
سیف الاسلام کی موت کی تصدیق ان کی سیاسی ٹیم کے رکن عبداللہ عثمان اور ان کے وکیل خالد الزیدی نے بھی کی۔ وکیل نے اس واقعے کو "بزدلانہ اور غداری پر مبنی قتل” قرار دیا ہے۔ تاہم ابھی تک حملہ آوروں کی شناخت اور قتل کی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔
سیف الاسلام قذافی کون تھے؟
سیف الاسلام قذافی، معمر قذافی کے دوسرے بیٹے تھے اور انہیں اپنے والد کے بعد سب سے بااثر سمجھا جاتا تھا۔ 2011 کی لیبیا انقلاب میں انہوں نے اپنے والد کا ساتھ دیا تھا۔ بعد ازاں انہیں گرفتار کیا گیا، عدالت نے جنگی جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی، جبکہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے بھی ان کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔
2017 میں رہائی کے بعد وہ منظرِ عام سے دور رہے۔ 2021 میں صدارتی انتخاب لڑنے کی کوشش کی، مگر ان کی نامزدگی مسترد ہو گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قتل پہلے سے غیر مستحکم لیبیا کی سیاست میں مزید بے چینی پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ قذافی خاندان اب بھی کچھ حلقوں کے لیے ایک علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔