لڑکی کیوں نہیں مانتی کہ اُسے سیکس میں مزہ آتا ہے؟
عورتوں کی جنسی خواہش اور اس کے اظہار پر پابندیوں کا تعلق نہ صرف ذاتی یا ثقافتی نظریات سے بلکہ صدیوں پر محیط تاریخی اور سماجی عوامل سے بھی ہے۔ زراعت کے بعد انسان نے عورت کی ملکیت کا تصور پیدا کیا گیا، اور اس نے عورت کو بطور ملکیت دیکھا۔ تب عورت سے نہ صرف اس کی وفاداری بلکہ اس کی تولیدی صلاحیت بھی وابستہ کی گئی۔
نتیجتاً، عورت نے اپنی ورجینیٹی اور پاکباز رویے کو اپنی سماجی قدر کے طور پر اپنایا۔ یہ رجحان مذہب، ثقافت اور ادب میں بھی جھلکتا ہے، جہاں عورت کے جنسی خواہشات کو دبانے یا مرد کی خدمت میں محدود کرنے کے رجحان کو منطقی اور اخلاقی بنیاد دی گئی۔
یوں مذہب بنانے والے لوگوں نے دیوی اور دیوتا کی سوچ بھی ایسی بنا دی۔۔ یونانی متھالوجی میں ایک قصّہ ہے کہ زیوس دیوتا نے دیوی ہیرا کو بولا کہ مادہ ایک نر سے زیادہ جنسی عمل میں لذّت محسوس کرتی ہے۔ ہیرا دیوی کو یہ بات بُری لگی ۔اور اُس نے کہا کہ نہیں مرد ہی زیادہ لذّت محسوس کرتے ہیں ۔ دونوں دیوی دیوتا نے جج سے فیصلہ کروانے کا سوچا ۔دونوں نے ایک جج ٹائریسیاس سے ملاقات کی، جو ایک مرد اور عورت دونوں کے طور پر رہ چکا تھا، کیا ہوا کہ ٹائریسیاس نے زیوس اور ہیرا دیوی کی بات سُن کر فیصلہ سنایا کہ “اگر جنسی لذت کو دس حصوں میں تقسیم کیا جائے تو عورتیں نو حصے لطف اندوز ہوتی ہیں اور مرد صرف ایک حصہ۔
اس دعوے سے ناراض ہو کر ہیرا دیوی نے ٹائریسیاس کو اندھا کر دیا۔ دیوی ہیرا نے اندھا اس لئے کر دیا کیونکہ وہ زیادہ جنسی لذت محسوس کرنے کو اپنی پاکبازی پہ حملہ سمجھتی تھی۔ اس طرح لڑکیاں اس مذہبی واقعات کو سُن کر اپنی جنسی خواہشات دبانے لگیں اور ہیرا دیوی کے نقش قدم پر چلنے لگیں۔ متھالوجی میں ایسی دیوی اس لئے بنائی گئی کہ عورت کو باور کروایا جا سکے کہ وہ اپنی جنسی خواہش انجوائے کرنے لئے نہیں بنی بلکہ مرد کو انجوائے کروانے کے لئے بنی ہے۔
یوں پدر سری سماج کی متھالوجی میں ایسی دیوی جان بوجھ کر بنائی گئی یوں عورت کا جنسی خواہش کو دبانا ہر سوسائٹی اور مذہب میں اچھا سمجھا جانے لگا۔
ماہرین نفسیات اور سماجی ماہرین کے مطابق، اس تاریخی اور مذہبی پس منظر نے خواتین میں خود ارادیت اور جنسی خواہش کے اظہار پر اثر ڈالا۔ عورت نے اپنے جسم اور جنسی خواہشات کو مرد کی خدمت اور سماجی توقعات کے مطابق محدود کیا، جس کے نتیجے میں زیادہ تر معاشروں میں خواتین اپنے جنسی لطف کا کھل کر اظہار نہیں کر پاتیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ خواتین کے جنسی اظہار پر پابندیاں صرف ذاتی انتخاب یا شرم کی وجہ سے نہیں بلکہ تاریخی، سماجی اور مذہبی عوامل کا نتیجہ ہیں، اور اس پر غور و فکر سماج میں اس مسئلے کی بہتر سمجھ کے لیے ضروری ہے۔