امریکن جرنل آف میڈیسن میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ فاسٹنگ یا روزے سے سے ہائی بلڈ پریشر گھٹ جاتا ہے جبکہ امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
رمضان المبارک میں دنیا بھر کے مسلمان سحری سے افطار تک کھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں۔ جدید طبی تحقیقات کے مطابق یہ وقفۂ طعام صحت پر متعدد مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
امریکن جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فاسٹنگ سے بلند فشارِ خون میں کمی آ سکتی ہے اور دل کی بیماریوں کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ روزہ میٹابولزم کو متحرک کرتا ہے جس کے نتیجے میں وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ خاص طور پر پیٹ اور کمر کے گرد جمع چربی گھٹتی ہے جبکہ پٹھوں کی مضبوطی اور حجم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فاسٹنگ ہارمونز کے نظام کو متوازن کرتی ہے، جو وزن میں کمی اور مجموعی صحت کی بہتری میں کردار ادا کرتا ہے۔ مختلف مطالعات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ کھانے سے وقفہ دماغی خلیات کی نشوونما کو بہتر بناتا ہے اور دماغی ساخت پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ کچھ تحقیقات کے مطابق روزہ دماغی تنزلی سے جڑی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
روزہ رکھنے سے جسم میں سوزش (ورم) کم ہو سکتی ہے، جس کے باعث الزائمر اور پارکنسن جیسے امراض کے امکانات گھٹنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اگرچہ انسانوں پر اس حوالے سے محدود تحقیق ہوئی ہے، تاہم جانوروں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ غذا سے پرہیز رسولیوں کی افزائش کو سست کر سکتا ہے اور کیموتھراپی کے اثرات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
فاسٹنگ مدافعتی نظام کو بھی تقویت دیتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ اس عمل سے خون کے سفید خلیات کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور ان کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے جسم بیماریوں کے خلاف زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
اسی طرح روزہ انسولین مزاحمت میں کمی لا سکتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح متوازن رہتی ہے۔ انسولین مزاحمت کی حالت میں جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے لیکن اس کی تاثیر کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ شوگر قابو سے باہر ہونے لگتی ہے۔ تحقیق کے مطابق فاسٹنگ سے انسولین کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں کمی آ سکتی ہے۔
رمضان کے مہینے میں بہت سے افراد اپنی خوراک کو متوازن بناتے ہیں اور نیند کا شیڈول بھی نسبتاً بہتر ہو جاتا ہے، جو ذہنی دباؤ سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگرچہ جلد سے متعلق فوائد پر زیادہ تحقیق موجود نہیں، تاہم یہ خیال کیا جاتا ہے کہ روزہ رکھنے سے کیل مہاسوں میں کمی اور جلد کی شفافیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
نظامِ ہاضمہ پر بھی روزے کے مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں۔ معدے میں تیزابیت کا توازن برقرار رہتا ہے اور صفائی کا قدرتی عمل تیز ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، خالی پیٹ رہنے سے جسم میں تکسیدی تناؤ کے خلاف مدافعت بڑھتی ہے، جو دل کی بیماریوں، کینسر اور دیگر دائمی امراض کے خطرات میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔