غرناطہ کا خوبصورت منظر
شمسہ رحمانی کا سفر نامہ
میں نے اسپین کے شہر غرناطہ کے بارے میں سب سے پہلے اپنے والد سے سنا تھا۔ وہی میری پہلی لائبریری تھے کیونکہ سیلانی طبعیت کے مالک تھے اور دنیا گھومتے تھے اس لئے خاندان میں انہیں سب ابن بطوطہ کہتے تھےاور تاریخ سے محبت کی وجہ سے تاریخ اُن کا محبوب ترین مضمون بھی تھا۔ اُن کی کہانیوں نے میرے ذہن میں غرناطہ کی خوبصورتی کو یوں نقش کر دیا تھا جیسے کوئی خواب آنکھوں میں ٹھہر جائے اور اسی طرح برسوں تک یہ شہر میرے تخیل میں زندہ رہا ۔
2010 میں جب میں یورپ کے سفر پر نکلی، تو میرا دوسرا پڑاؤ اسپین تھا۔ اسپین، ایک ایسا ملک جس میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے اس کی زبان سے عشق ہوا اور پھر اس کے لوگوں سے۔ خوبصورت زمین، دھیمی مسکراہٹیں، اور تاریخ کے دلدادہ روحوں کے لیے ایک جنت اور مسلمانوں کے لئے ایک سنہرا مگر تلخ باب۔ ہم جیسے لوگ، جو پی ٹی وی کے ڈراموں میں اندلس اور غرناطہ کو دیکھ کر ایک خوابناک ماضی کے اسیر ہو جاتے تھے ذرا سوچئے، وہ جب واقعی اس دیار میں موجود ہوں تو دل کی کیفیت کیا ہوگی؟ جیسے صدیوں پرانی کہانیاں اچانک زندہ ہو جائیں، اور انسان خود کو تاریخ کے بیچ میں کھڑا پائے۔ کچھ یہی حال میرے دل کا بھی تھا ۔ اپنی رب کی رحمت کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے وسائیل دئیے اور پھر صحت جیسی نعمت عطا فرمائی کہ اس کی بنائی ہوئی حسین دنیا دیکھ سکوں۔

وہاں ہی اس کہاوت کو پڑھا کہ
Quien no ha visto Granada, no ha visto nada
یعنی جس نے غرناطہ نہیں دیکھا، اس نے گویا کچھ بھی نہیں دیکھا۔ غرناطہ کی سب سے قیمتی میراث کیا ہے؟ الحمرا۔ صدیوں سے الحمرا کا محل اور اس کے اطراف پھیلے باغات فنکاروں، موسیقاروں، عشاق، شاعروں اور مؤرخین کے لیے الہام کا سرچشمہ رہے ہیں۔ ایک بار اس حسنِ بے مثال کا دیدار ہو جائے تو انسان ہمیشہ کے لیے اس کے جادو میں کھو جاتا ہے۔ یہ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ محبت، تاریخ اور جمالیات کا زندہ استعارہ ہے۔
واشنگٹن اِروِنگ ایک امریکی ادیب، کہانی نویس اور سفارتکار تھے جو اپنی کتاب Tales of the Alhambra اور کہانیوں Rip Van Winkle کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوے۔وہ جب غرناطہ میں مقیم تھے تو انہوں نے اس شہر کی گلیوں، محل، باغات اور لوگوں کے مزاج کو بہت قریب سے محسوس کیا۔ الحمرا آج جو محفوظ صورت میں کھڑا ہے، اس میں اروِنگ کا بہت بڑا حصہ ہے اروِنگ کو ۱۸۲۹ میں چند مہینے الحمرا کے ایک کمرے میں رہنے کی اجازت ملی، جہاں وہ لکھتے اور محل کی خاموشیوں میں کھو جاتے۔ انہوں نے جو کتاب لکھی، Tales of the Alhambra اس نے یورپ اور امریکا میں لوگوں کو اس محل سے عشق میں مبتلا کر دیا۔ مگر ایک جملہ ایسا ہے جو غرناطہ کے حسن کی پہچان بن چکا ہے، اور وہ اروِنگ کا نہیں بلکہ ایک میکسیکن شاعر فرانسسکو دی اِکا زا کا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ شاعر غرناطہ کی ایک تنگ گلی سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک نابینا فقیر کی آواز سنی، جو لوگوں سے خیرات مانگ رہا تھا۔ اس کی صدا عام فقیروں جیسی نہیں تھی؛ اس میں درد بھی تھا، فخر بھی، اور اس شہر کے حسن سے محرومی کا نوحہ بھی۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں کہہ رہا تھا
: Dad limosna, señores, al pobre ciego, que no hay nada más desgraciado que ser ciego en Granada.
خیرات دو حضور، اس نابینا پر رحم کرو، کیونکہ غرناطہ میں اندھا ہونا دنیا کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔ یہ فقرہ صرف ایک فقیر کی صدا نہیں، بلکہ غرناطہ کے اپنے حسن کی گواہی ہے۔ جیسے شہر خود بول اٹھا ہو۔ یہ شہر اتنا حسین ہے کہ اگر کوئی اسے دیکھ نہ سکے تو گویا پوری زندگی کی روشنی اس سے چھن گئی۔ یہ فقیر محض خیرات نہیں مانگ رہا تھا؛ وہ لوگوں کو یاد دلا رہا تھا کہ وہ کتنے خوش نصیب ہیں جو غرناطہ جیسے شہر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔
غرناطہ کا حسن، اس کی تاریخ، اس کی کھوئی ہوئی شان سب اسی ایک جملے میں بیاں ہو جاتے ہیں۔ اور جب میں نے یہ جملہ غرناطہ کے ایک ریسٹورنٹ میں لکھا دیکھا تھا یقین مانئیے اپنی خوش نصیبی پر دل بے اختیار رب کے شکر سے بھر گیا ۔
غرناطہ ،اسپین کے جنوبی صوبے اندلس کا وہ شہر ہے جو آٹھ سو سال تک مسلمانوں کی تہذیب، علم، فن اور حسن کا مرکز رہا۔ اسے اندلس کا دل بھی کہا جاتا ہے۔ ۷۱۱ میں طارق بن زیاد نے اسپین فتح کیا۔ اس کے بعد مسلمان آہستہ آہستہ پورے اندلس میں پھیل گئے، اور غرناطہ اُن شہروں میں سے ایک تھا جہاں اسلامی تہذیب نے بہت جلد اپنی جگہ بنا لی۔ مسلمانوں کی آمد کے بعد شہر کی شکل بدل گئی۔ مشرق کے طرز پر نہریں،فوارے، باغات، پتھر کی گلیاں، سفید مکانات اور الحمرا جیسی جادوئی عمارتیں یہ سب غرناطہ کی پہچان بن گئیں غرناطہ اُس زمانے میں مغربی دنیا کا سب سے حسین اور مہذب شہر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن ہر عورج کو زوال ہے آخرکار ۱۴۹۲ میں عیسائی بادشاہ فریڈینینڈ اور ملکہ ایزابیلہ نے غرناطہ کو فتح کر لیا۔ اور اس طرح مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ سنہری دور ختم ہو گیا ۔ تاریخ کہتی ہے کہ آخری آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ قصر الحمرا سے نکلتے ہوئے رو پڑا۔ تو اس کی ماں نے ایک جملہ کہا جو تاریخ کا حصہ بن گیا وہ جملہ تھا "اب
عورتوں کی طرح رو لو اُس چیز پر،
جسے تم مردوں کی طرح بچا نہ سکے