کشمیر میں منیشات کی گولیاں نوجوانوں کے جسم کھانے لگیں
تحریر : ارشد میر

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں منشیات کا تیزی سے پھیلتا ہوا رجحان محض ایک سماجی یا طبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک گہرے سیاسی، نفسیاتی اور تزویراتی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ وادی میں تقریباً 70 ہزار افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں جن میں سے حیران کن طور پر نوّے فیصد کا تعلق 17 سے 35 سال کی عمر کے نوجوان طبقے سے ہے۔ مزید برآں، حالیہ برسوں میں منشیات کے استعمال میں پندرہ سو فیصد تک اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ فطری یا حادثاتی نہیں بلکہ کسی منظم عمل کا نتیجہ ہے۔
گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے شعبۂ نفسیات اور محکمۂ سماجی بہبود کی رپورٹس اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہیں۔ ان اداروں کے مطابق نشے کے عادی افراد میں ذہنی دباؤ، ڈپریشن، تشدد پسند رویے اور خودکشی کے رجحانات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی مسلسل فوجی محاصرہ، سیاسی جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں نے اجتماعی نفسیات کو شدید متاثر کر رکھا ہو، وہاں منشیات کا فروغ سماج کو اندر سے کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔
مقامی آبادی اور سماجی کارکنوں کا مؤقف ہے کہ بھارتی حکام اس مسئلے سے نمٹنے میں نہ صرف ناکام ہیں بلکہ کئی حوالوں سے خود اس بحران کے سرپرست نظر آتے ہیں۔ منشیات کی سپلائی چین کو روکنے کے بجائے اس پر دانستہ چشم پوشی اور بعض صورتوں میں سہولت کاری، اس شبہے کو تقویت دیتی ہے کہ نوجوان نسل کو شعوری طور پر اس دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ کشمیری عوام کے نزدیک یہ کوئی اتفاقی امر نہیں کہ نشے کی لت کا سب سے بڑا ہدف وہ نوجوان ہیں جو ہر دور میں بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی علامت رہے ہیں۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو کشمیر کی تحریکِ آزادی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے۔ یہی نوجوان پتھراؤ، سیاسی جدوجہد، فکری مزاحمت اور سماجی بیداری کے ذریعے قابض طاقت کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ بھارتی ریاستی پالیسی کا محور بھی یہی نوجوان طبقہ بن گیا ہے جوتین بنیادی جہتوں پر مشتمل ہے: پہلی، براہِ راست فوجی تشدد کے ذریعے نوجوانوں کا قتل یا گرفتاری؛ دوسری، تعلیم اور اسکالرشپس کے نام پر انہیں بھارت منتقل کر کے اصل زمینی حقائق سے دور کرنا اور انکی فکری تطہر کرکے "بھارتی” بنانا اور تیسری، منشیات، بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط کے ذریعے ان کے شعور، عزم اور اجتماعی مقصد کو مفلوج کرنا۔
تیسری جہت، یعنی بے راہ روی اور منشیات کا فروغ بظاہر سب سے خاموش مگر سب سے مہلک ہتھیار ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی جسمانی اور ذہنی صحت کو تباہ کرتا ہے بلکہ خاندان، سماج اور بالآخر پوری قوم کی اجتماعی قوت کو کمزور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری حلقوں میں اس رجحان کو ’’خاموش نسل کشی‘‘ (Silent Genocide) سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
اس ضمن میں ماضی کے بعض واقعات بھی نہایت معنی خیز ہیں۔ اپریل 2006 میں پی ڈی پی اور کانگریس کے مشترکہ دورِ حکومت میں سامنے آنے والا بدنامِ زمانہ سیکس اسکینڈل اس امر کی واضح مثال ہے کہ کس طرح اخلاقی انحطاط کو بطور پالیسی ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس اسکینڈل میں بھارت نواز سیاستدان، بیوروکریٹس اور فوج و پولیس کے اعلیٰ افسران کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں جو کشمیری لڑکیوں کا خودجنسی استحصال کرنے کے علاوہ انہیں بھارت کے مختلف شہروں میں سپلائی کرتے تھے۔ مفتی سعید نے اسی اسکینڈل کی بنا پر وزارت اعلیٰ سے دستبرداری کا اعلان کرکے زمام کار کانگریس کو شونپ دی تھی۔ جو اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس اسکینڈل میں ملوث سی آر پی ایف کے ایک ڈی ایس پی کو جب عدالت میں طلب کیا گیا تو اس نے کہا اسکے خلاف کوئی انضباطی کاروائی نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ جو کچھ کررہا تھا وہ اسکی ڈیوٹی کا حصہ تھا۔ اسکے الفاظ تھے”what I have done was in the lines of my duty”. ۔ یہ بیان مقبوضہ علاقہ میں نوجوان نسل کو اخلاقی انحطاط کا شکار کرنے کی ریاستی ذہنیت کو سمجھنے کے لئے کافی تھا جہاں اخلاقی جرائم کو بھی سکیورٹی پالیسی کے لبادے میں جائز قرار دیا جاتا ہے۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ کشمیری سماج کو اخلاقی اور نفسیاتی طور پر توڑنا ایک دانستہ حکمتِ عملی ہے۔
اس سے پہلے بھی کشمیری مسلمانوں کی اقدار اور مذہبی حساسیت کو مجروح کرنے کے ایسے واقعات پیش آئے جن میں بھارتی حکومت براہ راست ملوث تھی۔ سرینگر کے مختلف علاقوں میں لڑکیاں اور لڑکے رات دیر گئے تک گاڑیوں میں” ڈیٹ” کرتے تھے جس پرنالہ مار کے ساتھ لگنے والے محلوں کی مساجد کمیٹیوں نے اس بے راہ روی کی روک تھام کے لئے کچھ انتباہی بورڈ نصب کئے جن پر قران و حدیث کے حوالوں سے اس طرح کے ملاپ کی ممانعت بیان کرنے کے علاوہ خبردار کیا گیا کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے لڑکے کا سرمنڈا کر حوالہ پولیس اور لڑکی کو حوالہ والدین کیا جائے گا۔ بورڈ ز کی تنصیب کے چند دن بعد ہی سی آر پی ایف کی ٹولیاں آئیں اور انھوں نے ان تمام بوڑڈز کو اکھاڑ پھینکا۔یہ عمل محض انتظامی مداخلت نہیں تھا بلکہ مقامی سماجی نظم و ضبط اور اخلاقی خودمختاری پر براہِ راست حملہ تھا۔
کشمیریوں کے لئے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ سب بھارتی حکومت منصوبہ بند طریقے سے کررہی ہے۔ بھارتی فوج نوجوانوں کو باقاعدہ کیمپوں میں بلا کر شراب فراہم کرتی ہے۔ مودی سرکار کی طرف سے مقبوضہ علاقہ میں مقامی آبادی کے مذہبی جذبات و عقائد کا لحاظ کئے بغیر زبردستی شراب کی دکانیں کھلوانا کیا مقصد رکھتا ہے؟ایسے خطے میں جہاں اکثریتی آبادی مذہبی طور پر شراب کو حرام سمجھتی ہو، وہاں اس کا فروغ محض معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ثقافتی اور اخلاقی جارحیت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ تمام عوامل نوآبادیاتی کنٹرول (Colonial Control) کی جدید شکلوں سے مماثلت رکھتے ہیں جہاں قابض طاقت براہِ راست طاقت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی جنگ، ثقافتی یلغار اور سماجی انحطاط کو بھی بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ منشیات کا فروغ اس جنگ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے کیونکہ یہ مزاحمت کو بندوق سے نہیں بلکہ اندر سے ختم کرتا ہے۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق کسی بھی مقبوضہ علاقے میں قابض طاقت پر لازم ہے کہ وہ مقامی آبادی کی صحت، اخلاقیات اور سماجی بہبود کا تحفظ کرے۔ اقوام متحدہ کے زیرِاہتمام 1961 کا Single Convention on Narcotic Drugs، 1971 کا Convention on Psychotropic Substances اور 1988 کا UN Convention Against Illicit Traffic in Narcotic Drugs ریاستوں کو منشیات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت روکنے کا پابند بناتے ہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال میں 1500 فیصد اضافہ اور نوجوانوں کی بھاری اکثریت کا اس میں ملوث ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض حکام ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ بین الاقوامی قانونِ انسانیت (International Humanitarian Law) کے تحت قابض طاقت کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہے جو مقامی آبادی کی سماجی ساخت کو تباہ کریں۔ منشیات کا دانستہ فروغ یا اس پر چشم پوشی، اجتماعی سزا (Collective Punishment) کے زمرے میں آتی ہے، جو چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔ علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت منشیات کو محض انفرادی بیماری نہیں بلکہ سماجی اور ساختی مسئلہ قرار دیتا ہےجس کے اسباب میں غربت، جبر، عدم تحفظ اور مسلسل تشدد شامل ہیں۔ کشمیر جیسے فوجی محاصرے میں جکڑے خطے میں منشیات کا پھیلاؤ ان ہی ساختی عوامل کا منطقی نتیجہ ہے جسے قابض طاقت بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
نفسیاتی جنگ کو دشمن کی عسکری قوت نہیں بلکہ اس کے حوصلے، شناخت اور اجتماعی شعور کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی قرار دیا جاتا ہے۔ منشیات کا فروغ اس جنگ کا نہایت مؤثر مگر خاموش ہتھیار ہے۔جب کسی معاشرے کے نوجوان،جو فکری، جسمانی اور سیاسی طور پر سب سے متحرک طبقہ ہوتے ہیں،نشے کی لت میں مبتلا ہو جائیں تو:مزاحمتی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے،اجتماعی تنظیم بکھر جاتی ہے،تشدد اندرونی رخ اختیار کر لیتا ہے،اور قوم بیرونی جبر کے بجائے اندرونی بحران میں الجھ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی تاریخ میں بھی قابض طاقتوں نے افیون، شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کو بطور کنٹرول میکانزم استعمال کیا۔ کشمیر میں یہی ماڈل جدید شکل میں دہرایا جا رہا ہے، جہاں بندوق کے ساتھ ساتھ نشہ بھی نوجوانوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔نفسیاتی ماہرین کے مطابق مسلسل عسکری دباؤ، تلاشیوں، گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کے ماحول میں منشیات وقتی فرار (Temporary Escape) کا ذریعہ بنتی ہیں مگر یہی فرار بالآخر اجتماعی مفلوجی میں بدل جاتا ہے۔ اس طرح قابض طاقت کو دوہرا فائدہ حاصل ہوتا ہے: ایک طرف مزاحمت کمزور، دوسری طرف سماج اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار۔
اگرچہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منشیات کے بحران اور نوجوانوں کی تباہی ایک کھلا انسانی المیہ ہے تاہم عالمی انسانی حقوق تنظیموں کی توجہ زیادہ تر وقتی واقعات تک محدود رہی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اگرچہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال پر رپورٹس جاری کی ہیں مگر منشیات کے دانستہ فروغ کو ایک ریاستی پالیسی کے طور پر شاذونادر ہی موضوع بنایا گیا ہے۔یہ خاموشی عالمی سیاست کے دوہرے معیار کی عکاس ہےجہاں انسانی حقوق کا بیانیہ طاقتور ریاستوں کے مفادات سے مشروط ہو جاتا ہے۔ اگر یہی صورتحال کسی اور خطے میں ہوتی تو اسے Chemical or Social Warfare کے زمرے میں لا کر عالمی دباؤ ڈالا جاتا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مگر یہ بحران عالمی ضمیر کے اندھے گوشے میں ڈال دیا گیا ہے۔
ان تمام پہلوؤں کا مجموعی تجزیہ یہ واضح کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منشیات کا پھیلاؤ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک دانستہ، کثیرالجہتی اور منظم پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ پالیسی نوجوان نسل کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر مفلوج کر کے تحریکِ آزادی کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کی کوشش ہے۔تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ قومیں صرف بندوق سے نہیں بلکہ شعور، اقدار اور اجتماعی اخلاق سے زندہ رہتی ہیں۔ کشمیری عوام کا یہ کہنا کہ ’’بھارت ہمیں ان اوچھے ہتھکنڈوں سے زیر نہیں کر سکتا‘‘ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اصل چیلنج اب یہ ہے کہ منشیات کے خلاف مزاحمت کو بھی آزادی کی جدوجہد کا حصہ سمجھا جائے کیونکہ ذہنی آزادی کے بغیر سیاسی آزادی کا تصور ادھورا رہتا ہے۔