رپورٹ ۔۔ مقصود منتظر

جاپان کے ایک چڑیا گھر میں ایک لاوارث ننھا بندر، جس نے سوشل میڈیا پر لاکھوں دل توڑ دیے تھے، آخرکار اپنی ہی نسل کے درمیان سکون پا گیا ہے۔
یہ ننھا بندر اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا جب اسے اپنی ماں کی کمی پوری کرنے کے لیے دیے گئے ایک اورنگ اُٹان کے کھلونے کو سینے سے لگائے دیکھا گیا۔ اس کی معصوم گرفت، خالی آنکھیں اور خاموش تنہائی نے دیکھنے والوں کو رُلا دیا۔ وہ نرم کھلونا اس کے لیے ماں کی آغوش کا متبادل بن گیا تھا۔ یہی کھلونا اس کیلئے گرمی، تحفظ اور قربت کی ایک آخری امید تھی ۔
وقت کے ساتھ، دیکھ بھال اور توجہ کے نتیجے میں، اسے اپنی ہی نسل کے بندروں کے درمیان رکھا گیا۔ ابتدا میں وہ ہچکچایا، مگر پھر آہستہ آہستہ کھیلنا، گھلنا ملنا اور اعتماد کرنا سیکھ گیا۔ اب وہ تنہا نہیں رہا، اور نہ ہی اسے اس کھلونے کی ضرورت رہی جو کبھی اس کی واحد تسلی تھا۔
بتایا جارہا ہے کہ اس ننھے بندر کو ماں نے پیدا کرنے کے بعد ٹھکرایا تھا ۔ ماں کی جانب سے ٹھکرانے کے بعد ننھا منکی بالکل اکیلا رہ گیا تھا ، اس کی اداسی لوگوں سے نہیں دیکھی گئی ۔ اسے ایک زو میں رکھا گیا لیکن یہاں اسے دیگر بندروں نے وقتی طور پر اپنانے سے انکار کیا جس کے بعد چڑیا گھر کی انتظامیہ میں سے ایک ملازم نے کھلونا دیا جو تنہا بندر کا سہارا بن گیا ۔ وہ اسے کھلونے کے ساتھ کھیلتا رہا ۔ اسے جب بندر تنگ کرتے تھے تو وہ واپس آکر اسے کھلونے کے ساتھ چپک جاتا تھا ۔ رات کو سردی سے بچنے کیلئے بھی وہ اسے کھلونے کو ماں کی گود سمجھ کر اوڑھ لیتا ۔۔ دن کو بھی اسی کھلونے کے ساتھ اٹکلیاں کرتا رہتا ۔۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اور لوگوں نے اسے تنہا بندر کا خطاب دیا ۔ بعض نے اس منظر کو انسانوں کیلئے بڑا سبق بھی قرار دیا۔
تھوڑے عرصے کی تنہائی کے بعد ایک بندر نے پنچ کے ساتھ وقت گزارا، اس کی صفائی اور دیکھ بھال کی، اور اس نے ایک نیا دوست بھی بنا لیا۔یہ دیکھ کر لوگ بہت خوش ہورہے ہیں ۔
یہ کہانی دکھ سے امید تک کے سفر کی علامت ہے۔ اس بات کی یاد دہانی کہ محبت، صبر اور ساتھ مل جائے تو زخم بھر جاتے ہیں، اور تنہائی کی جگہ تعلق لے لیتا ہے۔