کیا پاکستان افغانستان میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے
اسلام آباد: پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں شدت آ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے خطے کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاکستانی افواج نے سرحد کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق افغان طالبان رجیم نے اس کارروائی کو جواز بنا کر نام نہاد کارروائی شروع کی۔
انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی تاہم تمام حملوں کو پسپا کر دیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں جبکہ 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ دشمن کے 115 ٹینک اور بکتربند گاڑیاں بھی تباہ کی جا چکی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاک افغان کشیدگی پر ردعمل دیا۔ صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ مداخلت کر سکتے تھے، تاہم پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ میں سیاسی امور کی سیکرٹری ایلیسن ہوکر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا افغان طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پاکستانی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے ان کی ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی جس میں حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک صبر، برداشت اور اتحاد کا مہینہ ہے اور دونوں ممالک کو اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمنوں کو اپنے ملک میں پناہ دینا آپ کا معاملہ ہو سکتا ہے لیکن ان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کردار ادا نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے مہمان رہے، آپ کے خاندانوں کی دہائیوں تک میزبانی کی گئی اور سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ہم ایک ساتھ تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا گیا، اب سراج الدین حقانی خود دنیا کو بتائیں کہ یہ الزام درست تھا یا نہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ مشکل وقت ہے اور شدت پسندی کے خلاف یہ جنگ ہر صورت جیتنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف جنگجوؤں کو بھارت کی جانب سے مکمل حمایت اور مالی معاونت حاصل ہے۔
کابل میں تعینات رہنے والے پاکستان کے سابق سفیر منصور خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کی دو بنیادی توقعات تھیں، ایک تحریک طالبان پاکستان کا خاتمہ اور دوسرا بہتر تعلقات، مگر دونوں توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی میں مزید اضافہ ہوگا اور خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔