تحریر ۔۔ مقصود منتظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیانے لوگ کہتے ہیں، بڑا آدمی بننے کیلئے بڑے خواب دیکھنے پڑتے ہیں ، سوچ بڑی رکھنی پڑتی ہے اور اعتماد میں بڑا پن دکھانا لازم ہوتا ہے۔ اس بات کا اطلاق نہ صرف عام زندگی بلکہ دنیائے کرکٹ پر بھی ہوتا ہے ۔ اور جاری ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں اس کے کئی مظاہرے بھی دیکھے ہیں۔ زمبابوے کی مثال لیجے جو انڈر ڈاگ بن کر سپر ایٹ مرحلے تک پہنچی ۔ زمبابوے کی اس کامیابی کا راز صرف یہ تھا کہ وہ خود کو بڑی ٹیم سمجھنے لگی تھی ۔ ان کے اعتماد میں بھی یہ جھلک نظر آئی اسی اعتماد کی وجہ سے یہ چھوٹی ٹیم نے مائٹی آسٹریلیا کو ہرانے میں کامیاب رہی۔ اس کے برعکس پاکستان کی ٹیم اور کھلاڑیوں پر نظر دوڑائیں تو شروع سے لیکر آخر تک ان کے نیا ڈگمگاتی نظر آئی ۔ بھارت کے کیخلاف میچ نے تو رہی سی کسر بھی نکالی ۔ اللہ اللہ کرکے ٹیم سپر ایٹ میں پہنچی تو انگلینڈ کیخلاف میچ میں جیت کی امید نظر نہیں آئی ، اسی طرح سری لنکا کیخلاف میچ میں دو بیٹرز میں بڑا بننے کی جھلک نظر آئی مگر باقی ہاتھ پاوں پھولے نظر آئے ۔ ٹیم ورلڈ کپ سے آوٹ ہوگئی ۔ اب آپ کو مختلف تبصرے و تجزیئے سننے کو ملیں گے کہ کہاں غلطی ہوئی اور آگے کس کو ٹیم میں رکھنا ہے یا نہیں ۔۔ لیکن بیماری کی جڑ کیا ہے ؟ اس کا پتہ لگائے بغیر آئندہ بھی یہ ٹیم یونہی نظر آئے گی۔

پاکستان ٹیم میں سب سے بڑی بیماری نہ صرف سلیکشن سے شروع ہوتی ہے بلکہ لوکل میچز اور ٹریننگ سیشنز سے شروع ہوتی ہے ۔ وہ یوں کہ جب وہ ٹریننگ سیشنز میں ہوتے ہیں یا قومی سطح کے میچز کھیلتے ہیں تو بیٹرز روایتی کھیل کھیلتے ہیں وہی ایک اوور میں پانچ چھ رننز یا پھر آخری اوورز میں آٹھ دس رننز ۔۔۔ جبکہ باقی ٹیموں کے کھلاڑی ٹریننگ سیشن میں فی اوور دس رنزز کی اوسط سے ہی شروع ہوتے ہیں۔ تب ہی ان کے کھلاڑی ایک ایک اوور میں بیس سے پچیس رنز بھی بناپاتے ہیں کیونکہ ان کا دماغ اور باڈی یہ بات تسلیم کرچکی ہوتی ہے کہ وہ بیس پچیس رنز بناسکتے ہیں ۔ جبکہ پاکستانی بیٹرز اگر کبھی غلطی سے بنا بھی لیں تو یہ ان کی باڈی اور دماغ پر بوجھ بن جاتا ہے ۔
کہنے کا مقصد یہ ہے جب بھی کوئی قومی سطح کا ٹورنامنٹ ہو یا کوئی ٹریننگ سیشن تو کھلاڑیوں (بیٹرز ) کیلئے لازم کیا جائے کہ وہ فی اوور کم سے کم دس رنز بنائیں ۔ صرف وکٹ بچا کر کھیلنے یا سلو ریٹ سے ففٹیز یا سنچریز بنانا کسی کام کی نہیں ۔ بیٹرز کو یہ بات بار بار بتائی جائے ۔ اور ٹریننگ سیشن میں یا قومی نوعیت کے ایونٹ میں ایسے کرنے میں بھلا کیا حرج ہے ۔ اگر کھلاڑی اس کی پریکٹس کریں گے تو ہی ان کا دماغ اور باڈی یہ بات تسلیم کرلیں گے اور جب ان کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جائے گی تو کھلاڑی کیلئے چوکا یا چھکا لگانا مشکل نہیں ہوگا ۔ جیسا کے بھارت کے بلے باز ہیں وہ اس ہنر کو جانتے بھی ہیں اور میدان میں اس کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں ۔

بدقسمتی سے پاکستان کی ٹیم میں ایک آدھ بلے باز ہی ایسا ہوتا ہے جس میں فی اوور دس سے زیادہ رنز بنانے کی صلاحیت ہے ۔ اور یہ بڑی بیماری ہے ۔ اسی بیماری کی وجہ سے پاکستان پچھلے کئی اہم بین الاقوامی ایونٹس سے باہر ہوا ہے ۔ اور آج بھی سری لنکا کے میچ میں بھی یہی ہوا ۔ فخر اور فرحان ستر اوورز تک بیٹنگ کرتے رہے اگر چہ دونوں نےبے مثال پاری کھیلی لیکن جیت کیلئے یہ بھی ناکافی تھی ۔ دس اوورز کے بعد وہ پندرہ پندرہ رنز بھی بناسکتے ہیں جس کا مطلب 250 کا اسکور مگر دونوں کہیں نا کہیں اپنی پاری کو بڑی پاری سمجھ بیٹھے کیونکہ ابھی تک ان کے مائنڈ اور جسم نے اس طرح کے کھیل کو نہیں دیکھا تھا ۔۔ وہ سوچ بیٹھے انہوں نے بڑی فتح حاصل کرلی ۔ خیر ۔۔ اس کے بعد جتنے آئے اور چلتے بنے ۔ آخری تین اوورز سری لنکا کے حق میں گئے ۔ یوں میچ کا پانسہ سترہویں اوور میں پلٹ گیا ۔۔
اب ضرورت روایتی نہیں ماڈرن کرکٹ کی ٹریننگ کی ہے ۔ اور یہ بات ہر بیٹر کے دماغ تک پہنچانی ہے کہ بیٹا کھیلو مگر سلو رن ریٹ سے نہیں بلکہ تیز رفتاری سے ۔۔ تمہارا بیٹ ہر اوور میں چوکا چھکا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور تمہارا دماغ یہ بات مان رہا ہو کہ تم ہر بال نہ سہی لیکن فی اوور میں بڑی ہیٹ لگاسکتے ہو ۔۔۔ اگر ٹریننگ سیشن یا قومی ٹورنا منٹس میں ایسا نہیں ہوتا تو ، پاکستان ٹیم کی کشتی یونہیں ڈولتی رہے گی ۔۔