کیا صحافت کا پیشہ واقعی سسک رہا ہے ؟
نہ جانے کیسے، مگر بچپن ہی سے خبروں سے ایک انوکھی سی دوستی ہو گئی، یا یوں کہیے، خبروں سے دل کا رشتہ جُڑ گیا، نیوز روم میں کیسے کام ہوتا ہے، ایک خبر کے پیچھے کتنے افراد کی محنت ہوتی ہے، چھ برس پہلےنیوز روم کا حصہ بنا تو ان سب سوالوں کے جوابات مل گئے، میں نے دیکھا ہے کہ خبر کس طرح جنم لیتی ہے، کس طرح ایک مختصر اطلاع اسکرین پر “بریکنگ نیوز” بن کر نمودار ہوتی ہے، اور کس طرح چند منٹوں میں ایک واقعہ لاکھوں ناظرین تک پہنچ جاتا ہے۔ مگر ان برسوں میں ایک حقیقت بار بار میرے سامنے آئی: صحافت کی اصل روح نیوز روم کی دیواروں میں نہیں، میدان کی دھول میں سانس لیتی ہے۔
نیوز روم ایک اعصابی مرکز کی طرح ہوتا ہے۔ یہاں اسکرینیں چمکتی ہیں، فون بجتے ہیں، پروڈیوسر ہدایات دیتے ہیں، ایڈیٹر الفاظ کو تراشتے ہیں، اور اینکر کی آواز خبر کو شکل دیتی ہے۔ خبر یہاں ترتیب پاتی ہے، سنورتی ہے اور ناظرین کے لیے قابلِ فہم بنائی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ خبر کی پہلی سانس کہاں لی جاتی ہے؟ فیلڈ رپورٹر وہ آنکھ ہے جو دیکھتی ہے، وہ کان ہے جو سنتا ہے اور وہ دل ہے جو حالات کی دھڑکن کو محسوس کرتا ہے۔ جب کسی شہر کی سڑک پر احتجاج ہوتا ہے، جب کسی گاؤں میں سیلاب آتا ہے، جبکوئی عدالت اہم فیصلہ سناتی ہے تو سب سے پہلے وہاں کیمرے کے پیچھے کھڑا رپورٹر ہوتا ہے، نہ کہ نیوز روم کی آرام دہ کرسی پر بیٹھا کوئی فرد۔
BBC ہو یا CNN، عالمی صحافت کی ساکھ ہمیشہ ان کے فیلڈ رپورٹرز کے دم سے قائم رہی ہے۔ جنگی علاقوں سے براہِ راست کوریج، قدرتی آفات کے بیچ کھڑے ہو کر رپورٹنگ، یا سیاسی ہلچل کے دوران عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچانا—یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صحافت محض پیشہ نہیں رہتی بلکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔ نیوز روم میں ہم اکثر خبر کو “ہینڈل” کرتے ہیں، الفاظ چنتے ہیں، ویژول منتخب کرتے ہیں، اور بیانیہ ترتیب دیتے ہیں۔ مگر فیلڈ میں رپورٹر کو لمحہ بہ لمحہ فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ وہاں اسکرپٹ نہیں ہوتا، وہاں حقیقت ہوتی ہے—کبھی کڑوی، کبھی تلخ، کبھی خطرناک۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ نیوز روم کی اہمیت کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک ہی جسم کے دو بازو ہیں۔ نیوز روم خبر کو ترتیب دیتا ہے، اس کی تصدیق کرتا ہے، قانونی و اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے، اور اسے وسیع تناظر میں پیش کرتا ہے۔ لیکن اگر میدان خاموش ہو جائے تو نیوز روم کے پاس پیش کرنے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں ہر شخص خود کو “شہری صحافی” سمجھنے لگا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، بغیر تصدیق کے ایک ٹویٹ، یا سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک بیان—اور خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں فیلڈ صحافت کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
اصل صحافت وہی ہے جو موقع پر موجود ہو، حقائق کی تصدیق کرے اور دباؤ کے باوجود سچ کو سامنے لائے۔ میں نے نیوز روم میں بیٹھ کر بے شمار خبریں ایڈٹ کی ہیں، بریکنگ چلائی ہیں، اور بیانیہ ترتیب دیا ہے۔ مگر جب بھی کسی فیلڈ رپورٹر کی آواز کانوں میں گونجتی ہے—پس منظر میں شور، چہرے پر تھکن، اور لہجے میں سنجیدگی—تو احساس ہوتا ہے کہ صحافت ابھی زندہ ہے۔ اصل صحافت وہ ہے جو خطرہ مول لے، جو عوام کے بیچ کھڑی ہو، جو طاقتور سے سوال کرے، اور کمزور کی آواز بنے۔ نیوز روم اس آواز کو تقویت دیتا ہے، مگر آواز پیدا میدان میں ہی ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ صحافت کی اصل شناخت اسٹوڈیو کی روشنیوں میں نہیں، بلکہ میدان کی دھوپ میں لکھی جاتی ہے۔