تحریر: محمد حنیف تبسم، سینئر صحافی و کالم نگار

شعبہ طب ہمیشہ خدمتِ انسانیت کا مقدس ترین پیشہ سمجھا گیا ہے یہ وہ میدان ہے جہاں ایک ڈاکٹر محض ایک پیشہ ور نہیں بلکہ ایک محافظ محسن اور ایک ذمہ دار انسان کے طور پر سامنے آتا ہے مگر جب اسی مقدس پیشے میں سنجیدگی کی جگہ غیر ذمہ داری خدمت کی جگہ نمائش اور فرض شناسی کی جگہ نمود و نمائش اور مقابلہ بازی لے لے تو ایسے واقعات جنم لیتے ہیں جو نہ صرف دلوں کو زخمی کرتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں گزشتہ دنوں لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے ایک حساس مرحلےسی سیکشن آپریشن کے دوران مبینہ طور پر لیڈی ڈاکٹرز کی جانب سے ویڈیو بنانے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی وڈیو نے ششدر کردیا یہ عمل صرف لمحاتی لاپرواہی نہیں بلکہ اس سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جس میں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر غیر ضروری سرگرمیوں کو ترجیح دی گئی ایسے مناظر نہ صرف اس عظیم پیشے کی روح کو مجروح کرتے ہیں بلکہ انسانیت کے وقار پر بھی کاری ضرب لگاتے ہیں
جب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو عوامی ردعمل فطری طور پر شدید تھا ہر دل مضطرب تھااور بعض آنکھوں میں نمی بھی تھی سوال یہ نہیں کہ غلطی کیوں ہوئی بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایک ماں کی زندگی اس کے بچے کی سلامتی اور ایک خاندان کا مستقبل بھی غیر سنجیدگی کی بھینٹ چڑھ گیا کیا انسانیت واقعی اس حد تک زوال پذیر ہوچکی ہےکہ آپریشن تھیٹر تک مقابلے کا میدان بن جائے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے فوری نوٹس لیا اور حکومتِ پنجاب کے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو کارروائی کی ہدایت دی تحقیقات کے بعد چار لیڈی ڈاکٹرز ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور ڈاکٹر ماہم امین ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر عائشہ افضل کو ان کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر معطل کیا گیا اس کے علاوہ گائنی یونٹ ون کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تاکہ ان کی مجموعی نگرانی کی ذمہ داری متعین کی جا سکے اس اقدام سے یقیناً یہ پیغام ضرور گیا کہ بے حسی کو برداشت نہیں کیا جائے گا مگر محض وقتی کارروائی کافی نہیں یہ معاملہ صرف انفرادی غفلت نہیں بلکہ ایک پوری سوچ کا عکاس ہے جس نے ہمارے نظام کو جکڑ رکھا ہے ڈاکٹر کا فرض صرف علاج کرنا نہیں بلکہ مریض کی جان عزت اور اعتماد کی حفاظت کرنا بھی ہے طب کا یہ پیشہ انہی اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے جہاں خیر خواہی رازداری اور احترامِ انسانیت اولین ترجیح ہوتے ہیں
بدقسمتی سے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بعض اوقات میڈیکل عملے میں وہ اخلاقی پختگی اور پروفیشنلزم نظر نہیں آتا جس کی ضرورت ہے سینکڑوں قابل اور فرض شناس ڈاکٹرز اپنی زندگی داؤ پر لگا کر خدمتِ انسانیت میں مصروف ہیں مگر چند افسوسناک واقعات پورے شعبے کو داغدار کر دیتے ہیں بعض اوقات مریض سے سخت رویہ اختیار کیا جاتا ہے اس کی پرائیویسی نظرانداز ہوتی ہے یا جدید ٹیکنالوجی کو غیر ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جاتا ہے یہ رویے نہ صرف طبی اعتماد کم کرتے ہیں بلکہ معاشرتی اخلاقیات کو بھی زوال کی طرف لے جاتے ہیں
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں میڈیکل پروفیشن کو سخت اخلاقی اصولوں کے تابع رکھا گیا ہے وہاں آپریشن تھیٹر میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی ہے مریض کی اجازت کے بغیر کوئی تصویر یا ویڈیو بنانا جرم ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت سزا دی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کی مسلسل تربیت کی جاتی ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنی فنی مہارت بلکہ اپنے اخلاق اور کردار میں بھی اعلیٰ معیار برقرار رکھیں
یقیناً یہ واقعہ ایک وارننگ ہے کہ اگر ہم نے نظام کو بہتر نہ بنایا تو عوامی اعتماد مزید کمزور ہو جائے گا ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیکل تعلیم میں اخلاقیات کو مرکزی حیثیت دی جائے اسپتالوں میں سخت ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جائے اور احتساب کا ایسا مؤثر نظام قائم کیا جائے جس میں کسی بھی فرد کو اپنی ذمہ داری سے انحراف کی اجازت نہ ہو
یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ڈاکٹر ہونا صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس عہد ہےایسا عہد جس میں ایک انسان کی جان، عزت اور امید ایک دوسرے انسان کے ہاتھ میں ہوتی ہے جب یہ ذمہ داری غفلت کا شکار ہو جائے تو نقصان صرف ایک مریض یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہوتا ہے انسانی جان کوئی مقابلہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے اور اس امانت کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہےیہ انسانیت سوز رویہ ہمارے معاشرتی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے طب کا پیشہ انسانیت کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر جب اس میں اخلاقیات کمزور پڑ جائیں تو نتائج دل دہلا دینے والے ہوتے ہیں ہمیں بطور قوم یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنے ڈاکٹرز کو صرف سند یافتہ نہیں بلکہ کردار یافتہ بھی بنائیں کیونکہ جہاں انسانیت ہار جائے وہاں کوئی آپریشن امید کو زندہ نہیں کر سکتا
یہ صرف ایک ویڈیو نہیں ایک چیخ ہےاس پیشے کے وقار کے خلاف جو کبھی شفا کی علامت تھا جب آپریشن تھیٹر میں سنجیدگی کے بجائے نمائش شروع ہو جائے تو موت اور زندگی کے درمیان فاصلہ صرف ایک کلک کا رہ جاتا ہے۔