یہ موازنہ صرف ایک پل اور ایک قلعے کا نہیں، بلکہ دو رویّوں کا ہے۔ ایک طرف بحالی، منصوبہ بندی اور ثقافت سے وابستگی، دوسری طرف غفلت، بے حسی اور نظر انداز کیا گیا ورثہ
تحریر ۔۔۔ مقصود منتظر
دی مائنڈ ڈاٹ پی کے
کشمیر اور اس کی تاریخ و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والوں کے ذہن میں اکثر یہ سوال گردش کرتا ہے کہ وادی کشمیر اور آزاد کشمیر میں فرق کیا ہے؟ ترقی، تعلیم، حکمرانی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں کون آگے ہے؟ یہ سوالات صرف تجسس نہیں بلکہ حقیقت جاننے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہیں۔

چونکہ میں نے دونوں سائیڈ دیکھے ہیں اور آج بھی دونوں اطراف سے انتہائی دلچسپی ہے اس لیے پوچھنے والوں کو بعض سوالات کا موازنہ کرکے جواب ضرور دیتا ہوں۔ لیکن پھر بھی لوگوں کی تشنگی برقرار ہی رہ جاتی ہےجو کہ اچھی بات ہے۔ اسی تناظر میں اگر ایک سادہ مگر بامعنی موازنہ کیا جائے تو سری نگر کا زیرو بریج اور مظفر آباد کا لال قلعہ کی مثال بہت کچھ واضح کر دیتی ہے۔
قارئین ۔۔عید پر آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد جانے کا موقعہ ملا۔ یہاں ایک دو تاریخی اور قدیم یاد گار کی سیر کرتے ہوئے خطے کے عروج کی ایک جھلک قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ ان میں سے ایک ہے لال قلعہ ہے ۔ مغل دور کے بادشاہ اپنے خوابوں کی دنیا سمیت یہاں پڑاو ڈالتے تھے ، قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے تھے لیکن بدقسمتی سے آج اس قلعہ اور اس کی ہر دیوار پر آزاد کشمیر کے ارباب اختیار کیلئے نواحہ درج ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس وادی کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں دریائے جہلم پر بنے جتنے بھی پرانے ، ناکارہ اور خستہ پل قائم تھے آج پکنک پوائنٹس بنے ہوئے ہیں۔
خستگی سے خوبصورتی تک کا سفر۔۔۔
زیر بریج جو کبھی صرف ایک عام پل تھا، آج شہر سری نگر میں ایک خوبصورت پکنک پوائنٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے پر واقع یہ تاریخی لکڑی کا پل اب سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے ایک پُرسکون جگہ بن گیا ہے جہاں لوگ بیٹھ کر قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ شام کے وقت یہاں کا منظر خاص طور پر دلکش ہوتا ہے، جب روشنیوں کی چمک اور دریا کا سکون ایک خوبصورت ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اب یہاں واکنگ ٹریک، بیٹھنے کی جگہیں اور فوٹوگرافی کے لیے بہترین لوکیشنز موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ نوجوانوں اور فیملیز میں خاصا مقبول ہو گیا ہے۔

کبھی بوسیدہ لکڑیوں اور ویرانی کی علامت بننے والا یہ پل، آج سری نگر کی نئی پہچان بنتا جا رہا ہے۔ وقت کے تھپیڑوں سے خستہ حال ہونے والا زیرو برج اب تزئین و آرائش کے بعد زندگی سے بھر گیا ہے۔ جہاں پہلے سنّاٹا تھا، اب وہاں لوگوں کی چہل پہل، سیاحوں کی آمد اور خوشگوار لمحوں کی رونق ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے بیٹھ کر لوگ سکون کے لمحات گزارتے ہیں، تصاویر بناتے ہیں اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ تبدیلی صرف ایک پل کی نہیں، بلکہ ایک شہر کی بحالی اور خوبصورتی کی نئی کہانی ہے۔
مظفر آباد کا خستہ حال قلعہ ۔۔۔
مظفر آباد کے پہاڑوں میں واقع تاریخی قلعہ کبھی دفاعی لحاظ سے نہایت اہم سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہ اپنی خستہ حالی کی داستان خود سنا رہا ہے۔ صدیوں پرانا یہ قلعہ، جو کبھی حکمرانوں کی طاقت اور شان کی علامت تھا، اب ٹوٹتی دیواروں، بکھرتی اینٹوں اور نظر انداز ہوتی تاریخ کا منظر پیش کرتا ہے۔ دیکھ بھال کی کمی اور وقت کے اثرات نے اس کے حسن کو ماند کر دیا ہے۔ سیاح یہاں آتے تو ہیں، مگر بنیادی سہولیات اور مناسب بحالی نہ ہونے کے باعث یہ مقام اپنی اصل شان سے محروم دکھائی دیتا ہے۔یہ قلعہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے جو آج توجہ کی منتظر ہے۔
دارالحکومت مظفر آباد کا یہ تاریخی قلعہ آج خاموشی سے ایک سوال اٹھا رہا ہے،کیا ہماری تاریخ کی کوئی قدر نہیں؟ کبھی شان و شوکت کی علامت رہنے والا یہ قلعہ آج ٹوٹتی دیواروں اور بکھرتے آثار کے ساتھ حکمرانوں کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت بن چکا ہے۔ وقت گزر رہا ہے، مگر بحالی کے دعوے صرف کاغذوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو یہ قیمتی ورثہ آہستہ آہستہ مٹ جائے گا۔
یہاں کے ارباب اختیار بالخصوص محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ قلعہ صرف پتھروں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک تاریخ، ایک شناخت اور ایک سوال ہے۔کیا ہم اپنی وراثت کو بچا پائیں گے یا اسے یوں ہی کھو دیں گے؟
قارئین یہ موازنہ صرف ایک پل اور ایک قلعے کا نہیں، بلکہ دو رویّوں کا ہے۔ ایک طرف بحالی، منصوبہ بندی اور ثقافت سے وابستگی، دوسری طرف غفلت، بے حسی اور نظر انداز کیا گیا ورثہ۔ یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سوال کریں کیا ہم بھی خستگی کو خوبصورتی میں بدلنے کا ہنر سیکھیں گے، یا اپنی تاریخ کو مٹتا ہوا دیکھتے رہیں گے؟