وزیر اعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس
اسلام آباد
پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے خطے میں جنگی صورتحال کے باعث معاشی مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے اہم اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے وزیر اعطم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے، کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے، زرعی شعبے، پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی مہنگائی سے کم سے کم متاثر ہو، وفاق اب تک 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھا چکا ہے، پاکستان جنگ بندی کیلئے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اﷲ کی مہربانی سے خطے میں امن قائم ہو گا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے،ہمیں شہادتوں پر بہت افسوس ہے، ہم نے اپنے تعزیتی پیغامات مختلف اوقات میں جاری کئے، خطے میں جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلئے پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر بھرپور کوششیں کی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسی طرح چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، پاکستان نے جنگ بندی کرانے کیلئے حتی المقدور کوششیں کی ہیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں، اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح اس جنگ سے بہت متاثر ہو رہا ہے، معاشی ترقی کیلئے ہم سب نے پچھلے دو سال کے دوران مل کر بہت کاوشیں کی ہیں اور پاکستان کی معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم بنا دیا ہے، اس وقت ترقی و خوشحالی کا وقت آ چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اس جنگ کی وجہ سے ہمیں معاشی طور پر بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے، آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے بھی پیشرفت ہو گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا تو میں نے مختلف اجلاس منعقد کئے اور ہماری ٹیم نے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ پہلے ہفتے میں ہمیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کرنا پڑا، پاکستان کے محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کیلئے یہ بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اس کو برداشت کیا، اجتماعی اور بھرپور کاوشوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے، کابینہ کے ارکان نے اپنی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کی کٹوتی کی گئی، پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی اس میں حصہ ڈالا، تیل کی بچت کیلئے 60 فیصد گاڑیوں کا استعمال بند کر دیا گیا۔اس سلسلہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس معاملہ میں خصوصی دلچسپی لی، انہیں ہم نے معاملات سے باخبر کیا، صدر مملکت کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اجلاس بلائے اور ان میں اچھے ماحول میں معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے دیئے ہیں، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی ہے اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں، تمام وزراء اعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا، کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزراء اعلیٰ اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہیں، یہ ایک بہت بڑی قومی یکجہتی اتحاد و اتفاق کی علامت ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی بھی قوم اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عام آدمی اور غریب طبقے کا تحفظ کرنا ہے، اشرافیہ کو ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسے منصوبے جن پر ہم کام روک سکتے ہیں ان کو روکنا چاہئے اور فنڈز کی بچت کرکے عام آدمی اور غریب آدمی کے تحفظ پر خرچ کرنے چاہئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی استحکام سے ہی معاشی استحکام ممکن ہے، اس وقت سب سے زیادہ توجہ کمزور طبقہ کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ کے تحفظ پر دینے کی ضرورت ہے، گندم کی کٹائی کا کام شروع ہونے والا ہے اس کیلئے ڈیزل اور پٹرول کی ضرورت ہے، فصلوں کی بوائی کیلئے بھی ڈیزل کی ضرورت ہو گی، عام آدمی کو مہنگائی سے بچانے کیلئے پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو بھی بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے، اس کیلئے مل کر اور کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے۔