رپورٹ ۔۔ دی مائنڈڈاٹ پی کے
مقصود منتظر
بھارت کی ریاست اوڈیشہ کے کیونجھر ضلع میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک بزرگ شخص اپنی مرحوم بہن کی ہڈیاں کندھے پر اٹھا کر بینک پہنچ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جیتو منڈا نامی شخص نے اپنی بہن کے انتقال کے بعد اس کے اوڈیشہ گرامین بینک اکاؤنٹ سے تقریباً 19 ہزار 300 روپے نکلوانے کے لیے اوڈیشہ گرامین بینک کی مالیپاسی برانچ سے رجوع کیا، تاہم قانونی وراثتی دستاویزات نہ ہونے پر بینک نے رقم دینے سے انکار کر دیا۔
ایک غیر تعلیم یافتہ قبائلی شخص، جو نہ کاغذی کارروائی سمجھتا تھا اور نہ ہی طریقہ کار، بالآخر اپنی بہن کی باقیات قبر سے نکال کر بوری میں ڈال کر بینک لے آیا تاکہ اس کی موت کا ثبوت دے سکے۔
واقعہ کی ویڈیو دیکھنے کیلئے کلک کریں
https://x.com/MaqsoodMuntzir/status/2049089604545065432

مایوسی اور بے بسی کے عالم میں جیتو منڈا نے اپنی بہن کی قبر کھود کر اس کی ہڈیاں نکالیں اور تقریباً تین کلومیٹر پیدل چل کر بینک پہنچ گیا، جس پر علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، صورتحال کو قابو میں کیا اور مزید کارروائی شروع کر دی۔ عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکام ایسے معاملات میں انسانی ہمدردی اور نرمی کا مظاہرہ کریں، خصوصاً غریب طبقے کے ساتھ۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گرامین بینکوں کا قیام مالی شمولیت کے لیے کیا گیا تھا تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو سہولت دی جا سکے، نہ کہ انہیں پیچیدہ اور شہری طرز کے بیوروکریٹک نظام میں الجھایا جائے۔
مزید برآں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایسے بینکوں میں تعینات عملہ عموماً مقامی ہوتا ہے اور اسے زمینی حقائق کا بہتر ادراک ہونا چاہیے۔ اگر وہی پالیسی اور عوام کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں ناکام رہیں تو ایسے اداروں کے قیام کا بنیادی مقصد ہی متاثر ہو جاتا ہے۔
کیونجھر ضلع میں پیش آنے والا یہ واقعہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین کہہ رہے ہیں: “Sorry Jitu Munda, the system failed you” — یعنی قصور تمہارا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جو کمزور اور غیر تعلیم یافتہ افراد کو سہارا دینے کے بجائے مزید الجھا دیتا ہے۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مالی شمولیت کے دعووں کے باوجود، نچلے طبقے کے لوگ اب بھی بنیادی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے صرف قواعد و ضوابط تک محدود نہ رہیں بلکہ انسانی ہمدردی، رہنمائی اور آسانی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔