کشمیریوں کے اصل درد اور کرب کو بیان کرنے والا منظر
دی مائنڈ ڈاٹ پی کے
خون روتے ہیں نین سرحد پر
روز لٹتا ہے چین سرحد پر
ہم کو معلوم ہیں یہاں کے دکھ
ہم جو رہتے ہیں عین سرحد پر
مسئلہ کشمیر ایک بڑا المیہ ہے ، یہ دیرینہ تنازعہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بٹے ہوئے خاندانوں کے لیے، صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے۔ 1989 کے بعد ہجرت کرنے والے بہت سے خاندان جدائی اور محرومی کا شکار ہوئے، جہاں لوگ اپنے پیاروں سے ملنے، خوشی اور غم بانٹنے سے محروم رہے۔
زیرِ نظر تصویر راجہ لیاقت علی خان کی ہے، جو آج مقبوضہ کشمیر میں انتقال کر گئے۔ اس سانحے کی سب سے دلخراش بات یہ ہے کہ مرحوم کا پورا خاندان 1989 میں ہجرت کر کے آزاد کشمیر منتقل ہو گیا تھا، جبکہ وہ خود مقبوضہ کشمیر میں اکیلے رہ گئے۔

اپنے والدین، بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب سے ملے بغیر انہوں نے زندگی کے 37 طویل سال گزار دیے۔آج جب انہوں نے سری نگر کے ایک ہسپتال میں آخری سانس لی، تو ان کے پاس کوئی اپنا موجود نہ تھا۔ ان کے بھائی اور دیگر اہلِ خانہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب کھڑے، اپنے پیارے کے آخری دیدار کو ترس رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جنازہ کیرن کے مقام پر دریا نیلم کے اُس پار اس لیے رکھا گیا تاکہ دور کھڑے اپنے عزیز ان کی آخری جھلک دیکھ سکیں۔
یہ منظر صرف ایک تصویر نہیں، بلکہ ایک ایسی بے بسی کی داستان ہے جسے لفظوں میں مکمل بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہ صرف ایک انسان کی کہانی نہیں، بلکہ ان ہزاروں بچھڑے خاندانوں کا نوحہ ہے جو سرحدوں کے بیچ قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس کرب ناک منظر نے جہاں کشمیریوں کے زخم پھر سے تازہ کردیئے وہیں یہ منظر انسانی حقوق کے چیمپیئن بنے اداروں اور رہنماوں کے ضمیر جھنجھوڑ رہا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے جہاں ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے وہیں ہزاروں خاندان آج بھی ایک ہی وطن میں رہتے ہوئے بھی آپس میں نہیں مل سکتے ہیں اس کی وجہ کنٹرول لائن ہے جو پاکستان اور بھارت نے اس خطے پر کھینچی ہے اور اس لائن کی وجہ سے کشمیری خاندان سات دہائیوں سے بچھڑے ہوئے ہیں ۔
ٹُکڑے کیے گٸے میرے سارے وجود کے
کشمیر تھا میں دوستو ، بانٹا گیا مجھے