دارالعلوم جامعہ سراج العلوم
مظفر آباد۔۔دی مائنڈڈاٹ پی کے
متحدہ جہاد کونسل نے مقبوضہ کشمیر کےجنوبی ضلع شوپیاں میں دارالعلوم جامعہ سراج العلوم پر چھاپے اور اسے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور کالے قانون کے تحت غیر قانونی ادارہ قرار دیے جانے کی شدید مذمت کی ہے ۔ ترجمان متحدہ جہاد کونسل سید صداقت حسین نے کہا ہے کہ قابض بھارتی انتظامیہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی و دینی تعلیمی اداروں کو براہ راست نشانہ بنا کر ہندوتوا نظریے کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کشمیری مسلمانوں کی مذہبی، دینی اور تہذیبی شناخت کو مٹانا اور اس خطے کو ایک ہندو ریاست کی شکل دینا ہے۔”گھر واپسی” جیسے منصوبوں کے ذریعے ہندوانہ تہذیب و تمدن کو فروغ دے کر ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کے خلاف کارروائی محض ایک مدرسے کے خلاف اقدام نہیں بلکہ یہ مقبوضہ کشمیر کے تمام دینی اداروں کے خلاف ایک خطرناک آغاز ہے۔ اگر اس ظلم کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں کوئی بھی دینی ادارہ، خواہ وہ کسی بھی مسلک یا جماعت سے وابستہ ہو، محفوظ نہیں رہے گا۔
ترجمان سید صداقت حسین نے کہا ہے کہ ایک طرف غیر کشمیری افراد کو جموں و کشمیر کی شہریت دے کر مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مذہبی اداروں کو نشانہ بنا کر کشمیری مسلمانوں کی مذہبی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی قیادت طاقت کے زور پر یہ تمام اقدامات کر رہی ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر و استبداد پر مبنی پالیسیاں ہمیشہ سنگین نتائج کا باعث بنتی ہیں۔پاکستان اور او آئی سی کو چاہیے کہ وہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف موثر اور ٹھوس اقدامات کریں۔ بھارت کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ کشمیری عوام تنہا نہیں ہیں بلکہ پوری امت مسلمہ ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایسے مذموم اقدامات نہ صرف کشمیری عوام کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو یہ خطے میں بدامنی اور کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا سبب بنیں گی۔