تحریر ۔۔۔خالد حسین تاج
دی مائنڈڈاٹ پی کے
سندھ کے علاقہ خیرپور کے ہونہار نوجوان اظہر میمن کی کہانی آج امید کی ایک خوبصورت مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ ایک عام نوجوان جس نے کراچی یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا، مگر حالات کی سختیوں نے اس کے خوابوں کو تھامنے کی کوشش کی۔
جب اس کی درد بھری ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو بہت سے لوگوں نے اسے دیکھا، مگر فرق وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کوئی دل سے سن لے۔ عطا اللہ تارڑ نے نہ صرف ویڈیو دیکھی بلکہ عملی قدم اٹھاتے ہوئے اسے اسلام آباد مدعو کیا۔

ملاقات کے دوران جس انداز میں انہوں نے اس نوجوان کی عزت افزائی کی، اپنی کرسی پر بٹھایا، حوصلہ دیا اور ملازمت کی یقین دہانی کروائی، یہ صرف ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے
کہ اگر نیت ہو تو اختیار کو انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایسے واقعات معاشرے میں امید کی کرن جگاتے ہیں۔ ہمیں صرف تنقید تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایسے مثبت کرداروں کو بھی سراہنا چاہیے۔
نوٹ: مجھے 2023 کا توشہ خانہ کیس اچھی طرح یاد ہے۔ جب بھی عطا اللہ تارڑ عدالت آتے تھے تو وہاں ایک کھلی کچہری کا سا منظر ہوتا تھا۔ لوگ اپنی فریاد لے کر ان کے پاس پہنچتے، اور وہ موقع پر ہی مختلف محکموں میں کالز کر کے ان کے مسائل حل کروانے کی کوشش کرتے۔ اکثر لوگوں کے کام وہیں ہو جاتے تھے۔
اس پورے عرصے میں میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے کسی سے یہ پوچھا ہو کہ آپ کہاں سے آئے ہیں، آپ کا تعلق کس سیاسی جماعت، علاقے یا برادری سے ہے۔ ہمارے ہاں اکثر سیاستدان اپنے حلقے یا برادری تک محدود رہتے ہیں، مگر ان کے پاس آنے والا ہر شخص پہلے ایک انسان ہوتا تھا—اور اسی بنیاد پر اس کی مدد کی جاتی تھی۔
پچھلے چھ سال میں میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے۔ میرے نزدیک ایسے مخلص اور متحرک سیاسی ورکر کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے نظام کا اثاثہ ہوتے ہیں۔