آزاد کشمیر کاضلع فاروڈ کہوٹہ حویلی وزیر اعظم کاآبائی علاقہ ہے
تحریر: جمیل صدیقی
دی مائنڈڈاٹ پی کے

پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر، خصوصاً ضلع حویلی کی حالت زار اب کسی حادثے یا وقتی بحران کا نام نہیں رہی، بلکہ یہ ایک مستقل نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے ایسا نظام جس میں مسائل پیدا نہیں ہوتے بلکہ پیدا کیے جاتے ہیں، اور پھر انہی مسائل پر سیاست کی فصل اگائی جاتی ہے۔ آٹے جیسی بنیادی ضرورت کا ناپید ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہاں ریاست موجود تو ہے، مگر صرف فائلوں اور تقاریر میں۔ زمین پر عوام آج بھی روٹی، علاج، تعلیم اور انصاف کے لیے دربدر ہیں۔
تعلیم کے شعبے کو اگر دیکھا جائے تو طنز خود بخود الفاظ کا روپ دھار لیتا ہے۔ دو ہزار پانچ کے ہولناک زلزلے نے تعلیمی اداروں کی عمارتیں تباہ کیں، مگر لگتا ہے کہ ان عمارتوں کے ساتھ حکمرانوں کی ترجیحات بھی دفن ہو گئیں۔ آج دو دہائیاں گزرنے کو ہیں، مگر وہ اسکول تاحال تعمیر نہ ہو سکے۔ معصوم بچے اور بچیاں کھلے آسمان تلے، پتھروں اور زمین پر بیٹھ کر علم حاصل کرنے کی نعمت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ شاید یہی وہ جدید تعلیمی ماڈل ہے جسے قدرتی ماحول میں تعلیم کا نام دے کر پیش کیا جا سکتا ہے!
ضلع حویلی کے گرلز اسکولوں کی صورتحال تو اس سے بھی زیادہ قابلِ فخر ہے۔ مستقل اساتذہ کی اکثریت گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہی ہے گویا یہ کوئی ملازمت نہیں بلکہ ایک اعزازی وظیفہ ہو۔ اور تعلیم کا مقدس فریضہ؟ وہ دس دس ہزار روپے ماہانہ کے عوض نان کوالیفائیڈ بے روزگار لڑکیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ یعنی ایک طرف ریاست تنخواہیں بانٹ رہی ہے، دوسری طرف علم بانٹا جا رہا ہے مگر دونوں کا معیار یکساں طور پر مشکوک ہے۔ یہ ہے وہ تعلیمی انقلاب جس پر شاید پالیسی ساز فخر محسوس کرتے ہوں!
صحت کے شعبے کی حالت بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ ہسپتال، جو زندگی بچانے کے مراکز ہونے چاہئیں، اب موت کے انتظار گاہ بن چکے ہیں۔ نہ ڈاکٹر دستیاب، نہ ادویات، اور نہ ہی کوئی جواب دہی۔ مریض اگر زندہ بچ جائے تو اسے معجزہ سمجھا جاتا ہے، اور اگر خدانخواستہ کچھ ہو جائے تو اسے قسمت قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔
سڑکوں کی حالت پر بات کرنا بھی ایک طرح کا مذاق لگتا ہے۔ یہ سڑکیں نہیں بلکہ موت کے کنویں ہیں، جہاں ہر سفر ایک جوا ہے۔ سڑکوں پر تعینات قلی اعلیٰ آفیسران اور سیاسی شخصیات کے گھر میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں اسی طرح کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبے ادھورے چھوڑ دیے گئے، ٹھیکیدار غائب، اور حکام خاموش۔ شاید احتساب کا نظام بھی انہی سڑکوں کی طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
ہر گاؤں، ہر وارڈ، ہر یونین کونسل میں سڑکوں، واٹر سپلائی اور دیگر بنیادی سہولیات کے نام پر لاکھوں روپے کی سکیمیں تقسیم کی گئی ہیں مگر صرف کاغذوں میں۔ زمین پر نہ سڑک ہے، نہ پانی، نہ کوئی سہولت۔ البتہ سیاسی چمچوں کے گھروں میں ترقی کے آثار ضرور نظر آتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کے نام پر بننے والی ہر سکیم دراصل مخصوص جیبوں کی زینت بننے کے لیے ہوتی ہے۔

محکمہ جنگلات کا حال تو اور بھی دلچسپ ہے۔ سرسبز جنگلات اور اراضی جنگلات کو ذاتی ملکیت سمجھ کر سستے داموں بندر بانٹ کیا جا رہا ہے۔ سیاسی سفارشی افسران نے جنگلات کو ایسے تقسیم کرنا شروع کر رکھا ہے جیسے یہ ان کی وراثتی جاگیر ہو۔ اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے، اور اعلیٰ احکام تک اس کا حصہ بھی پہنچ رہا ہے۔ یعنی کرپشن بھی اب ایک منظم نظام کے تحت چل رہی ہے باقاعدہ شیئرنگ فارمولا کے ساتھ!
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے منصوبے بھی اپنی اصل روح کھو چکے ہیں۔ عزت دار بزرگ خواتین کو لمبی قطاروں میں کھڑا کر کے ان کی تذلیل کی جاتی ہے، جبکہ اصل مستحقین کے بجائے پسندیدہ افراد کو نوازا جاتا ہے۔ گویا غربت کا خاتمہ نہیں، بلکہ عزتِ نفس کا خاتمہ مقصد بن چکا ہے۔
انصاف کا نظام؟ وہ تو شاید کسی میوزیم میں رکھ دیا گیا ہے۔ یہاں انصاف خریدنا پڑتا ہے، اور اگر آپ کے پاس قیمت ادا کرنے کی سکت نہیں تو آپ کے لیے دروازے بند ہیں۔ آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ طاقتور کے لیے قانون نرم، اور کمزور کے لیے سخت یہی اس نظام کا بنیادی اصول بن چکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ حکومت، یہ اسمبلی، یہ ووٹ، یہ الیکشن آخر کس لیے ہیں؟ کیا یہ واقعی عوامی خدمت کے لیے ہیں یا صرف ایک ایسا ڈرامہ ہے جس میں کردار بدلتے رہتے ہیں مگر کہانی وہی رہتی ہے؟ برادریوں کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنا، نفرت کو ہوا دینا، اور پھر اسی نفرت پر سیاست کرنا یہ سب کچھ ایک سوچا سمجھا کھیل معلوم ہوتا ہے۔
طنز کی انتہا یہ ہے کہ اس سب کے باوجود گڈ گورننس کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ اگر یہی گڈ گورننس ہے تو پھر بدترین حکمرانی کی تعریف شاید لغت میں موجود ہی نہیں۔ عوام بھوک، بیماری، جہالت اور ناانصافی کا شکار ہے، جبکہ حکمران کامیابی کے جشن منا رہے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ اس ملبے پر کھڑے جھوٹے دعووں کو پہچانا جائے، سوال اٹھائے جائیں، اور جواب طلب کیے جائیں۔ کیونکہ اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی، تو کل یہی خاموشی ہماری تقدیر لکھ دے گی اور اس وقت شاید احتجاج کرنے کے لیے آواز بھی باقی نہ رہے۔