کشمیریوں کے اصل درد اور کرب کو بیان کرنے والا منظر
تحریر: محمد اقبال میر

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایک دریا کے دونوں کناروں پر کھڑے لوگ ایک دوسرے کو دیکھ تو سکتے ہوں، مگر چھو نہ سکیں؟ آواز دے سکتے ہوں، مگر سن نہ سکیں؟ یہ کوئی کہانی نہیں، یہ کشمیر ہے… اور یہ درد حقیقت ہے۔
نوے کی دہائی مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے وقت بھی مٹا نہیں سکا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گھروں کے دروازے تو کھلے رہتے تھے، مگر ان میں رہنے والے بچھڑ جاتے تھے۔ جب مائیں اپنے بیٹوں کو دیکھتے دیکھتے کھو دیتی تھیں اور بھائی ایک دوسرے کے جنازوں میں شریک ہونے سے بھی محروم رہ جاتے تھے۔ وادی کے گلی کوچے صرف راستے نہیں رہے تھے، وہ ماتم کدے بن چکے تھے۔
اس دور کی سب سے تکلیف دہ تصویر وہ معصوم چہرے ہیں، جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیے تھیں، مگر وہ پتھر اٹھائے کھڑے تھے۔ یہ ان کا انتخاب نہیں تھا، یہ حالات کا جبر تھا۔ جب انصاف بندوق کی نالی سے جھانکے، تو قلم خود بخود ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔
کنن پوش پورہ جیسے واقعات صرف تاریخ کے اوراق نہیں، بلکہ وہ چیخیں ہیں جو آج بھی فضا میں گونجتی ہیں۔ یہ وہ زخم ہیں جو وقت کے ساتھ بھرتے نہیں، بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تازہ ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا ہوا، سوال یہ ہے کہ کیا کبھی انصاف ہوا؟
پھر ایک وقت آیا جب گولیوں کی آواز کچھ مدھم ہوئی۔ سرحد پر جنگ بندی ہوئی اور امید کی ایک دھندلی سی لکیر نظر آئی۔ بس سروس چلی، تجارت شروع ہوئی، بچھڑے لوگ ملے… مگر سب نہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اس “امن” کے حصے میں نہ آ سکے۔ نوے کی دہائی میں بچھڑنے والے ہزاروں خاندان آج بھی اسی انتظار میں ہیں ایک ایسے انتظار میں جس کی کوئی تاریخ نہیں۔
اور پھر زندگی اپنی بے رحم سچائی دکھاتی ہے۔
کبھی خبر آتی ہے: “ماں انتقال کر گئی
کبھی اطلاع ملتی ہے: “بھائی اب نہیں رہا
اور آپ صرف خبر سنتے ہیں۔ نہ جنازے میں جا سکتے ہیں، نہ آخری دیدار کر سکتے ہیں۔

کیرن کا وہ منظر کسی فلم کا سین نہیں تھا۔ دریا کے ایک کنارے کھڑے لوگ اپنے پیارے کی میت کو دیکھ رہے تھے۔ ہاتھ اٹھتے تھے، مگر فاصلہ کم نہ ہوتا تھا۔ آنکھیں بھیگتی تھیں، مگر قدم آگے نہ بڑھتے تھے۔ کیونکہ درمیان میں صرف پانی نہیں تھا… ایک خونی لکیر تھی۔
سوچیں، اس لمحے پر کیا گزرتی ہوگی؟
ایک طرف بھائی کی میت، دوسری طرف خونی رشتے مگر دونوں کے درمیان فاصلہ ایسا جیسے صدیوں کا ہو۔ نہ کندھا دیا جا سکا، نہ آخری سلام۔ صرف خاموشی… اور ایک ایسا درد جو لفظوں میں بیان نہیں ہو سکتا۔
یہ صرف ایک کہانی نہیں، یہ ہزاروں گھروں کی حقیقت ہے۔
کہیں ایک بیٹا جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے، جس کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ آزادی کی بات کرتا تھا۔ کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کی راہ دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ کہیں ایک بہن اپنے بھائی کی آواز سننے کو ترستی رہ جاتی ہے۔
دنیا بدل رہی ہے، نقشے بدل رہے ہیں، جنگیں نئی شکلیں اختیار کر رہی ہیں۔ مگر کشمیر کا دکھ وہیں کا وہیں کھڑا ہے خاموش، مگر زندہ۔
دنیا امن کی بات کرتی ہے، مگر امن صرف معاہدوں سے نہیں آتا۔ امن تب آتا ہے جب ایک بیٹا اپنی ماں کے جنازے میں شامل ہو سکے۔ جب ایک بھائی اپنے بھائی کو کندھا دے سکے۔ جب ایک دریا صرف دریا ہو، سرحد نہ ہو۔
کشمیر کا مسئلہ صرف زمین کا نہیں، انسانوں کا ہے۔ جب تک ان انسانوں کے زخم نہیں بھرے جائیں گے، تب تک کوئی بھی “امن” ادھورا رہے گا۔
اور شاید اسی لیے کشمیر میں سب سے لمبی سرحد زمین پر نہیں، دلوں کے درمیان کھینچی گئی ہے۔