تحریر: محمد اقبال
دی مائنڈڈاٹ پی کے
ایران کی موجودہ جیو پولیٹیکل حکمتِ عملی اور ’آبنائے ہرمز‘ کی اہمیت کو اسٹرٹیجک تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک خطے کی جغرافیائی کشمکش نہیں بلکہ عالمی بساط پر طاقت کے توازن کی ایک نئی جہت بن کر ابھری ہےِ۔ایران، جس کا جغرافیہ ایک ’عالمی شہ رگ‘ بن کر سامنے آیا ہے، آج محض ایک ریاست نہیں بلکہ بین الاقوامی سیاست کا وہ اسڑٹیجک مرکز ثقل بن چکا ہے جہاں سے گزرنے والی لہریں پوری دنیا کی معیشت کی سانسیں دبوچے نظر آتی ہیں۔
جنوری اور مارچ 2026 میں امریکی اور اسرائیلی افواج کی ایرانی سرزمین پرکھلی فوجی جارحیت کے خلاف ایران نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل اپنے فطری حقِ دفاع کو جس مہارت سے ’آبنائے ہرمز‘ کی جغرافیائی حساسیت کے ساتھ پیوست کیا ہے، اس نے اسے ایک علاقائی کھلاڑی کے درجے سے بلند کر کے ایک ایسی عالمی طاقت بنا دیا ہے جو بین الاقوامی معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ایران نے اپنی سمندری حدود میں اس حق کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز‘ محض ایک آبی گزرگاہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ’اقتصادی شریان‘ ہے جس پر تہران کا خود مختار پہرا عالمی توازن کا ضامن ہے۔
ایران کی یہ دفاعی تبدیلی اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے کہ 21 ویں صدی میں طاقت کا مرکز ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیروں سے منتقل ہو کر ’چوک پوائنٹ پاور‘ کے اس نظریے میں سما گیا ہے، جہاں کسی ایک آبی گزرگاہ کی بندش پوری دنیا کے معاشی ڈھانچے کو لرزہ براندام کر سکتی ہے۔
جدید سیاسی مفکرین فیئرل اور نیومین کے’چوک پوائنٹ پاور‘ کے نظریات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایران کا یہ فیصلہ کہ عالمی توانائی کی سلامتی اور اس کی اپنی قومی خودمختاری اب ایک ہی وحدت کے دو رخ ہیں، ’آبنائے ہرمز‘ ایک ایسا اسٹرٹیجک اثاثہ ثابت ہوا ہے جس نے روایتی جنگی ہتھیاروں کی اہمیت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
ایران نے دنیا پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اس کی علاقائی سالمیت کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ براہِ راست عالمی صنعتی ممالک اور عالمی حکمرانی کے معاشی استحکام پر ضرب لگانے کے مترادف ہوگی۔ گویا یہ ثابت ہوا کہ ایران کی علاقائی سالمیت کو چیلنج کیا جائے گا تو اس کی ارتعاش براہِ راست عالمی منڈیوں کے اعصاب پر محسوس ہو گی۔

ایران کی اس طاقت کی عملی تصویر ہمیں اقوامِ متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں کی ان رپورٹس میں بھی ملتی ہے جو بتاتی ہیں کہ کس طرح محض ایک ماہ کے اندر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 70 ڈالر سے 120 ڈالر تک جا پہنچی اور امریکی و یورپی اسٹاک مارکیٹس میں 10 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ دیکھی گئی۔ یہ اعداد و شمار محض معاشی اشاریے نہیں بلکہ اس ناگزیر حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی معیشت اب ایران کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کر کے سانس لینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اعداد و شمار خاموش زبان میں جو کہانی سناتے ہیں وہ کسی بھی جنگی نعرے سے زیادہ خوفناک ہے۔
ایران کے نئے رہبرِ معظم سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کا حالیہ افتتاحی خطاب بھی اس عزمِ صمیم کا اظہار ہے کہ ایران اپنے شہید اسلاف کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے اس آبی راستے کو اپنے دشمنوں کے خلاف ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتا رہے گا، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ایرانی انتظام کی مرکزی حیثیت کو عالمی سطح پر مضبوط کرتا ہے۔
ان کا یہ انتباہ کہ مخالفین کی کوئی بھی غلطی عالمی توانائی کے بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، دراصل اس اسٹرٹیجک حقیقت کا بیان ہے کہ جیو پولیٹکس کے اس کھیل میں ایران کے پاس وہ مہرہ موجود ہے جو عالمی معیشت کی پوری بساط کو لپیٹنے کی طاقت رکھتا ہے۔
قانونی طور پر بھی اگر دیکھا جائے تو 1982 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر اور 1996 کی توثیق کے بعد ایران ایک ایسی ساحلی ریاست کے طور پر ابھرا ہے جس کا اپنی حدود اور تمام گزرگاہوں پر مکمل خود مختار حق ہے۔
90 ناٹیکل میل لمبی اور محض 21 میل چوڑی یہ تنگ گزرگاہ، جو ایران اور عمان کے پانیوں میں منقسم ہے، محض ایک جغرافیائی اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسی قدرتی فصیل ہے جس کے سائے میں ایران اپنی بقا اور عالمی سیاست کے نئے اصول طے کر رہا ہے۔ یہ گزرگاہ اب محض پانی کا راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک ’اسٹریٹجک خندق‘ ہے۔
اس آبی گزرگاہ کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں اپنی جگہ، مگر حقیقت یہی ہے کہ اس کی لہروں میں چھپی تڑپ آج کے دور کی سب سے بڑی اسٹریٹجک تعبیر بن چکی ہے۔یہ بات امریکا اور اسرائیل سمیت ساری عالمی طاقتوں کی سمجھ میں بھی آ گئی ہے کہ ایران نے اپنی جغرافیائی مجبوری کو اپنی سب سے بڑی طاقت میں بدل دیا ہے۔ آج ’آبنائے ہرمز‘ کا سکوت یا اس میں اٹھنے والی لہریں، دونوں ہی عالمی سیاست کے مستقبل کا فیصلہ کرتی نطر آ رہی ہیں۔ یہ ’چوک پوائنٹ‘ محض ایک راستہ نہیں، بلکہ وہ مقام ہے جہاں طاقت، قانون اور جغرافیہ مل کر ایک نئی عالمی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
روایتی بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے، خاص طور پر نکاراگوئے بمقابلہ امریکا 1986 کے تاریخی فیصلے کے تحت جارحیت کا شکار ہونے والی ریاست کو ایسے حملہ آوروں کو روکنے اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متناسب اور ضروری اقدامات کرنے کا پورا پورا حق دیتے ہیں۔
امریکا اسرائیل حملوں کے جواب میں ایران کے دفاع نے یہ بات کھل کرواضح کردی ہے کہ ایران ایسی طاقت بن گیا ہے جو اب عالمی اقتصادی حساب کتاب کو بھی بدل سکتا ہے۔ ایران کو یہ حقیقت معلوم تھی کہ جس طرح ایرانی معیشت تیل کی آمدنی پر انحصار کرتی ہے، ویسے ہی مغرب اور مشرق کی صنعتی اورابھرتی ہوئی معیشتیں تیل، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور تیارشدہ اشیا کی محفوظ، بغیر رکاوٹ کے گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ پر ہی منحصر ہیں۔ عالمی معیشت کا یہ بہاؤ یقیناً چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی یونین کی معیشتوں کے لیے ایک اہم ’لائف لائن‘ بناتا ہے۔

ایران کی اس میدان میں برتری کو مزید تقویت دینے والی بات یہ تلخ حقیقت بھی ہے کہ عام خیال کے برعکس، اس آبی راستے کا کوئی قابل عمل آپریشنل متبادل بھی موجود نہیں ہے۔ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات میں موجودہ پائپ لائنیں خام تیل کے حجم کا صرف ایک چھوٹا حصہ منتقل کرسکتی ہیں، جبکہ ایل این جی کے لیے کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔
قطر، جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی پیدا کرنے والا ملک ہے، اپنی برآمدات کے لیے 100 فیصد طور پر’آبنائے ہرمز‘ کا ہی استعمال کرتا ہے۔ یہ جغرافیائی سیاسی حقیقت ایران کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ نہ صرف توانائی کے بہاؤ پر اثر انداز ہو بلکہ دنیا کی بڑی صنعتی طاقتوں کے بنیادی معاشی استحکام کو بھی اپنی مٹھی میں بند کرسکے۔
بین الاقوامی برادری، خاص طور پر توانائی استعمال کرنے والے ممالک خود کو اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کر سکتے۔ کئی ممالک، جن میں نیٹو کے رکن یورپی ممالک اور ایشیائی طاقتیں شامل ہیں، نے ’آبنائےہرمز‘ پر اپنے بھاری انحصار کے باوجود امریکی قیادت میں کسی بھی فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے جان بوجھ کرانکار کیا ہے۔
یہ انکار اور خاموشی ایران کی پوزیشن کی قانونی حیثیت کو اور امریکی و اسرائیلی جارحیت کوغیر قانونی تسلیم کرنے کا واضح ثبوت ہے، اس لیے امریکا کو چاہیے کہ وہ یہاں اپنی اس جارح غلطی اور ایران کی ’چوک پوائنٹ پاور‘ کو تسلیم کرے تاکہ دُنیا کی معاشی سانسیں بحال ہو سکیں۔