گرین لینڈ سے 139 ارب ٹن برف غائب، گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے لگے
اسلام آباد:ارسلان سدوزئی۔۔۔۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات شدت اختیار کر گئے ہیں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق یورپ کے 95 فیصد علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب آرکٹک خطے میں تاریخ کی طویل ترین ہیٹ ویو ریکارڈ کی گئی، جہاں 21 دن تک شدید گرمی برقرار رہی۔ آرکٹک سرکل کے اندر درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا جبکہ ناروے میں 34.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، آئس لینڈ میں برفانی ذخائر کو بڑا نقصان پہنچا جبکہ گرین لینڈ سے تقریباً 139 ارب ٹن برف کے خاتمے کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے عالمی ماحولیاتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سمندری درجہ حرارت بھی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور 86 فیصد یورپی سمندری علاقے شدید میرین ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ 36 فیصد علاقوں میں انتہائی شدت کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔
یورپ میں جنگلاتی آگ نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں 10 لاکھ 34 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاک ہو گیا۔ اس کے ساتھ پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے اور تقریباً 70 فیصد دریا کم بہاؤ کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی سمندروں نے اضافی حرارت کا تقریباً 90 فیصد جذب کر لیا ہے، جس سے سمندری حیات، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی نظام شدید دباؤ میں آ گئے ہیں۔ یورپی سمندروں کا درجہ حرارت مسلسل چوتھے سال ریکارڈ سطح پر برقرار ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رات کے وقت بھی گرمی برقرار رہنے سے انسانی صحت اور نیند متاثر ہو رہی ہے، جبکہ سردی کے دنوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ماہرین نے پالیسی سازوں کو خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں اور فوری و مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔