مارچ تا مئی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیشگوئی، پولن سیزن طویل ہونے کا خدشہ
اسلام آباد: محکمہ موسمیات پاکستان نے مارچ، اپریل اور مئی کے دوران موسم کے حوالے سے پیشگوئی جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مختلف شعبوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور شمالی خیبر پختونخوا میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی کے باعث پنجاب اور خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں میں ربیع فصلوں کے سیزن کا دورانیہ کم ہو سکتا ہے جبکہ فصلوں پر کیڑوں اور بیماریوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول کے قریب یا معمول سے کچھ زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ وسطی اور مغربی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ سندھ، جنوبی بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں بارشیں معمول کے قریب رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ کیچمنٹ ایریاز میں بارشوں کے باعث آبی ذخائر کی سطح بہتر ہونے کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ میدانی علاقوں میں ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہونے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ جیسے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
مزید برآں زیادہ درجہ حرارت کے باعث پولن سیزن معمول سے پہلے عروج پر پہنچ سکتا ہے، خصوصاً اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں۔ پولن سیزن عام مدت سے زیادہ طویل ہونے کا خدشہ ہے جس سے الرجی اور سانس کے امراض میں مبتلا افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ ممکنہ موسمی اثرات سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔