سجاد جماعتی پردیس میں اللہ کو پیارے ہوگئے
تحریر۔۔۔ بن محمد
دی مائنڈ ڈاٹ پی کے
أج مقبوضہ پٹن کی وہ مٹی آج بھیگ گئی ہے آنسوؤں سے، یادوں سے، اور ایک ایسی جدائی کے درد سے جس کا مداوا ممکن نہیں۔ سجاد جماعتی۔ ایک نام نہیں، ایک ہجرت کی داستان تھا۔ انیس سو نوے1990 میں جب وہ اپنے ماں باپ کی دہلیز سے نکلا تھا، تو یہ صرف ایک سفر نہیں تھا یہ اپنے آپ کو قربان کر دینے کا اعلان تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ راستہ واپسی کا نہیں، یہ راستہ جدائی کا ہے، قربانی کا ہے، اور خاموش آنسوؤں کا ہے۔
وہ اپنے گھر کی دہلیز سے نکلا تو ماں کی آنکھوں میں وہ سوال رہ گیا جو آج تک جواب مانگتا ہے: “میرا بیٹا کب لوٹے گا؟” باپ کے لب خاموش تھے مگر دل چیخ رہا تھا۔ اور وہ وہ پلٹ کر شاید دیکھ بھی نہ سکا، کیونکہ اگر ایک بار دیکھ لیتا تو قدم رک جاتے، ہمت ٹوٹ جاتی۔ ہجرت آسان نہیں ہوتی یہ صرف جگہ بدلنا نہیں، یہ اپنے دل کو ٹکڑوں میں چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوتا ہے۔
پردیس کی وہ زندگیاں، کیمپوں کی وہ راتیں،بارڈر پر پتھروں کے ساتھ ٹیک لگاکے سرد زمین پر گزرتے لمحے وہ سب صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنوں کی قربت کھوئی ہو۔ مجاہدین کے کیمپوں میں وہ دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتا رہا، مگر اپنے دل کے زخم کبھی کسی کو نہ دکھائے۔ وہ سب کے لیے سہارا تھا، مگر خود کس کے سہارے جیتا رہا؟ وہ سب کو حوصلہ دیتا رہا، مگر اپنے آنسو کہاں چھپاتا رہا؟
وہ ماں سے دور تھا، اس باپ سے دور تھا جس نے اسے اپنے سائے میں پروان چڑھایا تھا۔ وہ ان گلیوں سے دور تھا جہاں اس کا بچپن بکھرا ہوا تھا۔ مگر اس نے کبھی شکوہ نہیں کیا، کبھی تھکن کا اظہار نہیں کیا۔ اس نے اپنی زندگی کو ایک مقصد کے لیے وقف کر دیا ایسا مقصد جس کے لیے اس نے اپنی خوشیاں، اپنی خواہشیں، اور اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔
اور آج وہ خاموشی سے چلا گیا۔ نہ کوئی آخری دیدار، نہ کوئی الوداعی لمحہ۔ وہ سب کو روتا ہوا چھوڑ گیا ایسا روتا ہوا کہ آنسو بھی شرمندہ ہو جائیں۔ اس کی جدائی صرف ایک انسان کی جدائی نہیں، یہ ایک عہد کے ختم ہونے کا درد ہے، ایک چراغ کے بجھ جانے کا غم ہے۔
وہ چلا گیا، مگر اپنے پیچھے ایک تلخ سوال چھوڑ گیا: کیا واقعی ایسے لوگ اس دنیا میں زیادہ دیر رہنے کے لیے آتے ہیں؟ یا وہ صرف ہمیں جگانے آتے ہیں یہ بتانے کے لیے کہ اصل زندگی قربانی میں ہے، جدائی میں ہے، اور اللہ کی رضا میں ہے؟
آج اس کی یاد رلا رہی ہے، تڑپا رہی ہے، اور یہ احساس دلا رہی ہے کہ اپنوں سے دور مرنا کتنا بڑا درد ہوتا ہے۔ وہ چلا گیا، مگر اپنے ماں باپ کے آنسو، اپنے دوستوں کی سسکیاں، اور اپنی یادوں کی چبھن ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا۔
اللہ تعالیٰ سجاد جماعتی کی مغفرت فرمائے، ان کی ہجرت کو قبول فرمائے، اور انہیں اپنی رحمت کے سائے میں ہمیشہ کے لیے جگہ عطا کرے۔