تحریر ۔۔۔افتخار راجپوت
الحمدللہ کہ کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے کے مصداق، بالآخر وہ سیاسی تماشہ گاہ، جو ہر قاعدے اور قرینے سے عاری آزاد جموں و کشمیر میں چوتھی بار پردھان منتری کی تبدیلی کی آرزو کے نام پر برپا کی گئی تھی، اپنی آخری ہچکی لے کر دم توڑ گئی اور قانون ساز اسمبلی جس کی مدتِ اقتدار اب محض آٹھ ماہ کے نحیف سانسوں تک محدود رہ گئی ہے کے ایوانوں میں چوتھی تبدیلی کے عنوان سے کھیلا جانے والا عدمِ اعتماد کا خفیہ کھیل بالآخر اپنے پردے سے برہنہ ہو کر سامنے آ گیا۔
خطے کے پردھان منترالے کے پد کا کرہِ فال نے سردار محمد یعقوب خان، چوہدری محمد یاسین اور چوہدری لطیف اکبر کے سروں پر گردشِ زمانہ کی طرح چکر کاٹے، مگر بالآخر وہ قرعۂ حکمت و تقدیر پوروو پردھان منتری راجہ ممتاز حسین راٹھور مرحوم کے سپُتر فیصل ممتاز راٹھور کے نام جا نکلا۔ گو کے آٹھ ماہ کی قلیل مدت کے لیے تبدیلی کی کوئی مقتضائے ضرورت بھی مائل نہ تھا اور کرنیلی سرکار کے پردھان منتری انوار الحق سے کارِ سرکار حسبِ سابق بہتر طور پر چل رہا تھا۔ تاہم سیاسی مجبوریوں کی اس گتھی میں جب تبدیلی ناگزیر ٹھہری تو خطے کی فیصلہ ساز بساط پر متمکن پاکستان کی مقتدرہ اور پیپلزپارٹی کی قیادت کا دھنیواد کے کم از کم وہ نام تو اُبھرا جس پر نسلی عناد کے خمیر میں جھلستے بگھے چند افراد کے سوا کوئی دوسری آوازِ اعتراض بلند نہ ہوئی۔
قواعد و ضوابط سے عملاً آزاد جموں و کشمیر اور اس سے پیشتر مہاراجہ گلاب سنگھ جموال کی متحدہ ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبتہا کی عریض سیاسی تاریخ میں سدھرون کہوٹہ کے راٹھور پریوار کا نام کسی شناخت کا محتاج نہیں۔ راجپوتوں کی سوریا ونشی نسل سے تعلق رکھنے والا یہ عظیم النسب خاندان اپنی نسلی و نسبی اساس میں دہلی و بہار کے خطوں تک محیط وسیع، قدیم و جلیل سلطنتِ قنوج کے شاہی پریوار گہڑوالہ کی باوقار میراث سے جا ملتا ہے۔ سنہ 1194ء میں شہاب الدین محمد غوری کے ہاتھوں قنوج کے آخری گہڑوالہ فرمانروا راجہ جے چندر کی شکست کے بعد قرونِ دراز پر محیط اس خاندان کا شاہانہ دور اختتام پذیر ہوا۔ مگر تاریخ کی ساعتیں خاموش کب رہتی ہیں؟
محض تیس برس کے بعد 1226ء میں اسی راجہ جے چندر کی اولاد کے جلیل القدر سُپتر راؤ سیہہ جی معروف بہ سیوجی نے خطۂ راجپوتانہ (راجستھان) میں ریاستِ مارواڑ (جودھ پور) کی بنیاد رکھ کر اپنی موروثی عظمت کو ازسرِنو زندہ کر دیا اور یہ ریاست بالآخر سات سو تیس برس بعد 1949ء میں آزاد ہندوستان سے ہم پیوست ہوئی۔ (راؤ سیوجی ہی کی اولاد نے بعد ازاں راٹھور کا شاہی لقب اختیار کیا۔)
راجپوتانہ کے تاریخی افق پر مارواڑ کے بعد یہی نسبی خانوادہ ریاستِ بیکانیر (1488ء–1949ء) اور ریاستِ کشن گڑھ کا بانی ٹھہرا۔ موجودہ مدھیہ پردیش ہندوستان میں بھی یہی خونِ شاہی پانچ ریاستوں رتلام، سیتاماؤں، سیلانہ، علیراج پور، جھابوا کا خمیر ثابت ہوا۔ اسی عظمت کے تسلسل میں ریاستِ ایڈر (گجرات ہندوستان) اور خرسوان و سرائیکیلہ (جھاڑکنڈ ہندوستان) کے قیام اور راج کا تاج بھی اسی خاندان کے سروں پر سجا۔ علاوہ ازیں راٹھور حکمرانوں نے چھوٹی مگر باوقار ریاستوں جیسے مانڈا (مدھیہ پردیش)، امرت پور (اُتراکھنڈ) اور بَٹ دوارکا (گجرات) پر بھی اقتدار قائم رکھا جن کا ذکر تاریخِ ہند کی سیاسی کتابت میں ہمیشہ معتبر رہے گا۔
ہندوستان کے وسیع و عریض خطّے پر واقع ان راٹھور ریاستوں کی اکثریت نے اپنی دوامی ریاستی ہیئت و وجاہت یعنی اپنی سیاسی و تمدنی شناخت کو ہندوستان کی آزادی تک قائم رکھا تاہم موجودہ منقسم ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبتہا کے خطے میں قائم ہونے والی منفرد راٹھور ریاست اپنے مزاج، نسب اور تاریخی سفر کے اعتبار سے ایک بالکل جداگانہ ظہور تھی۔
یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب جودھ پور کے شاہی پریوار سے علیحدگی اختیار کر کے پہلے کشمیر وادی اور بعدازاں پونچھ کے علاقے میں آ بسنے والے شہزادے راجہ سرجن سنگھ راٹھور جو ایک بزرگِ صوفی کے دستِ بیعت پر تغییرِ مذہب کے بعد راجہ سراج الدین خان راٹھور کہلائے کے وجود کے باعث متحدہ پونچھ کے طویل و عریض خطے پر اولین راٹھور ریاست یا راٹھور راجواڑے کی بنیاد پڑی۔
تاریخی تذکروں کے مطابق، جب وادیِ کشمیر اور پونچھ مغلیہ سلطنت کا حصہ بنے اور یہاں مغلیہ فرمانروائی کا بامِ عروج پر تھا تب 1594ء میں مغل شہزادہ جہانگیر نے براستہ حویلی کشمیر کی جانب کوچ کیا۔ راجہ سراج الدین خان نے اپنے طویل اور پر شکوہ علاقے میں شاہی لشکر کے قیام و طعام کے ایسے پُرشکوہ، منظم اور ریاستی اہتمام کیے کہ شہزادہ جہانگیر کی نگاہِ التفات فوراً اُن پر مرکوز ہو گئی جب جہانگیر پر اُن کا راٹھور خون اور جودھ پور کے شاہی خاندان سے سلسلۂ نسبت منکشف ہوا تو اس نے سراج الدین خان کو پونچھ کا حکمران مقرر کیا اور غالب گمان ہے کہ اسی سعید دم میں راجہ کا اعزاز بھی اُن کے سر پر رکھا گیا۔
باہم ملحوظ رہے کہ مغل بادشاہ اکبر کا واحد زندہ رہ جانے والا فرزند شہزادہ جہانگیر ایک راجپوت ملکہ کی اولاد تھا۔ اُس کی ماں راجکماری ہرکھن چمپاواتی جو داستانی تحریروں میں جودھا بائی کے نام سے مشہور ہیں اکبر سے نکاح کے بعد ملکۂ اعظم مریم الزمانی کہلائیں اور ریاستِ اَمبر (موجودہ جے پور) کے کچھواہا سوریا ونشی فرمانروا راجہ بھرمَل کی بیٹی تھیں۔ اسی شاہی ربط نے جہانگیر کے قلب میں راجپوت امراء کے لیے فطری التفات کو جنم دیا جو راٹھوروں کی بلندیِ نصیب میں ایک خاموش محرّک ثابت ہوا۔
راجہ سراج الدین خان راٹھور کا دورِ حکمرانی 1594ء تا 1645ء پر محیط رہا۔ اُن کی وفات کے بعد اُن کی راٹھور رانی کے بطن سے پیدا ہونے والے فرزند فتح محمد راٹھور نے 1645ء تا 1700ء پونچھ پر حکمرانی کی۔ فتح محمد راٹھور کے دو بیٹے تھے: عبدالرزاق راٹھور جسے ولی عہد منتخب کیا گیا اور معظم خان راٹھور جسے سدھرون کہوٹہ اور علاقۂ باغ کی جاگیر عطا ہوئی جو چونسٹھ گاؤں پر مشتمل تھی۔ فتح محمد کے عہد میں پونچھ نے پہلی بار خالص راج کی منظم ہیئت اختیار کی۔ اُس نے کھکھہ راجگانِ اوڑی سے سرحدوں کی تحدید حدود کی، اندرونی سرکشیوں کو جڑ سے فرو کیا اور ریاستی رقبے کو وسعت بخشی۔ تاہم کشمیر کے مغل صوبیداروں سے اس کے تعلقات مسلسل آویزش کا شکار رہے، حتیٰ کہ وہ ملدیال بغاوت کے آشوب میں شہید ہوا۔
فتح محمد کی شہادت کے بعد سنہ 1700ء میں عبدالرزاق راٹھور تخت نشین ہوئے۔ اُن کے چار بیٹے تھے جن میں سے دو سرینگر میں قتل کر دیئے گئے۔ عبدالرزاق کی 1747ء میں وفات کے بعد، اُن کے کم سن فرزند رستم خان راٹھور کی کم عمری کو غنیمت جان کر وزیر لطیف اللہ ترکھان نے تخت الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ تاہم جب یہ بغاوت آشکار ہوئی تو صوبیدارِ کشمیر نے کشتواڑ کے راجہ اسلام یار خان کو کمک کے لیے روانہ کیا۔ راجہ اسلام یار خان نے سدھرون، کہوٹہ اور باغ کے جاگیردار بقا محمد راٹھور کی اعانت سے بغاوت کو کچل ڈالا، باغی وزیر کو قتل کیا اور رستم خان راٹھور کی کم عمری کے باعث خود پونچھ کا منتظم مقرر بنا اگرچہ سدھرون کہوٹہ جاگیر بدستور بقا محمد راٹھور ہی کے قبضے میں رہی۔
راجہ اسلام یار خان کی گیارہ سالہ منتظمی کے دوران مغلیہ سلطنت کمزور پڑ چکی تھی اور کشمیر سے اس کی گرفت ڈھیلی ہو رہی تھی۔ غالب گمان ہے کہ اسی دور میں وادیِ توی کا زیریں حصہ جس کا مرکز کوٹلی تھا نے بتدریج ایک علیحدہ شناخت اختیار کی اور یہاں ایک اور شاہی نسل منگرال راجپوتوں جو صدیوں سے اس خطے پر نیم خودمختار حکمران تھی اپنی مستقل ریاست قائم کر لی۔ اسی دور کے سیاسی مدوجزر میں کشمیر پر افغان تسلط قائم ہوا اور 1752ء سے 1819ء تک پونچھ درانی سلطنت کے زیرِ اثر رہا۔ چونکہ حکمران خاندان اور رعایا مذہباً ہم آہنگ تھے لہٰذا یہ عہد مغلیہ دَور کی مانند نسبتاً امن و سکون کے سایوں میں لپٹا رہا۔
سنہ 1760ء میں راجہ اسلام یار خان کے انتقال کے بعد پونچھ کا انتظام واپس راجہ رستم خان راٹھور کے سپرد ہوا۔ رستم خان 1786ء تک تختِ پونچھ پر متمکن رہا اور اس نے اپنے عہدِ حکمرانی میں سرینگر کے افغان صوبیدار آزاد خان کو کابل سلطنت کی استدعا پر سرینگر کا محاصرہ کر کے گرفتار کیا جو اُس کی عسکری بصیرت اور سیاسی رسوخ کا نمایاں ثبوت تھا۔ پونچھ پر اس راٹھور راجا کا زمانہ تعمیری جوش، تمدنی نمو اور ریاستی پیش رفت کا اعلیٰ ترین دور شمار ہوتا ہے۔ اسی کے عہد میں وہ شاندار پونچھ قلعہ جس کی بنیاد عبدالرزاق خان راٹھور نے رکھی تھی اپنی تکمیل کو پہنچا اور ریاستی وجاہت کا استعارہ بنا۔
رستم خان کے انتقال کے بعد راجہ شہباز راٹھور نے تخت سنبھالا اور 1792ء تک زمامِ اقتدار اس کے ہاتھ میں رہی۔ اسی کے عہد میں راجوری کے حکمران راجہ کرم اللہ جرال نے پونچھ پر لشکر کشی کی۔ یہ امر یاد رہے کہ راجوری کے جرال حکمران راجہ تاج الدین خان کی بیٹی رحمت النسا بیگم مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور یہی خاتون بعد ازاں شہزادہ معظم بہادر شاہ اول آٹھویں مغل بادشاہ کی والدہ بنیں۔ اسی خاندانی ربط نے جرالوں کو خطے کی ریاستوں سے وقتاً فوقتاً برسرِ پیکار رہنے کا حوصلہ بخشا۔ لیکن پونچھ کے راٹھور اپنے زمانۂ عروج میں اس قدر توانگر اور عسکری طور پر صَلب تھے کہ اُنہوں نے جرالوں کی مغل نسب سے جڑی ہوئی رعونت کی کوئی پروا نہ کرتے ہوئے جنگ کے میدان میں اُنہیں کچل کر رکھ دیا اور ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔
پونچھ کی اس طویل و عریض ریاست میں راٹھور عہدِ حکومت ترقی، فراخی اور خوشحالی کا آئینہ دار تھا۔ انصاف کی بالادستی، ریاستی نظم کی سختی اور رعایا کے ساتھ حسنِ سلوک ان راٹھور حکمرانوں کے امتیازی اوصاف تھے۔ تاہم اس تابناک عہد کو پہلا شدید دھچکا 1798ء میں اُس وقت لگا جب راٹھور خاندان کے حاکم راجہ خان بہادر خان راٹھور کو اُس کے وزیر روح اللہ سانگو جو وزارت سے قبل محض ایک ذاتی خدمتگار تھا اور حقّہ بھرتا تھا مگر پسندیدگی کے باعث راجہ نے اسے وزارت پر فائز کیا تھا نے سرینگر کے افغان صوبیدار عبداللہ خان سے ساز باز کر کے کھانے میں زہر ملا کر قتل کر دیا اور یوں وہ خود پونچھ کا حاکم بن بیٹھا۔
لیکن ریاستی عزت و وقار اتنی سادہ طبع نہ تھی کہ ایک غدار کو دوام میسر آتا۔ کچھ ہی عرصے بعد سدھرون کے جاگیردارِ اعلیٰ راجہ شیر باز خان راٹھور نے اپنے ماتحت سرداروں کی فوجی مدد سے پونچھ پر یلغار کی روح اللہ سانگو کی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور 1808ء تک پونچھ کا اقتدار اپنے قبضے میں رکھا۔ بیماری کے باعث جب اُسے اپنے فرائضِ سلطنت نبھانا دشوار ہوا تو اُس نے اپنے بھائی کو جانشین مقرر کیا۔ مگر یہ جانشین روح اللہ سانگو کے افغان صوبیدار کشمیر شیر محمد خان کی مدد سے دوبارہ حملے میں شکست کھا گیا اور ریاستِ پونچھ پر راٹھور خاندان کے تقریباً 214 برسوں پر محیط تسلسلِ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا البتہ سدھرون کہوٹہ جاگیر بدستور راٹھور خاندان کے زیرِ تصرف رہی۔
روح اللہ سانگو نے پونچھ کے اقتدار پر دوبارہ قبضہ کرنے کے بعد اپنے بیٹے امیر باز کو نام کا حکمران قرار دیا اور خود وزارت کے پردے میں عملاً تمام امورِ حکومت اپنے ہاتھ میں رکھے۔ مگر وہ کبھی بھی پونچھ کے پورے خطے کا تسلط یافتہ حاکم نہ بن سکا کیونکہ اس دوران پونچھ کے اندر زمانۂ آپ راجی کا آغاز ہو چکا تھا۔ مینڈھر و دیگر خطوں پر دُلی اور گھکھڑ قبائل نے اپنی مستقل جاگیریں قائم کر لیں۔ اسی طرح نکیال، راولاکوٹ، باغ اور دیگر علاقوں میں کشمیری، راجپوت، سدھن، ملدیال اور عباسی قبائل نے اپنے اپنے علاقوں میں الگ اجارہ داریاں استوار کر لیں یوں روح اللہ سانگو کا راج صرف پونچھ شہر اور اس کے گرد و نواح تک محدود رہا۔

جب پنجاب میں سکھوں کی حکومت مستحکم ہوئی تو اُنہوں نے ڈوگر خطے کی پہاڑی ریاستوں پر چڑھائی کی۔ پونچھ پر 1812ء اور 1814ء کی مہمات میں اُنہیں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جس کی بنیادی وجہ پہاڑی راستوں سے ناواقفیت، سرینگر کے افغان صوبیدار کی طرف سے بھیجی جانے والی چھاپہ مار فوج کی سخت مزاحمت اور رسد کی ترسیل میں گوناگوں مشکلات تھیں۔
تاہم 1819ء میں حالات نے ایک نیا رُخ لیا۔ خطے کی دیگر پہاڑی ریاستیں سکھ قابو میں آ چکی تھیں اور راجہ گلاب سنگھ کی درُست عسکری حکمتِ عملی کے باعث سکھوں کو پونچھ اور وادیِ کشمیر دونوں پر قبضہ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ روح اللہ سانگو کے بیٹے امیر باز کا اقتدار ختم ہوا اور لاہور میں ایک چِب راجپوت نے دیرینہ عداوت کے بدلے میں اُسے قتل کر دیا۔
خطۂ پونچھ 1819ء تا 1827ء تک پنجاب سلطنت کے تسلط میں رہا اور پھر 1827ء میں بھمبر، کھڑی کھریالی، کوٹلی اور پونچھ کے خطوں کو باہم ضم کر کے چبال جاگیر کی حیثیت سے ایک نئی انتظامی وحدت وجود میں لائی گئی جس کا دارالخلافہ پونچھ ٹھہرا۔ یہ جاگیر پنجاب سلطنت کے وزیرِ اعظم اور مہاراجہ گلاب سنگھ جموال کے چھوٹے بھائی راجہ راجگان دھیان سنگھ کے سپرد کی گئی۔ دھیان سنگھ کی ہلاکت کے بعد اس کا فرزند راجہ ہیرا سنگھ سریرِ آرائے اقتدار ہوا اور اپنے قتل تک حکمران رہا۔ بعدازاں ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبتہا کے قیام کے ساتھ ہی دھیان سنگھ کے دوسرے فرزند موتی سنگھ اور پھر اس کی متوارث نسل اس جاگیر پر متمکن رہی۔ 1947ء کی ریاستی تقسیم کے وقت پونچھ جاگیر پر جموال خاندان کا آخری ڈوگرہ حکمران راجہ شیو رتن سنگھ تھا۔
ریاستِ پونچھ پر اپنی حکمرانی کے خاتمے کے باوجود راٹھور خاندان سدھرون کی وسیع جاگیر پر ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبتہا کی تشکیل تک بدستور اپنی سیادت اور تمکن برقرار رکھے ہوئے تھا اگرچہ ریاستی تشکیل کے نتیجے میں اس جاگیر کا حجم بتدریج سکڑ گیا اور یہ اختیار ذاتی ملکیتی جاگیر کی صورت میں 1947ء تک قائم رہا۔
ریاستی تقسیم کے بعد معرضِ وجود میں آنے والے آزاد جموں و کشمیر کی راج نیتی میں بھی راٹھور خاندان نے مسلم کانفرنس کے وسیلے سے ایک نمایاں اور فعال کردار ادا کیا مگر جلد ہی اسی خاندان کے ایک ممتاز جاگیردار گھرانے کے نوجوان ممتاز حسین راٹھور نے اپنی فطری جسارت اور انقلابی مزاج کے باعث زمانۂ طالب علمی میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف) کی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں عملی سیاست کے تقاضوں کے پیشِ نظر قوم پرستانہ رجحانات ترک کر کے اُنہوں نے مسلم کانفرنس کا دامن تھاما اور 1970ء کے انتخابات میں پہلی کامیابی سمیٹی۔
تاہم منقسم ریاست میں پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کے بعد اُنہوں نے بالآخر پیپلزپارٹی ہی کو اپنا مستقل سیاسی مسکن بنایا اور 1975ء کے انتخابات میں اس کے پلیٹ فارم سے کامیابی حاصل کی بعد ازاں مالیات، جنگلات اور محاصل جیسے اہم محکموں کے ساتھ خان عبدالحمید خان کی کابینہ میں سینئر وزارت اُن کے حصّے میں آئی۔
اپنی پوری سیاسی عمر میں ممتاز حسین راٹھور پر مالی بدعنوانی کا کوئی داغ نہ لگا، وہ مارشل لا کے سیاہ دور میں اپنے نظریاتی موقف پر ثابت قدم رہے اور ضیائی اثرات کی حامل مسلم کانفرنس کی فسطائیت کا بے جگری سے مقابلہ کیا۔
بالآخر خطے میں 1990ء کے عام انتخابات میں اُن کی شاندار کامیابی نے اُنہیں دوبارہ سیاسی مرکزیت عطا کی۔ اپنی حسِ مزاح، عوامی مقبولیت، سیاسی وقار، مالی دیانت اور پیپلزپارٹی پاکستان کی قیادت سے گہرے تعلق کے باعث اُنہوں نے پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر محمد ابراہیم خان کی وزارتِ عظمیٰ کی شدت سے کی جانے والی خواہش پر عملی طور پر خطِ ابطال کھینچ کر 29 جون 1990ء کو آزاد جموں و کشمیر کی اتحادی حکومت کے وزیر اعظم کا منصب سنبھالا جس پر وہ 5 جولائی 1991ء تک فائز رہے۔ مرحوم ممتاز حسین راٹھور کا عہدِ حکومت خطے میں ایک ایسے نئے باب کا آغاز تھا جس میں ہر خاص و عام کو اُن تک براہِ راست رسائی حاصل تھی۔ وہ عوامی مقبولیت، بے تکلف مزاج اور وسیع النظری کے باعث حقیقی معنوں میں ایک عوامی وزیرِ اعظم ثابت ہوئے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خاتمے اور مسلم کانفرنس کی حامی نیز اُسے آزاد جموں و کشمیر کے اقتدار میں لانے کی خواہشمند مسلم لیگ کی سرکار آنے سے ایک نیا سیاسی محاذ کھل گیا۔
اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ اتحادی حکومت کے چند وزراء جن میں پیپلزپارٹی اور لبریشن لیگ دونوں سے تعلق رکھنے والے عناصر شامل تھے نے کھلم کھلا لوٹ مار، بلیک میلنگ اور سیاہ کاری کو اپنا شیوہ بنا لیا۔ مالی بدعنوانی سے مکمل پاک اور ذاتی دیانت کے لیے مشہور ممتاز حسین راٹھور اس بے ضمیری کو گوارا نہ کر سکے، چنانچہ اُنہوں نے پوری ریاستی جرات کے ساتھ قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کر کے نئے انتخابات کی راہ ہموار کی۔
لیکن نئے انتخابات میں پاکستان کی اُس وقت کی مسلم لیگی حکومت نے ریکارڈ دھاندلی کروا کر مسلم کانفرنس کو کامیابی دلوا دی۔ ممتاز حسین راٹھور نے اس انتخابی عمل کو بھرپور انداز میں دھاندلی زدہ قرار دیا اور نئے انتخابات کا مطالبہ کیا۔ نتیجتاً نواز شریف کی حکومت نے اُنہیں گرفتار کر کے وزارتِ عظمیٰ سے برطرف کر دیا جس پر پورے خطے میں ایک نیا سلسلہ احتجاج بھڑک اٹھا اور شدید عوامی دباؤ کے تحت ممتاز حسین راٹھور کو رہا کرنا پڑا۔
لوٹ مار اور بلیک میلنگ کے خلاف اپنی ہی حکومت کو تحلیل کرنا اُن کا جرم شمار ہوا۔ اسی دوران میرپور کے جاٹ اقتدار کے شدید خواہشمند سلطان محمود چوہدری نے مختلف ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے لبریشن لیگ کی نظریاتی بنیادوں کو مسخ کیا اور اُس کے ایک دھڑے سمیت پیپلزپارٹی میں محض وزارتِ عظمیٰ کی اُمید پر شمولیت اختیار کر لی۔ یوں 1996ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی نے اُنہیں وزیر اعظم کے منصب پر بٹھا دیا جب کہ ممتاز حسین راٹھور اپنی بے نیازی، خودداری اور مالی کمزوری کے باعث محض اسپیکر شپ تک محدود رہے۔
راجہ ممتاز حسین راٹھور اپنی سیاسی جسامت، عوامی مقبولیت اور دبنگ شخصیت کے باعث سلطان محمود چوہدری کے لیے مستقل دردِ سر بنے رہے۔ اُن کے چاہنے والوں نے جگہ جگہ بیرسٹر سلطان محمود کے خلاف مظاہرے کیے اور یہ محاذ آرائی اس قدر شدت اختیار کر گئی کہ آخرکار سلطان محمود کو پاکستان میں پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت سے مدد لینا پڑی اور عدمِ اعتماد کے ذریعے ممتاز حسین راٹھور اور ڈپٹی اسپیکر اسرار عباسی کو عہدوں سے برطرف کرایا گیا لیکن وہ دن مظفرآباد کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا یومِ مزاحمت بن گیا جب ممتاز حسین راٹھور کے حامیوں نے شہر کی سڑکوں کو میدانِ احتجاج بنا دیا۔ اسپیکر شپ سے ہٹائے جانے کے بعد راٹھور نے مسلم کانفرنس کے ساتھ بیٹھ کر قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ اسی دوران اُن کے اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے اختلافات بھی پیدا ہوئے جب کہ مسلم لیگ کے سربراہ اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف سے اُن کے مثالی تعلقات استوار ہوئے اور وہ مسلسل سلطان محمود حکومت کے لیے ایک سیاسی چیلنج بنے رہے۔
لیکن اسی مسلسل سیاسی کشمکش کے دوران 1999ء میں ممتاز حسین راٹھور دنیا سے رخصت ہو گئے اور یوں خطے کی سیاسی تاریخ میں عوامی مقبولیت کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ وہ کے۔ ایچ۔ خورشید اور میجر جنرل محمد حیات خان کے بعد تیسرے ایسے حکمران تھے جن کے دامن پر مالی بددیانتی کا نہ کبھی الزام لگا نہ داغ۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ممتاز حسین راٹھور کا نظامِ حیات ہمیشہ اُن کی وکالت اور دوستوں کے تعاون سے چلتا رہا اور وہ اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی مالی آسودگی کے حامل نہ رہے۔ اُن کی وفات کے بعد اُن کے حلقہ انتخاب میں اُن کے بڑے فرزند مسعود ممتاز راٹھور ضمنی انتخاب جیت کر اسمبلی میں پہنچے تاہم 2001ء کے عام انتخابات میں یہ خاندان مالی اور دیگر سیاسی مشکلات کے باعث پیچھے رہ گیا اور اس حلقہ سے چوہدری محمد عزیز کامیاب ہوئے۔
ممتاز حسین راٹھور کی سایہ دار شخصیت سے محرومی اور انتخابی میدان میں لغزش کے بعد راٹھور خاندان طویل عرصہ تک سیاسی تنہائی، حاشیہ برداری اور اضطرابِ اقتدار کا شکار رہا۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے داعی الوداعی کہنے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ ن کی صفوں میں پناہ تلاش کی مگر وہاں بھی انہیں کوئی مؤثر گنجائش نہ مل سکی اور وہ سیاسی خلا کے کناروں پر بھٹکتے رہے۔ اسی گردابِ سیاست کے بیچ 2006ء کے انتخابات آئے جن میں ممتاز حسین راٹھور اور سابق رکنِ اسمبلی محترمہ فرحت راٹھور کے بیٹے فیصل ممتاز راٹھور نے بھی قسمت آزمائی کی مگر کامیابی اُن کے در پر دستک نہ دے سکی۔ تاہم سیاسی شعور اور حکمتِ عملی نے انہیں ایک بار پھر اپنے والد کی مادر جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف مراجعت پر آمادہ کیا جہاں انہوں نے نئی توانائی کے ساتھ سیاسی احیا کیا اور 2011ء کے انتخابات میں اپنے مضبوط حریف مسلم لیگ ن کے وزیر چوہدری محمد عزیز کو شکست دے کر نہ صرف حلقے میں اپنا کھویا ہوا اثر رسوخ بحال کیا بلکہ چوہدری عبدالمجید کی حکومت میں وزارتِ برقیات سنبھال کر ریاستی سیاست میں اپنی مؤثر موجودگی ثبت کی۔
2016ء میں انہوں نے سیاسی بصیرت کے تحت اپنے اتحادی خواجہ طارق سعید کے حق میں دستبرداری اختیار کی، مگر 2021ء کے عام انتخابات میں ایک بار پھر پوری سیاسی قوت کے ساتھ میدان میں اُترے اور چوہدری محمد عزیز کو دوسری مرتبہ ہزیمت سے دوچار کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وزرائے اعظم سردار قیوم نیازی اور سردار تنویر الیاس خان کی دو دو نو ماہ کی مختصر حکومتوں کے دوران فیصل راٹھور حزبِ اختلاف کی صفوں میں رہے۔ مگر تیسرے غیر جماعتی وزیراعظم انوار الحق کے منصب سنبھالنے کے بعد انہیں حکومت میں شامل کیا گیا اور وہ وزیر برائے مقامی حکومت و دیہی ترقی کے طور پر اُبھرے۔
آج موجودہ قانون ساز اسمبلی میں چوتھی بار وزارتِ عظمی کی تبدیلی کے عمل نے سیاسی منظرنامے کو ایک بار پھر تہہ و بالا کر دیا ہے اور اس بھنور سے اُبھرنے والے ناموں میں فیصل ممتاز راٹھور اپنی جماعت کی باقاعدہ نامزدگی کے ساتھ نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ مسلم لیگ ن اور سب کے سجن سب کے متر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے مضبوط سیاسی دھڑوں کی حمایت بھی حاصل کر چکے ہیں۔ یوں اُن کی وزارتِ عظمیٰ کی مسند تک رسائی بشرطِ حیات تقریباً نوشتۂ دیوار بن چکی ہے۔
تاہم اصل امتحان ابھی باقی ہے کہ برصغیر کی صدیوں پر محیط راجپوتانہ شاہی ریاستوں کی میراث رکھنے والی راٹھور نسل کا یہ درخشندہ چشم و چراغ، ماضی کے راج گھرانے کا وارث، عوامی مقبولیت، مالی پاکیزگی اور جواں مردی کے پیکر راجہ ممتاز حسین راٹھور کا خوش شکل، خوش گفتار، خوش اطوار، خوش پوش اور تعلیم یافتہ فرزند فیصل ممتاز راٹھور اپنی حسبی روایت، خاندانی ساکھ اور اپنے والد کی سیاسی وراثت کو کس وقار اور تدبیر کے ساتھ آگے بڑھا سکے گا؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا وہ اس خطے کو جو اس وقت سیاسی انتشار، اخلاقی تنزلی، تہذیبی انحطاط اور مالی بدعنوانی کے گہرے گڑھے میں دھنسا ہوا ہے صرف آٹھ ماہ یا اس سے کچھ زائد مدت میں کسی سمت، کسی وقار اور کسی استحکام کی طرف لے جا پائے گا؟