بجلی چوری،اوپرسے اوربلنگ،پاورڈویژن میں 8ارب کی بے ضابطگیاں پکڑی گئیں
نیپرا میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے بجلی کے بنیادی ٹیرف کے تعین سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں صنعتی نمائندوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
سماعت کے دوران ایف پی سی سی آئی کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ پاور پرچیز پرائس (PPP) کے تعین میں صنعتکاروں سے مشاورت ضروری ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے تنویر باری نے کہا کہ سی پی پی اے کی مجوزہ قیمتوں سے نہیں لگتا کہ بجلی سستی ہو سکے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاور پرچیز پرائس میں ڈالر ایکسچینج ریٹ کو غیر ضروری طور پر نہ بڑھایا جائے۔
سی پی پی اے نے سال 2026 کے لیے پاور پرچیز پرائس کا تخمینہ 25 روپے 69 پیسے سے 26 روپے 53 پیسے فی یونٹ تک پیش کیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں یہ قیمت 25 روپے 98 پیسے فی یونٹ رہی۔ نئے بنیادی ٹیرف کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔
ادارے نے پاور پرچیز پرائس کے لیے پانچ منظرنامے پیش کیے ہیں، جو بجلی کی طلب، ڈالر ریٹ، فیول پرائسز اور مہنگائی سمیت مختلف معاشی عوامل کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔ یہ منظرنامے 280 روپے سے 300 روپے فی ڈالر کے درمیان شرحِ مبادلہ کو مدنظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ مہنگائی کا تخمینہ 7.74 فیصد جبکہ کائیبور کے لیے 11 فیصد رکھا گیا ہے۔
نیپرا کیس کا فیصلہ وفاقی حکومت کو ارسال کرے گا، اور حکومتی منظوری کے بعد نئے بنیادی ٹیرف کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت یکم جولائی 2025 سے گھریلو صارفین کے لیے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 15 پیسے فی یونٹ کمی کر چکی ہے۔ سابقہ روایت کے برعکس اب بنیادی ٹیرف کا اطلاق جولائی کے بجائے جنوری سے کیا جائے گا۔