اسلام آباد ۔۔
سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ علامہ آغا سید حسین مقدسی نے کہا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں نظام عدل و انصاف کو زیردست بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آئین میں ترامیم کا مقصد ذاتی و جماعتی کے بجائے فقط قومی مفاد ہونا چاہیئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مولا علی کے مطابق عدل و انصاف کی بالادستی ریاستوں کے وجود کی ضمانت ہے۔ مومن مستقبل پر نظر رکھتا ہے، عارضی فائدے کی خاطر طویل مدتی قومی مفادات کو پس پشت ڈالنا درست نہیں۔آئینی ترمیم کی منظوری میں وسیع مشاورت سے اجتناب اور تحفظات کو نظر انداز کیا گیا۔
سربراہ ٹی این ایف جے نے مزید کہا ہے کہ مکتب تشیع کو آئینی حقوق سے محروم نہ کیا جائے، جمہوریت کا تسلسل تمام اکائیوں کے حقوق کی فراہمی میں مضمر ہے۔ دختر رسول سیدہ فاطمہ زہرا نے عدل و انصاف کے تحفظ اور ظلم و جبر سے بیزاری کا لازوال درس دیا۔