مقصود منتظر
کل اڈیالہ جیل کے قریب ناکے پر عمران خان کی بہنوں کو روکا گیا ۔۔۔ تینوں کو بھائی سے ملنے کی اجازت نہیں ملی ۔۔۔ جس کے بعد کارکن مشتعل ہوئے اور ناکے پر دھرنا شروع کردیا ۔۔۔ یہ پہلی نہیں ہوا ۔۔۔ کئی بار علیمہ ، عظمی اور نورین کو بھائی سے ملنے نہیں دیا گیا ۔۔ جس کے بعد احتجاج ہوا اور دھرنا بھی دیا گیا۔
لیکن گزشتہ رات معمول سے ذرا ہٹ کے تھی ۔ دھرنا ختم کرنے کیلئے پر روٹین کا تشدد پھر گرفتاریاں ہوں اور بعد میں پانی چھڑک کر سڑک کو کھولنے میں پولیس کامیاب ہوگئی ۔اس دوران عمران خان کی ایک بہن کی طبیعت بھی خراب ہوئی ۔۔ ظاہر بات ایک تو سردی ہے دوسرا تینوں بہنیں عمر رسیدہ بھی ہیں جس کی وجہ سے ایک کی طبیعت خراب ہوئی ۔۔۔
المیہ یہ ہے کہ بار بار عمران خان کی بہنوں کو اڈیالہ کے قیدی 804 سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں حالات آئے روز خراب ہوجاتے ہیں اور پولیس کو بھی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے ۔۔۔
معلوم نہیں ہمارے حکمران اور اصل حکمران کیوں بھائی بہن کی ملاقات سے ڈرتے ہیں ۔۔ کیوں ان پر خوف کا سائیہ سوار ہے ۔۔
یہ والا سلوک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنما خود بھی دیکھ چکے ہیں ۔ آمریت کے دور میں ایسا ہوتا رہا لیکن خود سیاست دان اس کی بھرپور مذمت و مخالفت کرتے رہے ۔۔۔ آج چونکہ آمریت نہیں ہے لیکن پھر بھی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہورہا ہے جو کہ یہ ظاہر کررہا ہے اصل بد دیانت سیاست دان خود ہیں ۔۔ یہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو آپوزیشن پر زمین تنگ کردیتے ہیں ۔۔ یہ افسوسناک ہے ۔معلوم نہیں کب سیاست دان اپنی ان حرکتوں کا جائزہ لیں گے ۔۔ کب سیاست دان ایسے رویوں پر شرمسار ہوں گے ۔۔ کب سیاست دان ایک دوسری سے انتقام کے اس کھیل کو ختم کردیں گے۔۔ شاید کبھی نہیں ۔۔