بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ دس برسوں میں مغربی دریاؤں کے پانی کا 51 فیصد بھارت کی جانب سے آیا جبکہ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والا پانی 49 فیصد رہا۔
اسلام آباد— سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے ملک بھر میں دریاؤں اور آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو دو ماہ کے اندر تمام تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت ہوا، جس میں آبی گزرگاہوں پر بڑھتی ہوئی تجاوزات کے خلاف سست روی پر چیئرمین نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے دریاؤں پر ہونے والی تجاوزات سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی، مگر مسلسل ہدایات کے باوجود رپورٹ فراہم نہیں کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عملدرآمد کے معاملے میں سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی۔
سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ ملک کے دریاؤں اور آبی گزرگاہوں پر اس وقت 897 تجاوزات موجود ہیں، جن کا بروقت خاتمہ نہ ہوا تو یہ انتظامی اداروں کی مجرمانہ غفلت شمار ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر آئندہ مون سون سے قبل تجاوزات ختم نہ کی گئیں تو یہ ایک سنگین انتظامی غلطی تصور کی جائے گی اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
اجلاس میں واپڈا حکام نے ملکی پانی کی مجموعی صورت حال، دریا بہاؤ اور آبی ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ دریائے چناب ہر سال پاکستان کے آبپاشی نظام کو 23 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کرتا ہے، جبکہ بھارت اپنے موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں کے ذریعے پاکستان کے پانی میں رد و بدل کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بریفنگ میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ دس برسوں میں مغربی دریاؤں کے پانی کا 51 فیصد بھارت کی جانب سے آیا جبکہ پاکستان کے اندر پیدا ہونے والا پانی 49 فیصد رہا۔
حکام نے مزید بتایا کہ دریائے سندھ میں آنے والا 29 فیصد پانی بھارتی سرحد سے داخل ہوتا ہے، جبکہ دریائے جہلم کے پانی کا 56 فیصد حصہ منگلا کے مقام پر بھارت سے آتا ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آنے والا پانی مکمل طور پر بھارت کے اندر پیدا ہوتا ہے، جس کے باعث بھارت اس دریا کے ذریعے پاکستان میں پانی کی قلت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اجلاس میں مستقبل میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ حکام نے بتایا کہ آبادی میں تیزی سے اضافے کے ساتھ 2050 تک زرعی شعبے کو 60 ملین ایکڑ فٹ اور شہری آبادی کو 10 ملین ایکڑ فٹ اضافی پانی درکار ہوگا۔
یوں مجموعی طور پر 70 ملین ایکڑ فٹ اضافی پانی کی ضرورت پیش آئے گی۔ واپڈا حکام نے بتایا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے متعدد منصوبے جاری ہیں جو بروقت مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت پانچ شارٹ ٹرم ڈیم منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن کی تکمیل 2030 تک متوقع ہے۔ ان میں دیامر بھاشا ڈیم شامل ہے جو 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ اور 4500 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔
مہمند ڈیم 1.29 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ اور 800 میگاواٹ بجلی کی صلاحیت رکھے گا، جبکہ کرم تنگی ڈیم ٹو 1.2 ملین ایکڑ فٹ پانی اور 18.9 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکے گا۔ نئی گج ڈیم 0.3 ملین ایکڑ فٹ پانی اور 4.2 میگاواٹ بجلی جبکہ نولونگ ڈیم 0.24 ملین ایکڑ فٹ پانی اور 4.4 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واپڈا حکام نے بتایا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت میں 11.13 ملین ایکڑ فٹ اضافہ ہوگا، جو آنے والے برسوں میں پانی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کیں کہ دریاؤں کے اطراف تجاوزات کا خاتمہ مقررہ مدت میں ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ مون سون کے موسم میں کسی بھی ممکنہ تباہی سے بچا جا سکے۔