قاضی حسین احمد نے ہمیشہ حق اور سچ بات کی سیاست کی

قاضی حسین احمد ایک عظیم شخصیت کے مالک انتہائی نفیس انسان اور بہترین لیڈر تھے جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جانے اور پہچانے جاتے تھے قاضی صاحب نے جماعت اسلامی کو عوامی جماعت بنانے کے لیے بہت محنت کی اور ان کی کوششوں سے جماعت اسلامی کو عوامی سطح پر بہت کامیابیاں بھی ملیں۔لوگ اس جماعت کو بھی ایک متبادل جماعت کے طور پہ جاننے لگے۔میری اس بات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن انکار نہیں۔۔ قاضی حسین احمد نے اپنی ولولہ انگیز قیادت سے سب سے زیادہ نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہ وہ تصویر ہے جس کی وجہ سے اج بہت سارے لوگ سیاست میںنام بنانے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے سیاسی طور پہ بہت بڑیچھلانگیں لگالیں۔
قاضی حسین احمد کی وجہ سے دنیا نے ان کو جانا ان کو پہچانا۔لیکن کامیابیاں حاصل کرنے کے بعد وہ خود کو بہت بڑا لیڈر سمجھنے لگے۔ جب الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا تو یہ تصویر تھی جو وائرل ہوئی۔ اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد بہت سے لوگوں کو پر لگے اور وہ بھی اپنے اپ کو لیڈروں میں شمار کرنے لگے اج وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر پاکستان کی سیاست ادھوری ہے
۔ قاضی حسین احمد ایک مرد جری تھے ، ایک بہادر انسان ایک پیارا شخص اور ایک عظیم لیڈر تھے۔جنہوں نے قاضی حیسن احمد کے ساتھ بلکہ کہنا چاھیے ان کی قیادت میں کام کیا ہے وہ قاضی صاحب کی کمی ہر جگہ اور ہر موقع پہ محسوس کرتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ ہو، فلسطین کا مسئلہ ہو، یا امت مسلمہ کا کوئی بھی ایشو، قاضی حسین احمد کی آواز ہمیشہ توانا رہی اور ہر جگہ پہ پہنچی۔۔۔ قاضی صاحب نہ صرف یہ کہ پاکستان کی سیاست میں بلکہ پاکستان کے باہر بھی امت مسلمہ کی سیاست میں بھی اپنا مقام رکھتے تھے۔ ان کا ایک الگ مقام اور شخصیت تھی۔ جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف دھرنا دیا گیا تو اس وقت قاضی صاحب نے ایک تحریک چلائی اس موقع پر
اسلامی جمعیت طلباء اور شباب ملی کے نوجوان بھی ان کے شانہ بشانہ تھے۔ان کے ٹرالر کے ارد گرد یہی نوجوان تھے۔ اس وقت کا ضلع راولپنڈی کا صدر فیاض الحسن چوہان اس تصویر میں نمایاں طور پر نظر آرھا ہے۔ یہ تصویر بن گئی اور اس تصویر کے بعد اس تصویر پہ کالم لکھے گئے اس تصویر پہ مضامین لکھے گئے اور یہ تصویر اس وقت کے تمام اخبارات کی شہ سرخی بن گئی۔ہر اخبار نے اس کو فرنٹ پیج پہ شائع کیا۔ درحقیقت یہی وہ تصویر تھی جس سے
فیاض الحسن چوہان پاکستان کی سطح پر پہچانا گیا۔اس تصویر کے بعد فیاض الحسن چوہان کا نام بھی لوگ جاننے لگے۔اب وہ مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہی ہے۔یہ ہمارا موضوع نہیں لیکن اس تصویر کی ایک حقیقت ہے جس کو جاننا ضروری ہے۔
قاضی حسین احمد سے اگر آپ مل چکے ہیں تو آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ ایک انتہائی نفیس شخص جس کے اندر نہ تکبر نہ بڑائی نہ اکڑ نہ بناوٹ ۔۔ایک سمپل سا سادہ لیکن انتہائی صاف ستھرا انسان۔۔۔ قاضی صاحب ایک مرد درویش تھے۔ قاضی صاحب جیسا حلیم طبع شخص بہت کم ہی کہیں نظر اتا ہے خاص طور پر سیاست کے میدان میں ان جیسا صاحب بصیرت،صاحب کردار ان جیسی ایک جامع شخصیت کا مالک لیڈر بہت کم نظر آتا ہے۔ بہت سے انیشیٹوز ہیں قاضی صاحب کے۔۔۔ اتنے زیادہ معاملات میں وہ متحرک کردار ادا کرتے رہے کہ جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔۔۔۔۔ قاضی حسین احمد ہی وہ واحد لیڈر تھے جنہوں نے سب سے پہلے احتساب کی بات کی ۔قاضی صاحب وہ شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے دفعہ 62 اور 63 کی بات کی۔ قاضی صاحب وہ شخص تھے جو سب سے پہلے یہ کہتے تھے کہ مفادات کی خاطر آج کے سیاسی حریف کل دوست بن سکتے ہیں اور یہ آپ دیکھیں گے کہ یہ بنیں گے قاضی حسین احمد نے جو کہا وقت نے وہ ثابت کیا اور ہم سب نے دیکھا ۔۔
کشمیر کاز کے لئے ان کا کام سب سے نمایاں تھا۔ قاضی صاحب نے پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانا شروع کیا۔۔۔ پھر یہی دن حکومتی سطح پہ منایا جانے لگا۔۔۔ ہمیں یاد ہے ذرا ذرا ۔۔۔۔۔۔۔
ایک ایسا وقت تھا کہ کوہالہ سے لے کے راولپنڈی تک اور پنڈی سے لے کے پشاور لاہور اور دیگر شہروں تک انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر سب کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا کرتے تھے۔
منگلا کا پل ہو کوہالہ کا پل ہو یا۔۔۔آزاد پتن کا ، بھمھبر اور سماہنی روڈ
ہو یا جی ٹی روڈ ، ہر جگہ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی تھی اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پہ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بناتے تھے۔۔۔
قاضی حسین احمد نے ہر فورم پہ کشمیر کی بات کی، فلسطین کی بات کی ہر فورم پہ امت مسلمہ کا مقدمہ لڑا۔دنیا بھر میں موجود اسلامی تحریکوں میں ان کو جو مقام حاصل ہوا ، وہ کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے
ہمیں وہ دن بھی یاد ہے جب پاکستان میں افغانستان کی تمام لیڈرشپ کو بلایا گیا تھا۔ نئی فارن پالیسی کے مطابق کوئی فارمولا تشکیل پانے کی بات ہو رہی تھی۔۔۔
یہ وہ وقت تھا جب برہان الدین ربانی افغانستان کے صدر اور گلبدین حکمت یار وہاں کے وزیراعظم تھے۔۔۔ جب پاکستان کے اُس وقت کے وزیراعظم نے افغان قیادت کو بلانے کی بات کی تو باقی قیادت آگئی لیکن گلبدین حکمت یار جو اس وقت وزیراعظم افغانستان تھے انہوں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا اس موقع پر ان کو بلانے کے لیے جنرل ضیاء الحق کے صاحبزادے اعجاز الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کے صاحبزادے ہمایوں اختر کو ایک خصوصی طیارہ دے کے بھیجا گیا لیکن گلبدین حکمت یار کسی بھی وجہ سے آنے کو تیار نہ تھے۔۔۔
یہ وہ وقت تھا کہ جب پاکستان کے لئے ان تمام افغان قائدین کو ایک جگہ پہ بٹھانا ضروری تھا، لیکن گلبدین حکمت یار کے نہ آنے سے یہ سارا معاملہ خراب ہوتا نظر آرہا تھا اس موقع پر مجبوراً قاضی حسین احمد سے رابطہ کی گیا۔ قاضی صاحب نے اپنی گاڑی پہ افغانستان کا رخ کیا اور پھر اگلے ہی دن اس وقت کے وزیراعظم افغانستان گلبدین حکمت یار ان کے ساتھ پاکستان تشریف لائے۔۔۔
قاضی صاحب کے آگے بڑے بڑے لوگ انکار نہیں کر سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی شخصیت کا ایک اپنا سحر تھا۔۔۔۔۔
ان کی شخصیت میں ایک اپنائیت تھی، ایک خلوص تھا، ایک وفا تھی ایک دل لگی تھی۔ ایسی شخصیت کے سامنے بھلا انکار کون کر سکتا تھا۔۔ ایسی شخصیت کی دعوت کو بھلا کون رد کر سکتا ہے۔۔۔
یہی نہیں بہت سے بڑے بڑے سیاسی خاندان خاص طور پہ دائیں بازو کی سیاست کرنے والے بہت سے خاندان اپنے خاندانی،جھگڑوں، تنازعات ،معاملات میں بھی ثالث کے طور پر قاضی حسین احمد کو بلاتے تھے اور اس مرد درویش نے تمام تر سیاسی رنجشوں مخالفت اور دھوکہ بازیوں کے باوجود کبھی کسی کی ذاتی بات زبان پہ نہیں لائی۔۔۔۔
قاضی صاحب نے کہا کہ ہم اپنے وطن کے نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں لائیں گے اس کے لیے انہوں نے ملک بھر میں موجود "اینگری ینگ بوائز” کو ان نوجوانوں کو جو اس ناانصافی،میرٹ کی پامالی اور ظلم سے تنگ تھے کو ایک پلیٹ فارم مہیاء کرنے کا فیصلہ کیا۔انہیں ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا کرنے کے لیے ایک تنظیم "پاسبان "قائم کی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاسبان اور ظلم کے خلاف پاسبان کا نعرہ پورے پاکستان میں گونجنے لگا۔۔۔۔
یہ وہ وقت تھا کہ جب ملک بھر کے نوجوان پاسبان کے پلیٹ فارم پہ متحد ہو رہے تھے اور پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کراچی، لاہور، پشاور، راولپنڈی اور اسلام اباد میں پاسبان اسمبلی اور پاسبان کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے گئے
یہ یوتھ اسمبلی کا کانسیپٹ پاسبان اسمبلی سے ہی لیا گیا ہے ۔۔۔
اس کے بعد جماعت کی روایتی سیاست یا سیاسی انداز کی وجہ سے پاسبان کو ختم کرنا پڑا۔۔۔
لیکن ان نوجوانوں نے تو عزم کر لیا تھا کہ ہم قاضی کے بیٹے ہیں ہم قاضی کے ساتھ رہیں گے کچھ ناعاقبت اندیش لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ پاسبان کو قاضی حسین احمد کے بغیر چلایا جا سکتا ہے انہوں نے کوشش بھی کی جن میں محمد علی درانی خود پیش پیش تھے لیکن محمد علی درانی کو بھی جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ پاسبان کے پلیٹ فارم تلے جمع ہونے والے تمام نوجوان صرف امام قاضی کے لیے اکٹھے ہیں وہ قاضی کے دیوانے ہیں وہ قاضی کے بیٹے ہیں وہ قاضی کے لیے پاسبان میں تھے وہ ظلم کے خلاف اواز قاضی کو سمجھتے تھے قاضی کے علاوہ ان کو کسی پہ اعتماد یا اعتبار نہ تھا انہوں نے اپنے امام قاضی کے نعرے کے ساتھ کراچی کے الطاف شکور کی قیادت میں خود کو منظم کیا لیکن اس دوران جماعت اسلامی نے ان نوجوانوں کو جو قاضی صاحب کی وجہ سے پاسبان کے پلیٹ فارم پہ اکٹھے ہوئے تھے انہیں ایک نئی تنظیم شباب ملی کے نام سے بنا کر اس میں شامل کر لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے شباب ملی ملک کے نوجوانوں کی آواز بن گئی ۔۔۔۔یہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
قاضی صاحب نے ملک بھر کی دینی جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے کوششیں شروع کیں اور پھر ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم "ملی یکجہتی کونسل” تشکیل پایا یہ وہ وقت تھا جب لوگوں نے دیکھا کہ دیوبند، بریلوی، فقہ جعفریہ اور اہل حدیث سمیت تمام دینی جماعتیں ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پہ یکجا تھیں یہ وہ وقت تھا کہ جب مولانا شاہ احمد نورانی کی امامت میں لوگوں نے مولانا فضل الرحمن کو نماز پڑھتے دیکھا، لوگوں نے مولانا فضل الرحمن کی امامت میں علامہ ساجد نقوی کو نماز پڑھتے دیکھا۔۔۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب ملک میں امن کی خاطر ملی یکجہتی کونسل نے اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا ۔ قاضی صاحب کی کوششیں ہی تھیں کہ وقت کے ساتھ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے بعد متحدہ مجلس عمل کے نام سے ایک سیاسی اتحاد تشکیل پا گیا اور اس سیاسی اتحاد نے پہلی مرتبہ ملک بھر کی سیاست میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اور نہ صرف کے پی کے بلکہ کراچی لاہور راولپنڈی اسلام اباد اور کوئٹہ سمیت ملک کے اہم اور بڑے شہروں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ اگرچہ متحدہ مجلس عمل ملک میں حکومت تو نہ بنا سکی لیکن ایک متحرک اپوزیشن بن کے ابھری اور کے پی کے میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی
مرکز میں ان کا اپوزیشن لیڈر بن گیا۔ قاضی حسین احمد نے جو کام کیا اخلاص سے کیا ان کی نیت پہ ان کے مخالف بھی شک نہیں کر سکتے وہ جو کہتے تھے وہ کر دکھاتے تھے وہ سادہ مزاج، دھیمے انداز میں بات کرنے والے ایک دبنگ شخصیت کے مالک عظیم لیڈر تھے جو اپنے کردار کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اجلے کپڑے پہننے والا یہ شخص اسی طرح اجلے کردار کا مالک تھا اس شخص نے جماعت اسلامی کے اندر ایک نئی روح پھونکی۔ اس شخص نے ملک کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور پھر ہم نے دیکھا کہ قاضی حسین احمد کا نام ہر جگہ لیا جانے لگا ۔قاضی صاحب کی وفات ہم سب کو سوگوار کر گئی وہ ایک تاریخ ساز شخصیت کے مالک عظیم انسان اور امت مسلمہ کے ایک غیر متنازعہ،متحرک اور محترم لیڈر تھے۔ انہوں نے مولانا مودودی کی فکر اور اپنے اخلاق ، اپنی لیڈرشپ سے وہ مقام حاصل کیا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اللہ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے ان جیسی شخصیت یاد رکھے جانے کے قابل ہوتی ہے۔۔۔ ہم اج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔۔۔
ہم جانتے ہیں قاضی حسین احمد جیسا لیڈر ملنا اب ممکن نہیں ہے لیکن قاضی حسین احمد کے نقش قدم پہ چلا جا سکتا ہے کچھ لوگ چل بھی رہے ہیں ۔ان لوگوں کا راستہ ہی حق کا راستہ ہے۔۔۔۔۔
نوٹ۔۔۔۔
اس تحریر میں میرے جذبات بھی شامل ہیں۔میں ہمیشہ قاضی حسین احمد کو قاضی صاحب ہی کہتا تھا۔۔۔۔
آج لکھنے بیٹھا تو منہ سے قاضی صاحب ہی نکلتا تھا۔پھر ہاتھوں نے بھی قاضی صاحب ہی لکھا۔۔۔۔۔
وہ منفرد تھے۔سب سے منفرد۔۔۔۔۔ہمیں ان سے پیار ہے اور یہ پیار امر ہے۔۔۔۔