کورٹ
تحریر: خالد گردیزی
زلزلے کا درد اور معصوم بچوں کی حالت
سنہ 2005 میں جب آزاد کشمیر کے پہاڑ لرز اٹھےاورزمین پرکھڑی عمارتیں دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس ہوگئیں۔ زمین کے کانپنے سے نہ صرف گھر اسکول ، ہسپتال اور دیگر بے شمار عمارتیں ملیا میٹ ہوگئیں بلکہ ہزاروں بچے باپ کے سائے اور ماں کی شفقت سےمحروم ہوگئے۔ ان کا مستقبل گویا مٹی میں دفن ہوگیا۔ ہزاروں بچے اچانک لاوارث ہوئے، کوئی رہنمائی تھی اور نہ ہی کوئی ہاتھ نہ تھا تھامنے والا۔ بس بےبسی تھی اور ناامیدیں کے پہاڑ ۔۔

چوہدری اختر کی آنکھوں دیکھی سوچ اور انسانی جذبہ
کرب کی اس گھڑی میں، چوہدری محمد اختر کے دل میں ایک روشنی جاگی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ یہ بچے اکیلے نہیں رہ سکتے۔ یہ بچے شاید جی تو لیں گے لیکن ان کا مستقبل محفوظ نہیں ۔ ان کی یہی سوچ بعد میں کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ کی بنیاد بنی، جو بچوں کو پناہ، محبت، تعلیم اور اعتماد دیتا ہے۔
یقین، محبت اور تربیت کا نظام
KORT میں چھوٹے بچوں کو صرف بنیادی ضروریات نہیں بلکہ مکمل تربیت اور اخلاقی رہنمائی دی جاتی ہے۔ کشمیر جرنلسٹ فورم کے وفد نے بچوں کو کھیلتے، پڑھتے اور ہنستے ہوئے دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ادارے سے نکلنے والے بچے نہ صرف تعلیم یافتہ بلکہ باکردار شہری بھی بن رہے ہیں۔
تعلیم سے روزگار تک — مستقبل کی ضمانت
بچے گریجویشن اور ماسٹرز تک پہنچ چکے ہیں، اور اگر روزگار کا مسئلہ ہو تو ادارہ انہیں باعزت ملازمت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ یتیم خانہ نہیں، بلکہ زندگی سنوارنے کا مکمل ماڈل ہے۔
صحت کے شعبے میں انقلاب — فلاحی ہسپتال

چوہدری اختر نے آزاد کشمیر کے صحت کے نظام کا بھی بغور جائزہ لیا۔ مریض اکثر اسلام آباد یا راولپنڈی جانے پر مجبور ہیں، جس سے مالی دباؤ بڑھتا ہے۔ اسی احساس نے ایک اور خواب کو جنم دیا—250 بستروں پر مشتمل اسٹیٹ آف دی آرٹ جنرل ہسپتال، جہاں غریب مریضوں کا علاج مکمل طور پر مفت ہوگا، جدید طبی آلات، مسافر خانے اور طلبہ کے لیے ہاسٹلز دستیاب ہوں گے۔
عوامی تعاون کی ضرورت
یہ کام صرف ایک شخص کا نہیں۔ معاشرے کے ہر فرد کو آگے آ کر اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، تاکہ یہ ادارہ بچوں کو تعلیم سے روزگار تک پہنچا سکے اور غریبوں کے لیے صحت کے مواقع فراہم کرے۔
ملبے سے اُبھرتی روشنی — امید اور عمل کا سفر
KORT کے شعبہ جات—نومولود بچوں کا کمپلیکس، بچیوں کے مراکز، فاطمہ کمپلیکس، اولڈ ہوم اور سپورٹس کمپلیکس—سب ایک مقصد کی طرف بڑھ رہے ہیں: زندگی بچانا، محفوظ کرنا اور بہتر بنانا۔ ہر منصوبہ یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو مشکلات بھی راستہ بنتی ہیں۔
چوہدری اختر نے ملبے میں صرف تباہی نہیں دیکھی، بلکہ ذمہ داری کو پہچانا اور سینکڑوں بچوں کی زندگیوں کو سنوارا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب تعاون کریں، تاکہ ہر بچے کے چہرے پر مسکراہٹ ہمیشہ کے لیے باقی رہے اور ہر ملبے سے اُبھرتی روشنی زندگی کے ہر گوشے تک پہنچ سکے۔