کشتوار میں بھارتی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں
کشتوار
مقبوضہ کشمیر کے علاقہ کشتوارہ میں ایک ہفتے سے بھارتی فورسز کا آپریشن جاری ہے ۔ اس آپریشن میں اب تک کشمیری عسکری پسندوں کے حملے میں جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت کئی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مقبوضہ وادی کے علاقہ کشتوارہ کے جنگل بھارتی فورسز کیلئے موت کا کنواں ثابت ہورہا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ انیس جنوری کو کشمیری عسکری پسندوں اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں بھارتی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ۔ جھڑپ کے دوران حملہ آور بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی بھارتی فورسز نے پورے علاقے میں آپریشن شروع کیا ہے ۔ بھارتی فورسز کو شبہ ہے کہ تین حملہ آور جنگلوں میں چھپے ہوئے ہیں ۔ جن کی تلاش کیلئے جنگل چھان مارا جارہا ہے ۔
بھارتی فورسز نے دعوی کیا ہے کہ آپریشن نے سنگپور گاوں کے قریب جنگل میں عسکریت پسندوں کی ایک پناہ گاہ بھی پکڑی گئی جس میں کھانے پینے کا سامان موجود تھا ۔ اس کے بعد آج ایک جھڑپ ہوئی لیکن کسی کے مرنے کی اطلاع نہیں ملی ۔
آپریشن کے حوالے سے ایکس پر مختلف ویڈیوز بھی وائرل ہورہی ہے ۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ بھارتی فوج کے چند اہلکار ایک کچے مکان پر راکٹ بھی داغ رہے ہیں ۔
انڈین اکاونٹس سے حملہ آوروں کی تصاویر بھی شیئر کی جارہی ہے ۔ ایک اکاونٹ پر کشتوارپولیس کے یہ اشتہار بھی شیئر کیا گیا جس کے اوپر یہ کیپشن لکھا ہوا ہے کہ اطلاعات کے مطابق فوجی اہلکاروں کی ایک ٹیم سونار چترو کے بالائی علاقوں میں دہشت گردی کے مخصوص ان پٹ کے بعد تلاشی آپریشن کے لیے گئی تھی۔ پہاڑوں پر بیٹھے دہشت گردوں نے دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 8 فوجی زخمی ہوئے۔ دو سے تین حملہ آور پھنسے ہوئے ہیں ۔
اس حملے اور جاری آپریشن میں اب تک کتنے فوجی مارے گئے اور کتنے عسکریت پسند ۔ابھی تک کوئی مصدقہ نمبر سامنے نہیں آیا تاہم ابتدائی حملے میں زخمیوں کی تعداد 8 بتائی گئی ۔ بھارتی حکام نے اس نقصان کی تصدیق بھی کی تھی ۔ حوالدار گجوندر سنگھ بھی اس آپریشن میں مارا گیا ۔بھارتی حکام یہ الزام لگارہے ہیں کہ حملہ آور سرحد پار سے آئے ہیں اور حملے کرکے واپس جانے کی کوشش کررہے تھے ۔
دوسری طرف بعض لوگ اس آپریشن پر سوالات بھی اٹھارہے ہیں کہ چند حملہ آور اتنی بڑی فوج کے ہوتے ہوئے کیوں کر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے ۔یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ جموں صوبے کے سی ٹی او میں ڈرون کا استعمال کیوں نہیں؟ فوج وادی کشمیر میں ڈرون کا استعمال کر رہی ہے لیکن جموں کے علاقے میں اس سے گریز کر رہی ہے!! کیوں؟
جوتی ورما نامی اکاونٹس سے بھی اس آپریشن پر شک و شبہ کا اظہار کیا گیا
لکھا یہ تصاویر کل کشتواڑ انکاؤنٹر میں مرنے والے بھارتی فوجیوں کی ہیں۔ وہاں انکاؤنٹر کئی مہینوں سے جاری ہے۔ ایل او سی کے ساتھ بھاری بھارتی فوج کی تعیناتی کے ساتھ، کوئی ‘بیرونی مدد’ ممکن نہیں ہے۔ مودی حکومت کشمیر میں کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟