مہاجرین کشمیر اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر آگئے
مظفرآباد
امیر مہاجرین جموں کشمیر 1989 عزیر احمد غزالی نے معزز عدالتِ عالیہ آزاد جموں کشمیر کے یک رکنی بنچ کے مورخہ 16 اگست 2025 کے فیصلے اور اس پر عملدرآمد کے لیے جاری کردہ حکومتی سرکلر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجرین جموں کشمیر کی جانب سے 6 فیصد کوٹہ کی بحالی کے لیے عدالتِ عظمیٰ میں پانچ مختلف اپیلیں دائر کی جا چکی ہیں جنہیں عدالتِ عظمیٰ نے یکجا کر کے باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ امر قابلِ ذکر اور خوش آئند ہے کہ حکومتِ آزاد جموں کشمیر کی جانب سے مہاجرین کی اپیلوں کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے بچوں ، طلبہ اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے محفوظ مستقبل کے حوالے سے امید پیدا ہوئی ہے۔
عزیر احمد غزالی نے کہا کہ معزز عدالتِ عالیہ کے فیصلوں 6 فیصد کوٹہ کی بحالی کے لیے دائر اپیلوں اور سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ پالیسی کی روشنی میں مہاجرین کشمیر 1989 کے لیے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مختص 6 فیصد کوٹہ بدستور محفوظ اور قابلِ نفاذ رہنا باعث اطمینان ہے ۔ جو کہ مہاجرین کشمیر 1989 کا مسلمہ آئینی، قانونی اور انسانی حق ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگرچہ 6 فیصد کوٹے سے متعلق اپیلیں عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ سماعت ہیں، تاہم حتمی فیصلے تک حکومتی پالیسی کے مطابق مہاجرین جموں کشمیر 1989 کے نوکریوں اور تعلیم سے متعلق حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ورکنگ کمیٹی مہاجرین کشمیر 1989 چھیالیس ہزار مہاجرین کشمیر کے تمام تر آئینی، سماجی اور انسانی حقوق کی بازیابی اور تحفظ کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی مرحلے پر مہاجرین کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
امیر مہاجرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مہاجرین خاندانوں کو درپیش معاشی مشکلات کے پیش نظر ماہانہ گزارہ الاؤنس میں فوری اضافے اور مہاجرین کی باقاعدہ آبادکاری کے لیے کوششوں کو آئندہ دنوں میں مزید مربوط، منظم اور فعال بنایا جائے گا۔
انہوں نے حکومتِ آزاد جموں کشمیر سے مطالبہ کیا کہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ۔۔۔۔