بھارت کے لیے یومِ جمہوریہ، کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ ،مشعال ملک
اسلام آباد/سرینگر:
پابندسلاسل کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے 26 جنوری کو بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن کشمیری عوام کے لیے یومِ جمہوریہ نہیں بلکہ یومِ سیاہ ہے۔
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ جہاں بھارت جمہوریت کے دعوے کرتا ہے، وہیں کشمیری عوام زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں اور ان کے بنیادی انسانی حقوق مسلسل پامال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس نظام میں انصاف کے بجائے پابندیاں ہوں، اسے جمہوریت نہیں کہا جا سکتا۔
ویڈیو پیغام میں انہوں نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا امن کی بات کر رہی ہے، چاہے وہ عالمی قیادت کی سطح پر کاوشیں ہوں یا بین الاقوامی امن اقدامات، اگر واقعی پائیدار امن مقصود ہے تو مسئلہ کشمیر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مشعال ملک نے مطالبہ کیا کہ عالمی امن کی ہر کوشش میں کشمیر کو مرکزی ایجنڈا بنایا جائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک خصوصی "بورڈ آف پیس” قائم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک قیدی قوم کی آواز ہے جسے عالمی سطح پر سننے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یاسین ملک کی صحت اور جان کو درپیش خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ مشعال ملک نے کہا کہ سن 2000 کے امن عمل کو دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ممکن ہو سکے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت ہے اور عالمی برادری اس تاریخی ذمہ داری سے مزید چشم پوشی نہ کرے۔