میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور انکی عمریں 18 سال سے کم ہو
اسلام آباد ۔۔۔
اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادی سے متعلق قانون سازی کیخلاف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بعد ان کی پارٹی کے ایک اور رہنما کا بیان سامنے آگیا ۔۔ جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں غصہ آیا تو وہ 16 سالہ لڑکی سے شادی کرے گا ۔
چند روز قبل مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قانون میں ترمیم کی مخالفت کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرا رہا ہوں، ہم ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے، میں آپ کے اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہوں جس نے یہ قانون بنایا، یہ ڈنگ ٹپاؤ کی سیاست مناسب نہیں۔ میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔
آج پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمدللہ نے بھی قانون سازی کی مخالف کی ہے ان کا کہنا تھا کہ سربراہ جے یو آئی کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور انکی عمریں 18 سال سے کم ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم قانون کو پاؤں کے تلے روندیں گے کیونکہ جو قانون قرآن و سنت کے منافی ہو، ہم اس کو تسلیم نہیں کریں گے، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔
اگر مجھے غصہ آیا تو میں نے فیصلہ کیا، اگرچہ میں دوسری شادی اور دوسرے نکاح کے موڈ میں نہیں ہوں، وہ ہی ایک کافی ہے لیکن اگر غصہ آیا، قانون توڑنا تو میں بھی 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا۔
ایکس پر ایک بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کو مشورہ دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کریں اور اس میں ان نوجوانوں کی شادیاں کریں جو بالغ ہو چکے ہو اور انکی عمریں 18 سال سے کم ہو ،