اسلام آباد دھماکہ عینی شاہدین نے کیا دیکھا
اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید جبکہ 170 کے قریب نمازی زخمی ہو گئے۔ دھماکا نماز کے دوران کیا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخلے سے روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے اور اس نے افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملے میں بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کے شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم افغانستان کا شہری نہیں تاہم وہ متعدد بار افغانستان کا دورہ کر چکا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی آئی جی اسلام آباد ناصر رضوی جائے وقوعہ پر پہنچے جہاں انہیں اپنے کزن کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی۔
وزیراعظم نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی اور وزیر صحت کو علاج معالجے کی نگرانی کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت بھی کی۔
دھماکے کے بعد اسلام آباد کے تینوں بڑے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ پمز اور پولی کلینک اسپتال میں 125 سے زائد زخمیوں کو منتقل کیا گیا جبکہ راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں بھی متعدد زخمیوں کو لایا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق تمام زخمیوں کو مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔
واقعے کی امریکہ، چین، ترکیہ، ایران، فرانس، متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین سمیت مختلف ممالک نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صدر مملکت، وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دیگر قومی رہنماؤں نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق امام بارگاہ میں اس وقت نماز ادا کی جا رہی تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، جس پر نمازی شدید خوف و گھبراہٹ کا شکار ہو گئے۔ لوگوں کو صورتحال سمجھنے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ چند لمحوں بعد ایک زور دار دھماکا ہو گیا، جس سے پورا ہال لرز اٹھا۔
دھماکے کے نتیجے میں ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی، متعدد افراد زمین پر گر پڑے جبکہ زخمیوں کی مدد کے لیے نمازی ایک دوسرے کی طرف لپکنے لگے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد فضا دھوئیں اور گرد و غبار سے بھر گئی اور منظر انتہائی دلخراش تھا۔