چاندی کی قیمتیں گر گئیں
اسلام آباد: عالمی منڈی میں چاندی کی قیمتوں میں اچانک اور شدید کمی نے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو حال ہی میں کلو کے حساب سے چاندی خرید رہے تھے۔ قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد کمی کے بعد کئی خریدار بھاری مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق ہفتے کے آغاز میں چاندی کی قیمت میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تقریباً 90 ڈالر فی اونس تک جا پہنچی تھی۔ قیمتوں میں اضافے کے باعث سرمایہ کاروں نے بڑی تعداد میں چاندی خریدی، تاہم چند دنوں کے اندر ہی صورتحال بدل گئی اور قیمتیں 65.67 ڈالر فی اونس تک گر گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر طلب میں کمی، ڈالر کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کا رجحان چاندی کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اس کمی سے وہ افراد زیادہ متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے بلند نرخوں پر بڑی مقدار میں چاندی خریدی تھی۔
مقامی صرافہ بازاروں میں بھی اس قیمت میں کمی کے اثرات واضح ہیں۔ دکانداروں کے مطابق خریدار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں اور نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ کئی افراد قیمتوں میں مزید کمی کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ کم نرخوں پر خریداری کی جا سکے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ عام ہے، لیکن اس بار کمی کی رفتار غیر معمولی رہی جس نے سرمایہ کاروں کو چونکا دیا ہے۔ مستقبل میں قیمتوں کا دارومدار عالمی معیشت، صنعتی طلب اور کرنسی مارکیٹ کی صورتحال پر ہوگا۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ کمی عارضی ہو سکتی ہے اور طویل مدت میں چاندی کی قیمت دوبارہ مستحکم ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور حالیہ دنوں میں مہنگے داموں چاندی خریدنے والوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔