پریس کانفرنس کے دوران افغان کپتان کو شرمندگی کا سامنا
افغانستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے جانے والے پہلے میچ سے قبل آج دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی مشترکہ پریس کانفرنس منعقد ہوئی، جہاں صحافیوں کے سوالات تو ایک جیسے تھے مگر جوابات نے خاصی توجہ حاصل کی۔
پریس کانفرنس کے دوران پہلا سوال نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر سے کیا گیا کہ ان کے نزدیک وہ کون سی چار ٹیمیں ہیں جو سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس سوال کے جواب میں مچل سینٹنر نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی پیش گوئیوں پر یقین نہیں رکھتے، کرکٹ ایک کھیل ہے اور جو ٹیم بہتر کارکردگی دکھائے گی وہی آگے جائے گی۔
یہی سوال جب افغانستان کے کپتان راشد خان سے پوچھا گیا تو ان کا جواب خاصا مختلف اور واضح تھا۔ راشد خان نے کہا کہ ان کے نزدیک بھارت، افغانستان، آسٹریلیا اور ساؤتھ افریقہ سیمی فائنل کھیلنے کی مضبوط امیدوار ٹیمیں ہیں۔ اس جواب پر نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر بھی مسکراتے نظر آئے۔
بعد ازاں ایک اور سوال میں راشد خان کو تین آپشن دیے گئے کہ وہ آسٹریلیا، انگلینڈ یا نیوزی لینڈ میں سے کس ملک میں کرکٹ کھیلنا پسند کریں گے۔ اس پر راشد خان نے کچھ لمحے توقف کے بعد جواب دیا کہ وہ ان تینوں کے بجائے بھارت میں کرکٹ کھیلنا پسند کریں گے۔
راشد خان کے اس بیان نے ایک بار پھر سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں بحث کو جنم دیا۔ مبصرین کے مطابق بھارتی صحافی جان بوجھ کر افغان کرکٹرز سے اس نوعیت کے سوالات کرتے ہیں، کیونکہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ افغان کھلاڑی بھارت کے حق میں رائے دیں گے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے برعکس عملی رویہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغان ٹیم کو حالیہ دورے کے دوران بھارت میں ائیرپورٹ پر پانچ گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا اور ٹیم کے لیے بروقت ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی نہیں کیا گیا، جس پر کرکٹ شائقین نے سوالات اٹھائے ہیں۔
کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ کھیل میں دوستی اور احترام کے دعووں کے ساتھ عملی رویے کا ہم آہنگ ہونا بھی ضروری ہے، تاکہ کھیل کی اصل روح برقرار رہ سکے۔