وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کااجلاس
تحریر…. زبیر مقدومی
امید ہے کہ آپ وفاقی دارالحکومت کی محفوظ راہداریوں اور ایوانوں کی آسائشوں کے درمیان بخیریت ہوں گے۔ یہ خط آپ تک ان بوسیدہ کیمپوں کی سڑاند اور حبس زدہ گلیوں سے پہنچ رہا ہے جہاں کشمیری مہاجرین کی تیسری نسل ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں کی تپش میں اپنی زندگی کے ایام پگھلا رہی ہے۔
سب سے پہلے تو حکومتِ وقت کا اس ’تاریخی اضافے‘ پر شکریہ ادا کرنا ہم پر فرضِ عین ہے جو حال ہی میں مہاجرین کے ماہانہ گزارہ الاؤنس میں کیا گیا ہے۔ آپ کی اس ذرہ نوازی کا عالم یہ ہے کہ اب ایک مہاجر خاندان اس خطیر رقم سے مہینے میں کم از کم ایک آدھ بار تو پیٹ بھر کر کھانے کا ’خطرہ‘ مول لے ہی سکتا ہے۔ اس فیاضی پر ہم آپ کے اتنے ممنون ہیں کہ الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، کیونکہ موجودہ ہوش ربا مہنگائی کے دور میں جب آٹے کا تھیلہ اور بجلی کا بل غریب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے، اس وقت رقم کے اس ’بڑے اضافے‘ کا تعین کرنے کے لیے آپ نے جس قدر ’عرق ریزی‘ کی ہوگی، اس کا اندازہ ہمیں بخوبی ہے۔
جنابِ وزیر!
لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس خیرات نما اضافے کے بجائے آپ ان بنیادی تضادات پر نظر ڈالتے جو دہائیوں سے ہماری شناخت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر، جسے ہم اور آپ بڑی شد و مد کے ساتھ تحریکِ آزادی کا ’بیس کیمپ‘ پکارتے ہیں، وہاں مقیم کشمیریوں کو آج بھی ’مہاجر‘ کا لیبل لگا کر کیمپوں میں مقید رکھنا انسانی عقل اور ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کوئی شخص اپنے ہی گھر کے آنگن میں، اپنی ہی ریاست کے آزاد حصے میں پناہ گزین کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا مظفر آباد، باغ یا نیلم ان کے لیے کوئی ’غیر ملک‘ ہے؟
مقامِ افسوس تو یہ ہے کہ ان خاندانوں کو بیس تیس سال پہلے ہی مستقل مالی پیکجز دے کر، انہیں زمینیں الاٹ کر کے اور باعزت طریقے سے معاشرے کا مستقل حصہ بنا دینا چاہیے تھا۔ لیکن شاید انہیں ان کسمپرسی زدہ ’کیمپوں‘ میں رکھنا ہماری سیاسی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان مظلوموں کو گذشتہ کئی دہائیوں سے محض ایک ’پولیٹیکل شوکیس‘ بنا کر رکھا ہوا ہے تاکہ عالمی وفود کو دکھایا جا سکے کہ "دیکھیے! یہ مہاجرین ہیں”۔ کیا ان کی بے بسی ہماری خارجہ پالیسی کا ایندھن بنی رہے گی؟
آج ان کیمپوں میں ہجرت کرنے والوں کی تیسری نسل جوان ہو چکی ہے۔ وہ بچہ جو یہاں پیدا ہوا، یہیں پلا بڑھا، جب وہ اپنے شناختی کارڈ پر ’مہاجر‘ کا لفظ دیکھتا ہے تو وہ اپنے ہی ہم وطنوں کے درمیان خود کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔ اسے سرکاری ملازمتوں کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں، اسے تعلیمی اداروں میں کوٹے کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ان کے دلوں میں ریاست کے بارے میں کیا جذبات ابھرتے ہوں گے؟
کیمپوں کی حالتِ زار دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ گندے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام نہیں، بوسیدہ چھتیں بارشوں میں ان کے نصیب کی طرح ٹپکتی ہیں اور ایک ایک کمرے میں دو دو خاندان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیا اربابِ اختیار کے بچے ان حالات میں ایک رات گزار سکتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ان کشمیریوں سے ’حب الوطنی‘ اور ’صبر‘ کا تقاضا کس منہ سے کیا جاتا ہے؟
خیرات کے چند ٹکے بڑھا دینے سے ضمیر کی خلش دور نہیں ہونی چاہیے۔ ان کشمیریوں کو ’گزارہ الاؤنس‘ کی لائنوں میں کھڑا کرنا ان کی توہین ہے۔ انہیں خیرات نہیں، ان کا حقِ ملکیت چاہیے۔ انہیں عارضی کیمپ نہیں، مستقل چھت چاہیے۔ انہیں اس ’مہاجر‘ کے لبادے سے آزاد کریں جو اب ان کے لیے شناخت نہیں بلکہ تذلیل بن چکا ہے۔
اگر ہم انہیں اپنی ہی آزاد مٹی پر اجنبی بنا کر رکھیں گے، تو پھر سری نگر کی آزادی کے دعوے کھوکھلے نظر آئیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنے محسنوں اور ہجرت کرنے والے بھائیوں کو ’کیمپوں‘ کی نذر کر دیتی ہیں، وہ کبھی بڑے معرکے سر نہیں کر سکتیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کیمپوں کی دیواریں گرا کر انہیں باعزت شہری بنایا جائے، ورنہ یہ ’مہاجر کارڈ‘ ایک دن سب کے لیے پچھتاوا بن جائے گا۔
امید ہے کہ آپ اس خط کے بین السطور چھپے درد، طنز اور حقیقت کو سمجھ سکیں گے۔