رپورٹ ۔۔۔ مقصود منتظر
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی سرد صبح تھی۔ انڈیا اے آئی ایمپیکٹ سمٹ India AI Impact Summit کے وسیع ہال میں روشنیوں کی چکا چوند اور کیمروں کی چمک تھی۔ ہال میں لگے ہر اسٹال پر مستقبل کے خواب سجے تھے ، کہیں مصنوعی ذہانت، کہیں روبوٹک ہاتھ، کہیں خود چلنے والی مشینیں۔
اسی ہال کے ایک کونے میں Galgotias University کا اسٹال لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لوہے کے جسم اور چمکتی آنکھوں والا ایک روبوٹک کتا، جسے طلبہ پیار سے “اورین” کہہ رہے تھے، بچوں کی طرح اچھلتا کودتا دکھایا جا رہا تھا۔ اسی دوران پروفیسر نہا سنگھ کی آواز گونجی۔۔۔

یہ ہماری محنت اور ہماری تحقیق کا نتیجہ ہے۔ پروفیسر کے اس دعوے پر ہال میں تالیاں بجیں اور کیمرے خوبصورتی روایتی ساری پہنی نہا سنگھ کی طرف گھومے۔
نہا سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ روبوٹک کتا اورین یونیورسٹی کے Centre of Excellence میں تیار کیا گیا ہے، جس کے لیے مصنوعی ذہانت اے آئی کے شعبے میں 350 کروڑ بھارتی روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔بھارتی یونیورسٹی کی پروفیسر کے دعوے اپنی جگہ مگر سچ اکثر خاموش نہیں رہتا۔
ابھی نہاسنگھ سرکاری میڈیا کے رپورٹر کے ذریعے شرکا پر اپنی یونیورسٹی کا رعب جما ہی رہی تھی کہ ہجوم میں کھڑے ایک سیانے نوجوان نے سرگوشی کی، کہ یہ تو چین میں بنا ہوا روبوٹ ہے ۔۔۔
دوسرے نوجوان نے موبائل پر تصویر بھی دکھائی، جس کی وہی شکل، وہی حرکت۔ بس نام تھا Unitree Go2۔
چند ہی لمحوں میں سوشل میڈیا پر سوالات کی بارش شروع ہوگئی۔ تالیاں خاموشی میں بدلنے لگیں۔ اسٹال کے گرد ہجوم اب تعریف نہیں، وضاحت مانگ رہا تھا۔ منتظمین کی نظریں سخت ہوگئیں۔ کچھ نے کہا کہ یہ صرف سیکھنے کا آلہ ہے، ایجاد نہیں۔ کچھ نے کہا کہ پیشکش میں سچ دھندلا دیا گیا۔

مذکورہ پروفیسر جو پہلے چہرے پر حد سے زیادہ مسکراہٹ بکھیر رہی تھی ، میڈیا کے دوبارہ پوچھنے پر راہ فرار تلاش کرتی رہیں، وہ آئیں بائیں شائیں ، لیکن تب سے پانی سر سے اوپر گزر چکا تھا اور یونیورسٹی کا جھوٹا دعوی بھارت کیلئے ہزیمت بن چکا ہے ۔ رسوائی ہوچکی تھی ، حتی کہ چین کی متعلہ کمپنی بھی میدان بھی آکر اپنے اثاثے اور ایجاد پر بھارت پر طنزیے پیغام جاری کرچکی تھی ۔
سائنس ایگزیبیشن میں ہال میں شام تک اسٹال خالی تھا۔ اور نام نہاد انڈین ۔۔اورین۔۔ خاموش، جیسے خود بھی سوچ رہا ہو کہ سچ چھپانے کی قیمت کتنی بھاری ہوتی ہے۔ اس دن کوئی ٹیکنالوجی ہاری نہیں تھی، ہارا تھا صرف بھارت کا اعتماد اور جیتا تھا ایک سبق، کہ ترقی تب معتبر ہوتی ہے، جب اس کے ساتھ سچ بھی کھڑا ہو۔
اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی یونیورسٹی پر سخت تنقید ہورہی ہے ، زیادہ تر لوگ طنزیہ انداز میں تنقید کررہے ہیں ۔ بعض نے سفارش ہے کہ اے آئی پر مبنی جدید ۔۔ ری پیکنگ ٹیکنالوجی۔۔ میں غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں
Galgotias University کی متعلقہ پروفیسر اور ان کی ٹیم کواگلے سال کے پدم شری (بھارت کے سرکاری اعزاز) کے لیے ضرور زیرِ غور لایا جائے۔کیونکہ جب پریزنٹیسن ہی ایجاد بن جائے، تو ایوارڈ تو بنتا ہے۔