پاکستان کی کامیاب سفارتکاری پر بھارت میں ماتم ، انڈین میڈیا بھوکھلاہٹ کا شکار،،جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں کا سہارا لینے لگا۔
قومیں صرف جنگیں جیت کر بڑی نہیں بنتیں، بعض اوقات وہ جنگ کو ٹال کر بھی بڑی ثابت ہوتی ہیں۔ اس بار پاکستان نے یہی کیا ہے

تحریر ۔۔۔ محمد الیاس
دنیا کی سیاست میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو ملکوں کی اصل قامت ناپ دیتے ہیں۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب شور مچانے والے بہت ہوتے ہیں، مگر آگ بجھانے والے کم۔ حالیہ جنگ بندی کے تناظر میں پاکستان نے خود کو اسی دوسرے درجے میں ثابت کیا ہے: ایک ایسے ملک کے طور پر جو صرف اپنے مسائل میں گھرا ہوا نہیں، بلکہ دوسروں کے بحران میں بھی پل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ 7 اور 8 اپریل 2026 کی پیش رفت میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا، اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے اس عمل کو پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں سے جوڑا۔ مزید یہ کہ اسلام آباد میں آئندہ بات چیت کی میزبانی کی خبر بھی سامنے آئی۔
یہ کامیابی اس لیے معمولی نہیں کہ یہ کسی پُرسکون ماحول میں حاصل نہیں ہوئی۔ خطہ جنگ، توانائی کے بحران، آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور عالمی منڈیوں کے اضطراب سے دوچار تھا۔ ایسے وقت میں پاکستان نے نہ اشتعال انگیز زبان اختیار کی، نہ کسی ایک کیمپ کی گونج بننے کی کوشش کی؛ بلکہ اس نے رابطہ، توازن اور تحمل کا راستہ اپنایا۔ سفارت کاری کی اصل طاقت بھی یہی ہوتی ہے: جب بند دروازوں کے پیچھے بولے گئے چند جملے، میدانِ جنگ میں داغے گئے درجنوں گولوں سے زیادہ اثر رکھتے ہوں۔
پاکستان کے لیے اس میں سب سے بڑی بات یہ نہیں کہ اس کا نام خبر میں آیا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی بات سنی گئی۔ بین الاقوامی نظام میں عزت محض دعووں سے نہیں ملتی، اعتماد سے ملتی ہے۔ اور اعتماد اسی کو ملتا ہے جو بحران میں گھبراہٹ نہیں، راستہ نکالتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسلام آباد کو نظرانداز کر دینا آسان ہو سکتا ہے، مگر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی الجھی ہوئی سیاست میں اسے غیر متعلق سمجھنا اب ممکن نہیں رہا۔

مگر ہر سنجیدہ سفارتی پیش رفت کے ساتھ ایک اور کہانی بھی چلتی ہے: بیانیے کی جنگ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کے دوران بھارتی میڈیا کے ایک حصے نے صحافت کے تقاضوں کے مطابق رویہ اختیار کرنے کے بجائے تمسخر، سطحیت اور سیاسی تعصب کا راستہ چنا۔ جب عالمی ادارے اور خبر رساں ایجنسیاں پاکستان کے کردار کو ایک سنجیدہ ثالثی کوشش کے طور پر رپورٹ کر رہی تھیں، اسی دوران بھارت کے بعض بڑے میڈیا پلیٹ فارمز نے اصل سفارتی پیش رفت کے بجائے شہباز شریف کی ایک غلطی سے شائع ہونے والی “ڈرافٹ” پوسٹ کو مذاق، طنز اور قیاس آرائی کا موضوع بنا دیا۔ ٹائمز آف انڈیا اور اکنامک ٹائمز کی رپورٹوں میں اسی واقعے کو نمایاں انداز میں پیش کیا گیا، گویا اصل خبر جنگ بندی نہیں بلکہ اس کے گرد پیدا کی گئی تضحیک ہو۔
یہ رویہ صرف صحافتی کمزوری نہیں، بلکہ ایک بڑی ذہنی الجھن کی علامت بھی ہے۔ جب کوئی ہمسایہ ملک ایسے بحران میں سفارتی اہمیت حاصل کرے جسے آپ برسوں تک کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہوں، تو تعصب اکثر تجزیے پر غالب آ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے کچھ حلقوں نے اس معاملے کو سمجھنے کے بجائے اسے گھٹانے، ہلکا کرنے اور مذاق میں اڑانے کی کوشش کی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ تنقید کیوں کی گئی؛ مسئلہ یہ ہے کہ تنقید کے نام پر اصل خبر کو دبا دیا گیا۔ ایک جنگی ماحول میں ذمہ دار میڈیا کا کام درجہ حرارت کم کرنا ہوتا ہے، بڑھانا نہیں۔ وہاں سنجیدگی درکار تھی، مگر اس کے بجائے سنسنی خیزی پیش کی گئی۔

اور سچ یہ ہے کہ یہ رویہ کوئی بالکل نیا نہیں۔ 2025 کے بھارت۔پاکستان بحران کے دوران بھی معتبر بین الاقوامی اداروں اور میڈیا اسٹڈیز نے نشاندہی کی تھی کہ بھارتی میڈیا کے متعدد حصوں میں غلط معلومات، غیر مصدقہ دعووں اور سنسنی خیز نشریات نے صحافتی معیار کو شدید نقصان پہنچایا۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ اس بحران کے دوران بھارتی نیوز رومز میں misinformation حاوی ہو گئی تھی، جبکہ رائٹرز اور الجزیرہ نے بھی بھارتی ٹی وی اور ڈیجیٹل اسپیس میں جھوٹی یا غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ کی نشاندہی کی۔ اس پس منظر میں حالیہ رویہ کسی اتفاق سے زیادہ ایک تسلسل محسوس ہوتا ہے۔
یہاں پاکستان کے لیے سبق بھی ہے اور موقع بھی۔ سبق یہ کہ سفارتی کامیابی صرف حاصل نہیں کی جاتی، اسے بیانیاتی سطح پر محفوظ بھی کرنا پڑتا ہے۔ اور موقع یہ کہ پاکستان اب اپنی خارجہ پالیسی کو محض ردِعمل کی سطح سے نکال کر ایک باوقار، فعال اور بااثر کردار میں ڈھال سکتا ہے۔ اگر ایک ملک بحران کے لمحے میں جنگ کو روکنے، مذاکرات کے لیے وقت نکالنے اور بڑے دارالحکومتوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو اسے محض علاقائی ریاست سمجھنا سیاسی کم نظری ہو گی۔
اس ساری صورتِ حال کا سب سے اہم پہلو شاید یہی ہے کہ پاکستان نے طاقت کے شور میں عقل کی آواز بننے کی کوشش کی۔ اس نے یہ دکھایا کہ سفارت کاری صرف پریس ریلیز کا نام نہیں؛ یہ اعتماد، وقت شناسی اور تحمل کا فن ہے۔ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ دنیا کے نقشے پر وہی ممالک دیرپا اثر چھوڑتے ہیں جو بحران میں ایندھن نہیں، پانی لے کر پہنچتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے بعض حلقے چاہیں تو اس پیش رفت کو طنز میں اڑا دیں، لفظوں کے چھوٹے کھیل کھیلیں، یا سوشل میڈیا کی لغزشوں کو اصل واقعے سے بڑا بنا کر پیش کریں؛ مگر تاریخ ٹیلی ویژن کے شور سے نہیں، نتائج سے لکھی جاتی ہے۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ جب خطہ آگ کے دہانے پر تھا، پاکستان نے آگے بڑھ کر سفارت کا چراغ جلایا۔
آخری بات بہت صاف ہے,قومیں صرف جنگیں جیت کر بڑی نہیں بنتیں، بعض اوقات وہ جنگ کو ٹال کر بھی بڑی ثابت ہوتی ہیں۔ اس بار پاکستان نے یہی کیا ہے۔ اور شاید اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جب بہت سے لوگ آگ کو ہوا دے رہے تھے، تب پاکستان ان گنے چنے ملکوں میں شامل تھا جو راکھ ہونے سے پہلے شعلوں کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی ریاستی بلوغت ہے، یہی سفارتی وقار ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے قوموں کی نئی پہچان شروع ہوتی ہے۔