
تحریر: جمیل صدیقی
ریاستی معاشروں میں انصاف کا نظام صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں بلکہ سچ تک رسائی، شفافیت اور عوامی اعتماد کی بحالی کا مکمل عمل ہوتا ہے۔ جب کسی قتل کیس کی تفتیش شکوک و شبہات کی زد میں آ جائے تو معاملہ محض ایک فرد کے قتل تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے نظام انصاف کی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے۔ رفاقت گجر قتل کیس بھی انہی حساس اور پیچیدہ معاملات میں شامل ہو چکا ہے جہاں حقائق، بیانات اور زمینی شواہد کے درمیان واضح تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقتول کے اپنے بھائی کا بطور ملزم سامنے آنا اور فوری اعترافِ جرم بظاہر کیس کو سادہ بنا دیتا ہے، مگر یہی سادگی درحقیقت کئی پیچیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اعترافِ جرم اگرچہ قانونی طور پر اہمیت رکھتا ہے، لیکن یہ بذاتِ خود حتمی ثبوت نہیں ہوتا، خصوصاً ایسے حالات میں جب دیگر شواہد اس کے برعکس اشارہ دے رہے ہوں یا مکمل تصویر واضح نہ ہو۔
ملزم کا یہ مؤقف کہ واقعہ ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے پیش آیا، بظاہر ایک جدید اور غیر روایتی جواز پیش کرتا ہے، مگر اس کے اندر کئی تضادات پوشیدہ ہیں۔ اگر اسے حادثہ تسلیم بھی کر لیا جائے تو ایک گولی کا چل جانا کسی حد تک ممکن ہو سکتا ہے، لیکن تین گولیاں لگنا حادثاتی عمل کی تعریف سے باہر نکل کر ایک ارادی فعل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ بیان حقیقت ہے یا کسی منظم کہانی کا حصہ؟
مزید برآں، اگر واقعہ واقعی ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران پیش آیا تو اس کا ڈیجیٹل ثبوت لازماً موجود ہونا چاہیے۔ جدید فرانزک ٹیکنالوجی کے دور میں ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا کی بازیابی کوئی ناممکن امر نہیں۔ اگر تفتیشی ادارے اس پہلو کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تو یہ نہ صرف غفلت بلکہ ممکنہ طور پر سچ کو دبانے کے مترادف بھی ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ موبائل ڈیٹا کی مکمل فرانزک جانچ کی گئی؟ اگر نہیں، تو کیوں؟
اسی طرح ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ایسے کسی بھی ویڈیو شوٹ کے دوران عموماً ایک سے زائد افراد موجود ہوتے ہیں۔ اگر واقعہ کے وقت دیگر افراد موقع پر موجود تھے تو ان کے بیانات کہاں ہیں؟ کیا انہیں شاملِ تفتیش کیا گیا؟ یا پھر تفتیش کو دانستہ طور پر محدود دائرے میں رکھا جا رہا ہے؟
آلہ قتل اور موبائل فون کی برآمدگی یقیناً تفتیش میں پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، مگر یہ پیش رفت اس وقت تک ادھوری ہے جب تک قتل کا محرک (motive) واضح نہ ہو۔ دنیا بھر کے فوجداری نظام میں محرک کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہی وہ عنصر ہے جو جرم کی نوعیت اور نیت کو واضح کرتا ہے۔ اس کیس میں سب سے بڑا خلا یہی دکھائی دیتا ہے کہ آخر قتل کی وجہ کیا تھی؟ خاندانی تنازع؟ حادثہ؟ یا کچھ اور؟
ملزم کا یہ بیان کہ اس نے وقوعہ کے فوراً بعد گھر والوں کو اطلاع دی، ایک اور حساس سوال کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ورثاء کا ردِعمل کیا تھا؟ کیا انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری اطلاع دی؟ یا معاملے کو دبانے، موڑنے یا وقت لینے کی کوشش کی گئی؟ اگر کسی بھی سطح پر شواہد چھپانے یا تاخیر کرنے کی کوشش ہوئی ہے تو یہ خود ایک سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ تفتیش کا دائرہ صرف ایک ملزم تک محدود رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔ ہر اُس فرد کو شاملِ تفتیش کرنا ناگزیر ہے جس کا کسی بھی مرحلے پر اس واقعہ سے تعلق بنتا ہو—چاہے وہ موقع پر موجود ہو، یا بعد از وقوعہ کسی معلومات کو چھپانے میں ملوث ہو۔
مزید برآں، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی قیاس آرائیاں اور غیر مصدقہ معلومات بھی ایک الگ چیلنج بن چکی ہیں۔ اگرچہ عوامی دباؤ بعض اوقات سچ کو سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، لیکن غیر ذمہ دارانہ تجزیے تفتیش کو متاثر بھی کر سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے بروقت اور شفاف معلومات فراہم کریں تاکہ افواہوں کا سدباب ہو اور اعتماد بحال رہے۔
اس کیس نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا ہمارا نظامِ تفتیش جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟ کیا ڈیجیٹل فرانزک، شواہد کے تحفظ اور آزادانہ تحقیقات جیسے اصولوں پر مکمل عملدرآمد ہو رہا ہے؟ یا ہم اب بھی روایتی اور محدود طریقۂ کار میں الجھے ہوئے ہیں؟
عوام کی نظریں اب اس کیس کے حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔ انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ اگر اس کیس میں بھی حقائق کو ادھورا چھوڑ دیا گیا یا جلد بازی میں نتیجہ اخذ کر لیا گیا تو یہ نہ صرف ایک مقتول کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ معاشرے کے اجتماعی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ متعلقہ ادارے ہر پہلو کو غیر جانبداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دیکھیں۔ کیونکہ سچ چھپایا جا سکتا ہے، دفن نہیں کیا جا سکتا—اور جب سچ سامنے آتا ہے تو وہ صرف ایک کیس نہیں بلکہ پورے نظام کا چہرہ بے نقاب کر دیتا ہے۔