آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر امریکا کو عالمی حمایت نہ مل سکی، اتحادی ممالک کا بحری جہاز بھیجنے سے گریز
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے عالمی تعاون کی اپیل کو تاحال خاطر خواہ حمایت نہیں مل سکی، جبکہ جاپان، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت کئی اہم اتحادی ممالک نے خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے گریز کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والے اہم بحری راستے کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ عملی تعاون کریں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد سپلائی عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اس اہم گزرگاہ کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ رواں ماہ کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ طے شدہ ملاقات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات اسی وقت فائدہ مند ہوگی جب وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کے راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کی حفاظت کے لیے بھی ذمہ داری اٹھائیں۔
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر نیٹو ممالک نے اس معاملے میں تعاون نہ کیا تو اتحاد کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب جاپان کی حکمران جماعت کے پالیسی چیف کا کہنا ہے کہ جاپانی بحری جہاز صرف اسی صورت میں آبنائے ہرمز بھیجے جا سکتے ہیں جب خطے میں صورتحال کسی بڑے مرحلے میں داخل ہو جائے۔
برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ امریکا اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے، تاہم برطانوی میڈیا کے مطابق لندن نے خطے میں جنگی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے اور وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کو اس حوالے سے آگاہ کر دیا ہے۔
ادھر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے چین سے بھی کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ بیجنگ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں تعمیری شراکت دار بن سکتا ہے۔
جنوبی کوریا نے بھی محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے امریکی اپیل کا نوٹس لے لیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کا قریب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ فرانس اس سے قبل ہی خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکا ہے۔