مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور پاکستان کی توانائی کی صورتحال
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں ایرانی جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ کے ساتھ مشترکہ فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں مغربی اور وسطی ایران میں دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ یہ کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک تمام اہداف حاصل نہ ہو جائیں۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کا ہدف اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات کے اجتماعات تھے۔
تہران اور دیگر شہروں میں دھوئیں کے بادل اور تباہ شدہ مقامات کی تصاویر بی بی سی ویریفائی نے تصدیق کی ہیں۔ ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق کارروائی میں کم از کم 787 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ چھ امریکی فوجی بھی مارے گئے اور پانچ شدید زخمی ہوئے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر جوابی حملے بھی کیے ہیں، جن میں خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ دبئی، ابوظہبی، بیت شیمش اور کویت میں ایرانی حملوں سے جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
خطے کی اس کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جبکہ عالمی سٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکرز رک گئے اور تجارتی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر ہو چکی ہیں۔ یہ گزرگاہ دنیا میں ترسیل ہونے والے خام تیل کا 20 فیصد حصہ سنبھالتی ہے، جس سے پاکستان سمیت کئی ممالک کی توانائی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
سعودی عرب کی آرامکو کمپنی کو ایک ڈرون حملے کے بعد اپنی سب سے بڑی ریفائنری عارضی طور پر بند کرنی پڑی، جبکہ قطر کے گیس ٹینکرز بھی رک گئے ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات زیادہ تر سعودی عرب اور قطر پر انحصار کر رہا ہے، اس لیے اگر کشیدگی طویل ہو اور آبنائے ہرمز کے راستے متاثر رہیں، تو پاکستان کے لیے ایندھن کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
توانائی کی بچت کے لیے پاکستان نے کچھ اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں سکولوں کو آن لائن منتقل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کی منظوری وزیر اعظم دیں گے۔