چاند پر کیا ہے ، تحقیقی ٹیم کل روانہ ہوگی
دی مائنڈ ڈاٹ پی کے
چاند پر انسانی مشن کی تیاریوں نے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چار خلابازوں پر مشتمل یہ تاریخی مشن یکم اپریل کو زمین سے روانہ ہوگا۔ اس مشن میں استعمال ہونے والا Orion spacecraft جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جسے مستقبل کے چاند اور مریخ مشنز کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
خلائی جہاز کے ساتھ منسلک European Service Module اس مشن کا کلیدی حصہ ہے، جو جہاز کو توانائی، آکسیجن، پانی اور پروپلشن فراہم کرتا ہے۔ یہی ماڈیول خلائی جہاز کو چاند کے قریب لے جا کر دوبارہ زمین تک بحفاظت واپس لانے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اورائن خلائی جہاز میں مجموعی طور پر 33 انجن نصب ہیں، جو تین مختلف اقسام پر مشتمل ہیں۔ ان میں ایک مرکزی (مین) انجن، 8 معاون (آگزلری) انجن اور 24 ری ایکشن کنٹرول سسٹم (RCS) انجن شامل ہیں۔
مرکزی انجن خلائی جہاز کی رفتار میں تیزی سے اضافہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، خاص طور پر اس مرحلے پر جب جہاز زمین کے مدار سے نکل کر چاند کی جانب سفر شروع کرے گا، جسے Trans-Lunar Injection کہا جاتا ہے۔ یہ انجن دراصل ماضی میں Space Shuttle Atlantis میں استعمال ہونے والا OMS-E انجن ہے، جسے جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو تیار کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ 8 معاون انجن مدار میں معمولی تبدیلیوں اور راستے کی درستگی کے لیے استعمال ہوں گے، جبکہ 24 RCS انجن خلائی جہاز کی سمت اور توازن کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ چھوٹے انجن جہاز کے گرد مختلف حصوں میں نصب ہیں اور انتہائی باریک کنٹرول فراہم کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مشن کے ابتدائی مرحلے میں زمین کے مدار میں RCS انجنوں کے ذریعے جہاز کی پوزیشننگ اور دیگر تکنیکی مشقیں کی جائیں گی، جس کے بعد مرکزی انجن کو فعال کر کے خلائی جہاز کو چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشن نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل میں انسان کی مستقل چاند پر موجودگی کی راہ بھی ہموار کرے گا۔