Global CEO Devsinc Usman Asif
ڈیوس انک کے سی ای اوعثمان آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس آئی ٹی اور اے آئی کے شعبے میں عالمی منڈی میں حصہ لینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے لیے ملک میں سنجیدہ اقدامات اور عزم درکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی آئی ٹی مارکیٹ 2026 تک چھ کھرب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، اور صرف مصنوعی ذہانت سالانہ عالمی کاروباری منافع میں 4.4 کھرب امریکی ڈالر کا اضافہ کرے گی، جس سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر سال 3 لاکھ آئی ٹی پیشہ ور افراد فارغ التحصیل کر رہا ہے اور ملک کے پاس ٹیلنٹ اور رفتار دونوں موجود ہیں، لیکن 2030 تک 15 ارب ڈالر برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے خواتین کی شمولیت بڑھانے، دیہی علاقوں میں تربیت اور ہنر مندی کے مواقع فراہم کرنے، اور فائبر آپٹک انفراسٹرکچر کو بڑھانے جیسے اقدامات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین ملک کی نصف آبادی ہونے کے باوجود آئی ٹی شعبے میں صرف 20 فیصد نمائندگی رکھتی ہیں، جو معاشی طور پر نقصان دہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان گزشتہ اٹھارہ ماہ سے مسلسل آئی ٹی برآمدات میں ترقی کر رہا ہے، اور مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں 2.24 ارب ڈالر کمائے جا چکے ہیں۔ ڈیوس انک نے انڈس اے آئی ویک میں اپنی خدمات کے اعتراف میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شازیہ خواجہ سے ایوارڈ بھی وصول کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، پی ایس ای بی، پاشا اور ایس آئی ایف سی کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے فارن کرنسی ریٹینشن پالیسی اور بین الاقوامی مواقع میں سہولت فراہم کی۔
ڈیوس انک کے سی ای او نے کہا کہ کمپنی کا مقصد ایک ایسا پاکستانی ٹیکنالوجی ادارہ بنانا ہے جو نہ صرف عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو بلکہ جدت، معیار اور اعتماد کے لیے پہچانا جائے۔ ان کے ساتھ اس موقع پر چیف بزنس آفیسر عطا الرحمان، ایس وی پی ای کامرس عمر فاروق رانا، ایس وی پی سیلز انجینئرنگ رحمت قادر اور ہیڈ آف گلوبل مارکیٹنگ معیز ایس وارند موجود تھے۔