روزانہ حضور پر درود و سلام پیش کریں
تحریر ۔۔۔ مقصود منتظر
دی مائنڈڈاٹ پی کے

خواجہ کاشف رفیق محض ایک معروف نام یا سنجیدہ صحافی ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسے انسان ہیں جو اپنے اردگرد خوشیاں، مسکراہٹیں اور مثبت توانائی بانٹتے ہیں۔ سر درد ہو یا آفس کی کوئی پریشانی۔۔ خواجہ صاحب کی ایک مسکراہٹ اور مزاح گویا “لافٹر پیناڈول” کا کام کرتی ہے۔
مالی مشکلات ہوں یا دیگر مسائل، ان کے پاس ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی سادہ مگر مؤثر حل ضرور موجود ہوتا ہے۔ جب وہ نیوز روم میں داخل ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قہقہوں کی محفل سج گئی ہو—گویا مزاح کا کوئی شو شروع ہو گیا ہو اور ماحول خوشگوار بن جائے۔
سینئر تجزیہ نگار اور 365 نیوز کے نمائندہ خصوصی کاشف صاحب کی شخصیت کے کئی دلکش پہلو ہیں، مگر جو بات دل کو چھو لیتی ہے وہ ان کا سادہ مگر بامعنی پیغام ہے
نماز ادا کرو، رسولِ رحمت ﷺ پر درود بھیجو اور لنگر بانٹو۔
یہ بات بظاہر عام سی لگتی ہے، مگر جس تسلسل اور خوبصورت انداز سے وہ اس پر عمل کرتے ہیں، وہ روح کو سکون بخشتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، جب ہم نے بھی اس پر عمل شروع کیا تو آفس کے ساتھیوں کے مالی اور دیگر معاملات میں بہتری محسوس ہونے لگی۔
اسی جذبے کے تحت ہم نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا
“روزانہ ایک نیکی”
یہ نیکی فرائض کے علاوہ ہوگی۔ یعنی نماز، تلاوت، صدقہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ روزانہ کوئی ایک ایسا کام ضرور کرنا ہے جس سے کسی انسان، جانور یا پرندے کو فائدہ پہنچے۔
یہ نیکی چاہے کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو
کسی کو مسکرا کر دیکھنا
راستے میں کسی کو لفٹ دینا
پرندوں کو دانہ ڈالنا
کسی ضرورت مند کی مدد کرنا
مگر شرط یہ ہے کہ دن کے اختتام پر خود سے سوال کیا جائے:
“آج میں نے کیا نیکی کی؟”
اور دل سے جواب آئے:
“لبیک! آج میں نے یہ کام کیا ہے۔”
اس عمل کو مستقل بنانے کے لیے ہفتہ وار یا ماہانہ بنیاد پر ایک فہرست تیار کی جائے، جس میں ہر دن کے سامنے نیکی کا اندراج کیا جائے۔ مہینے کے اختتام پر خود احتسابی (آڈٹ) کیا جائے تاکہ یہ عادت ہماری زندگی کا حصہ بن جائے۔
ایک اور خوبصورت پہلو یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی کے ساتھ نیکی کریں اور وہ آپ کا شکریہ ادا کرے، تو آپ بھی اس سے کہیں:
“شکریہ اپنی جگہ، مگر میری خواہش ہے کہ آپ بھی کسی اور کے ساتھ ایک نیکی کریں۔”
یوں نیکیوں کا ایک سلسلہ قائم ہوگا۔۔۔ ایک چین، جو معاشرے میں بھلائی اور محبت کو فروغ دے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
طالبِ دعا: مقصود منتظر