سرحدوں میں پھنسی قوم کا خوفناک المیہ،ایک اور دلخراش واقعہ
کھرمنگ، دی مائنڈڈاٹ پی کے
لداخ اور بلتستان کے درمیان سرحدی علاقے میں ہر سال ایک المناک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی نے نہ صرف زندہ لوگوں کو جدا کر رکھا ہے بلکہ مرنے والوں کو بھی اپنے وطن کی مٹی نصیب نہیں ہو پاتی۔
70 برس سے زائد عرصے سے لداخ اور بلتستان کے درمیان بٹی ہوئی فیملیز ایک دوسرے سے ملنے سے محروم ہیں۔ افسوسناک طور پر حادثات کے باعث دریا میں بہہ کر سرحد پار چلے جانے والے افراد کی لاشیں اکثر واپس نہیں لائی جاتیں اور انہیں دوسرے علاقے میں ہی دفن کرنا پڑتا ہے۔
گزشتہ سال بھی متعدد لاشوں کو مجبوری کے تحت ضلع کھرمنگ (بلتستان) میں سپرد خاک کیا گیا، جبکہ گزشتہ روز گنگنی کے مقام سے ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی، جو اس جاری انسانی بحران کی ایک اور دلخراش مثال ہے۔
اس صورتحال پر دونوں ممالک کی حکومتوں سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہےکہ وہ اس مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر حل کریں۔
تجویز دی گئی ہے کہ ہنڈرمن جیسے مقام پر ایک باقاعدہ تبادلہ پوائنٹ قائم کیا جائے تاکہ سرحد پار جانے والی لاشوں کو باعزت طریقے سے ان کے اہلِ خانہ تک پہنچایا جا سکے۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ مرنے والوں کو عزت دی جائے اور نفرت پر انسانیت کو فوقیت حاصل ہو۔