نوشہرہ ، گاوں کی گلیاں صدیاں پرانے زمانے کو واپس لوٹ آئیں
تحصیل نوشہرہ کے گاوں چٹہ میں نکاسی آب نے باسیوں کا جینا دو بھر کر دیا، مہینوں سے مرکزی گلیوں میں کھڑا پانی نہ صرف تعفن اور بیماریوں پھیلا رہا ہے بلکہ مریضوں کی ہسپتال تک منتقلی جیسے مسائل کا باعث بھی بن رہا۔ تحصیل انتظامیہ کے افسران چکر لگا کر حاضری ڈال کے بری الذمہ ہو گئے اور موقف اپنایا کے اس مسئلے کو گاوں کے افراد خود مل جل کر حل کر لیں۔
تفصیلات کے مطابق، گاوں چٹہ کی گلیوں میں بارشوں اور گھروں کے استعمال کے پانی کی نکاسی کا کوئی نظام نہیں جہاں سے پانی قانونی طور پر کچھ گھروں کے پاس سے گزرتا تھا وہاں سے گنے چنے مکینوں نے تعمیرات کر کے پانی کی نکاسی روک دی ہے جس کے بعد پانی گلیوں میں مہینوں سے کھڑا ہے۔ صورتحال اب اس قدر ابتر ہوگئ ہے کہ مرکزی گلیوں سے نمازیوں ، خواتین و بچوں اور ضعیف افراد کا گزر اور مریضوں کو گاڑیوں کے ذریعے لے جانا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔ تعفن سے ایک طرف بیماریاں جنم لے رہی ہیں تو دوسری طرف اس گاوں کی خوبصورتی بھی ماند پڑ گئ ہے۔
تحصیل انتظامیہ کے افسران پانی کی نکاسی کے قانونی متعین راستے کو فعال کرانے میں ناکام رہے ہیں اور با اثر افراد کے شوروغوغا سے گھبرا کر کسی فیصلے پر پہنچے بغیر مسئلے کو جوں کا توں چھوڑ کر آنکھیں میٹ لی ہیں ۔
گاوں کے باسیوں نے تحصیل انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ پانی کی نکاسی کے لیے اقدامات اٹھاے جائیں اور اس راہ میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاے۔