تہران میں صورتحال سنگین، مظاہروں سے شہر مفلوج
تہران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں اور دارالحکومت عملی طور پر مفلوج دکھائی دے رہا ہے۔ مقامی صحافی کے مطابق مظاہروں کے آغاز کے بعد گوشت کی
قیمتیں تقریباً دگنی ہو چکی ہیں، جبکہ بیشتر دکانیں بند پڑی ہیں۔ جو دکانیں کھلتی بھی ہیں وہ سکیورٹی فورسز کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے باعث شام چار یا پانچ بجے بند کر دی جاتی ہیں، جس سے شہریوں کو اشیائے ضروریہ کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اتوار کے روز سوشل میڈیا پر مظاہروں سے متعلق ویڈیوز نسبتاً کم نظر آئیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کی وجہ انٹرنیٹ کی جزوی یا مکمل بندش ہے یا حالات کی سخت نگرانی۔ اس کے باوجود ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں تہران کے پونک علاقے میں مظاہرین کو معزول بادشاہت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے، جو موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
یہ مظاہرے 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کر چکے ہیں، خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد، جس کی امریکا نے حمایت کی تھی۔ مبصرین کے مطابق اس تنازع نے پہلے سے دباؤ کا شکار ایرانی نظام کو مزید کمزور کیا ہے۔
دوسری جانب جلاوطن ایرانی ولی عہد رضا پہلوی بھی ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ رضا پہلوی تقریباً 50 برس سے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ ان کے والد، ایران کے سابق شاہ، 1979 میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں اقتدار سے
محروم ہو گئے تھے، تاہم اب ان کے جلا وطن فرزند خود کو ایران کے مستقبل کا ایک اہم سیاسی کردار ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرین کی جانب سے رضا پہلوی کے حق میں نعرے لگائے جا رہے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نعرے لازمی طور پر بادشاہت کی بھرپور حمایت کی علامت نہیں بلکہ موجودہ نظام میں قیادت کی شدید کمی اور عوامی بے بسی کے اظہار کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا رضا پہلوی واقعی ایران کے اندر وسیع مقبولیت حاصل کر رہے ہیں یا نہیں۔
رضا پہلوی نے رواں ہفتے ایرانی عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی تھی، جسے بیرونِ ملک فارسی زبان کے سیٹلائٹ نیوز چینلز اور ویب سائٹس نے نمایاں طور پر نشر کیا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تہران میں ہونے والے حالیہ مظاہروں پر اس اپیل کا اثر بھی پڑا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ جون 2025 میں امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے تنازع کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے ایک اسرائیلی منصوبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ کوئی ’اچھا خیال نہیں‘۔ اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ایران کے رہنماؤں نے گزشتہ روز فون کیا اور ایک ممکنہ ملاقات طے کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ملاقات سے پہلے ہی امریکا کو کوئی کارروائی کرنا پڑے۔
ایران میں 2022 کے بعد سے جاری یہ سب سے بڑے مظاہرے سمجھے جا رہے ہیں، جن کے تناظر میں ٹرمپ متعدد بار یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تو امریکا مداخلت کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف ایران کے اندرونی استحکام بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی ایک نازک موڑ اختیار کر چکی ہے۔