سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر
مظفرآباد
جموں و کشمیر کے 1989ء کے مہاجرین کے لیے مختص 6 فیصد کوٹہ کی بحالی سے متعلق ایک اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر نے مہاجرین کی جانب سے دائر کی گئی آٹھ اپیلوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
یہ اپیلیں معروف وکلاء عبدالرشید عباسی ایڈووکیٹ، نوراللہ قریشی ایڈووکیٹ، سردار ریشم خان ایڈووکیٹ، عظمی شیریں ایڈووکیٹ اور محمود اختر قریشی ایڈووکیٹ کی جانب سے پیش کی گئیں، جنہوں نے عدالت میں مہاجرین کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔
اس موقع پر مہاجرین نمائندہ فورم 1989ء کے ذمہ داران غلام حسن بٹ، عامر عباسی، قاضی عمران، سید حمزہ شاہین، صدیق داود، محمد شبیر کشمیری، منیر عباسی اور دیگر افراد عدالت میں موجود رہے۔
اپیل کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ آزاد کشمیر کے ایک فیصلے کے تحت 1989ء کے مہاجرین کا 6 فیصد کوٹہ ختم کر دیا گیا تھا، جس سے ان کے بنیادی اور آئینی حقوق بری طرح متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہاجرین نہ تو باقاعدہ طور پر سیٹل ہیں اور نہ ہی قانون ساز اسمبلی میں ان کی نمائندگی موجود ہے، جس کے باعث انہیں تعلیم، روزگار اور دیگر آئینی سہولیات تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے تمام آٹھ اپیلوں کو یکجا کرتے ہوئے ان پر حتمی دلائل سننے کا فیصلہ کیا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ مہاجرین 1989ء کے مستقبل اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
متاثرہ مہاجرین اور ان کے نمائندوں نے اس پیش رفت کو ایک امید افزا قدم قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ عدالت ان کے دیرینہ مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کرے گی۔